نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک وزیرخارجہ کی پی ٹی وی سے گفتگو
  • بریکنگ :- افغانستان سے انخلاکےعمل میں پاکستان نےبہت مدد کی،ترک وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستان کا خطے میں بڑا اہم کردارہے،ترک وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- افغانستان میں امن خطےکےاستحکام کے لیے ضروری ہے،ترک وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- مسئلہ کشمیرپرپاکستان کے موقف کی بھرپورتائید کرتےہیں،ترک وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پرویز مشرف کا آخری کارنامہ

سندھ کی تقسیم اور مہاجر صوبے کی بلی پہلی بارتھیلے سے نکلی۔ یہ بلی پہلے بھی کئی بارتھیلے سے نکلی ہے مگر اسے فوراً ہی دوبارہ تھیلے میں ڈال لیا جاتا تھا،مگر اب معاملہ تھوڑا مختلف ہو گیا ہے اور بلی تھیلے سے نکل کر باقاعدہ ادھر ادھر گھومنے پھرنے لگ گئی ہے۔ پہلے اسے دوبارہ تھیلے میں چھپا کر کبھی خرگوش بنا دیا جاتا تھا اور کبھی چوہا،مگر اس بار اسے خرگوش یا چوہا بنانے کے بجائے بطور بلی ہی اس کے مختلف نام رکھے جا رہے ہیں، مثلاً بلی ون اور بلی ٹو یا بلی الف اور بلی بے۔پھول کو جس نام سے پکاریں وہ پھول ہی رہتا ہے اور یہی حال بلی کا ہے۔
کئی برس گزرتے ہیں، تب جاوید ہاشمی مسلم لیگ ن میں تھا۔ ایم کیو ایم کی قیادت ملتان میں جلسے کے سلسلے میں آئی ہوئی تھی۔ ان لوگوں کے اعزاز میں جاوید ہاشمی نے ناشتے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر فاروق ستار ‘حیدر عباس رضوی ‘عبدالرئوف صدیقی کے علاوہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ایک دو وزراء اور ایک دو ایم این اے وغیرہ اس ناشتے میں شریک تھے۔دوران تقریر ایک مقرر کہنے لگا کہ ملتان میں کئی لسانی اور نسلی گروہ اسی پیارو محبت اور امن و سکون سے آباد ہیں جس طرح وہ کراچی میں آباد ہیں۔سرزمین ملتان بھی کراچی جیسی ہے اور کراچی پر گئی ہے ، اس طرح ملتان کو چھوٹا کراچی کہا جا سکتا ہے کہ ملتان میں کراچی کے خدوخال نظر آتے ہیں۔اس ایک جملے میں باقاعدہ دو جھوٹ پوشیدہ تھے ، لیکن دوران تقریر مداخلت مناسب نہ تھی، میں خاموش رہا۔ جب تقریر ختم ہوئی تو میں نے کہا کہ جہاں تک معاملہ کراچی میں رہنے والے مختلف نسلی اور لسانی گروہوں میں پیارو محبت اور امن و سکون سے رہنے کا ہے تو اس بارے میں اس عاجز کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ روزانہ کے اخبارات اس محبت اور امن و سکون کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتے رہتے ہیں، مجھے تو اس بات پر اعتراض ہے کہ ملتان کراچی جیسا ہے اور سرزمین ملتان میں کراچی کے خدوخال نظر آتے ہیں۔
میں نے کہا جناب!آپ زبان پر دسترس اور آبادی کے زور پر 
پانچ ہزار سالہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں ۔یہ بات بجا کہ
آج کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ آباد ی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، لیکن اس کے باوجود ملتان کا موازنہ کراچی سے نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں البتہ کراچی کا موازنہ ملتان سے کیا جا سکتا ہے۔ نئی تہذیب کا موازنہ پرانی تہذیب سے کیا جا تا ہے نہ کہ پرانی تہذیب کا نئی تہذیب سے۔ ملتان پانچ ہزار سال سے آباد شہر ہے ، کراچی اٹھارہویں صدی کے آغاز میں کہیں نظر پڑا ہے۔ جب ملتان کابل تک پھیلا ہوا ایک نہایت اہم اور متمول صوبہ تھا تب کراچی کہیں عدم میں تھا۔ جب ملتان ایک خود مختار ریاست تھا تب کراچی شاید''کولاچی جوگوٹھ‘‘ نام کی مچھیروں کی چھوٹی سی بستی تھی۔ ملتان دنیا کے آباد شہروں میں چند قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شہر کی صدیوں نہیں ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے‘ تہذیب و تمدن ہے‘ روایات ہیں جو ابھی تک قائم ہیں اور نظر آتی ہیں۔گستاخی معاف، ملتان کا کراچی سے کیا اور کیسا موازنہ ؟ہاں آپ کراچی کا ملتان سے اگر موازنہ کرنا چاہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ آپ کے پاس محض آبادی ہے اور بمشکل تین سو سال، اِدھر روایات اور تہذیب و تمدن سے جگماتے پانچ ہزار سال۔ جب کراچی صوبہ بمبئی میں کسی شمارو قطار سے محروم ایک بستی تھا تب ملتان بذاتِ خود ایک صوبہ تھا اور صوبہ بھی کیا عالی شان ۔۔۔ دہلی کے ادھر سے لے کر افغانستان کی سرحدوں تک ،گجرات سے لے کر زیریں سندھ تک ۔۔۔کبھی صوبہ اور کبھی خودمختار ریاست۔آپ ایک کروڑ سے زائد آبادی کے زور پر تاریخ کے دھارے کو الٹا چلانے کی کوشش نہ کریں، ملتان کراچی جیسا نہیں؛بلکہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کراچی ملتان جیسا ہے۔ ویسے تو یہ جملہ بھی کسی طور درست نہ ہو گا مگر کم از کم تاریخی حوالے سے کسی حد تک درست ہو جائے گا۔
اگلے مقرر جناب ڈاکٹر فاروق ستار تھے۔ کافی باتیں کیں‘ نئے نئے انکشافات اور دعوے کیے، صوبہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے بڑی پر مغز گفتگو کی، صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے لیے دھواں دھار دلائل دیے اور فرمایا کہ نیا صوبہ نہ صرف بننا چاہیے بلکہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ''مالی اور مالیاتی‘‘خود مختاری ملنی چاہیے۔ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر کا سارا زور انہی دو نکات پر تھا کہ صوبہ جنوبی پنجاب بننا چاہیے اور اس صوبے کو مالی اور مالیاتی خود مختاری حاصل ہونی چاہیے۔ مجلس میں بیٹھے ہوئے حاضرین اس زوردار تقریر پر زیر لب مسکرا رہے تھے کہ آخر فاروق ستار کے دل میں اچانک صوبہ جنوبی پنجاب کی محبت کیوں آدھمکی ہے بلکہ پوری ایم کیو ایم کی ملتان میں آئی ہوئی قیادت کے دل میں صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا معاملہ کیوں پھدک رہا ہے؟ میرے دائیں ہاتھ بیٹھے ہوئے ایک صحافی دوست سے نہ رہا گیا ، میرے کان میں کہنے لگا ،بھائی جان!آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آخر ایم کیو ایم کی قیادت مسلسل جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی بات کیوں کررہی ہے؟میں نے کہا ، مجھے نہ صرف اندازہ ہے بلکہ پوری بات بھی سمجھ رہا ہوں ، مگر آپ پھر بھی وضاحت کر دیں تو میں آپ کا شکرگزار ہوں گا۔
میرا وہ صحافی دوست کہنے لگا، علیحدہ مہاجر صوبے کا معاملہ‘جناح پور کا شوشہ اور سندھ کی تقسیم ۔ یہ سب معاملے اٹھے بھی اور دب بھی گئے۔ دب جانے کی وجہ سندھ کی تقسیم پر اہل سندھ کا شدید ردعمل تھا اور لسانی بنیاد پر نئے صوبے کے معاملے پر سوائے ایم کیو ایم کے پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کا موقف۔ لہٰذا ایم کیو ایم اپنی شدید خواہش کے باوجود اپنے اس مطالبے پر کبھی کھل کر اور ڈٹ کر نہیں بول پائی ، ہمیشہ اپنے بیان واپس لینے پڑے یا ان کی تاویلات اور توجیہات دینی پڑیں ، ہر بار واپس پلٹنا پڑا۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ ابتدا کہیں اور سے ہو۔ چار صوبوں والے وفاق میں پانچواں صوبہ کہیں اور بنے خصوصاً زبان کی بنیاد پر، مثلاً سرائیکی زبان کی بنیاد پر، ہند کو زبان کی بنیاد پر۔ جنوبی پنجاب کیونکہ ایک صوبے کے لیے مکمل اور فٹ(Fit)کیس ہے ، لہٰذا پہلے اسے لڑا جائے اور کامیاب کروایا جائے۔ پہلی اینٹ کا نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ وفاق میں پانچواں صوبہ بننا ذرا ٹیڑھا کام ہے ، جونہی یہ ٹیڑھا کام ہو گیا، باقی منزلیں آسان ہو جائیں گی۔ ایم کیو ایم اِدھر ملتان میں صوبہ جنوبی پنجاب کا نہیں بلکہ مستقبل میں اپنے صوبے کا کیس لڑ رہی ہے۔ صوبہ جنوبی پنجاب کی آڑ میں مہاجر صوبے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہیے مگر یہ لوگ ہمارا کیس خراب کر رہے ہیں۔
میں نے اپنے دوست کی ساری گفتگو سن کر اس کے کان میں کہا ، بھائی جان!آپ یہ مالی اور مالیاتی خود مختاری کی بات سمجھے ہیں؟وہ دوست کہنے لگا کہ بڑی آسان اور سیدھی بات ہے کہ جنوبی پنجاب کے وسائل جنوبی پنجاب کے استعمال میں آنے چاہئیں۔میں نے کہا، برادرم! بات اتنی سادہ اور آسان نہیں ، یہ وہ اصل بات ہے جو بالآخر صوبہ کراچی (یا اس کا کوئی بھی نام رکھ لیں)کے کام آئے گی۔اس مالی اور مالیاتی خود مختاری کا اصل فائدہ صرف اور صرف اربن سندھ کو صوبہ بن جانے پر ہو گا۔ پاکستان کی معیشت کی محاصل کا ‘ درآمدو برآمد کا نصف سے زائد صرف کراچی سے متعلق ہے۔ صنعت و تجارت کا بھی یہی حال ہے ، یہی چیزیں آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ اگر کراچی صوبہ بن جاتا ہے اور اسے مالی اور مالیاتی خود مختاری مل جاتی ہے تو کراچی پاکستان کا امیر ترین اور رُورل سندھ غریب ترین صوبہ ہو گا۔ یہ مالی اور مالیاتی خودمختاری جنوبی پنجاب کے لیے نہیں مستقبل کے مہاجر صوبے کے لیے مانگی جا رہی ہے۔ اس خود مختاری کے اصل فائدہ اٹھانے والے یعنی (Beneficiary)صوبہ کراچی والے ہوںگے اور یہ اسی کی پیش بندی کی جا رہی ہے۔
کچھ عرصہ قبل میں کراچی گیا تو وہاں دیواروں پر مہاجر صوبے کی چاکنگ ہوئی دیکھی۔ بظاہر اس پر کسی سیاسی پارٹی کا نام نہیں تھا اور نہ ہی کوئی غیر سیاسی تنظیم اس کی وارث بنی تھی ؛ تاہم ایک دوست کہنے لگا، یہاں ہمارے کراچی میں دیواروں پر اتنی بڑی تعداد میں چاکنگ تب تک نہیں ہو سکتی جب تک ''بھائی‘‘ کی اجازت یا حکم نہ ہو۔ بھلا کون ہے جو ایم کیو ایم کی اجازت اورمرضی کے بغیر کراچی کی دیواریں کالی کر سکے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس چاکنگ کے پیچھے وہی ہیں جن کی مرضی کے بغیرکراچی میں پتا بھی نہیں ہلتا۔الطاف حسین کی تازہ ترین تقریر سے اور پھر اس تقریر کی وضاحت میں ایک دوسری تقریر سے معاملہ صاف ہو گیا ہے۔
اہل ملتان بڑے بھولے ہیں۔ ایک لیڈر نے کہا ہے کہ الطاف حسین اپنا بیان واپس لیں۔ مسئلہ بیان کا نہیں خواہش کا ہے‘ ارادے کا ہے اور نیت کا ہے۔ بھلا الفاظ اور بیان واپس لینے سے نیت کیسے بدل سکتی ہے اور خواہش کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ کل ایک دوست ملا تو کہنے لگا کہ الطاف بھائی کو چاہیے کہ وہ ایم کیو ایم کا ترجمہ دوبارہ درست کریں اور اسے جس طرح انہوں نے مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کیا تھا اب دوبارہ مہاجر قومی موومنٹ کر لیں کہ ان کی سیاست مشکل پڑنے پر ہمیشہ مہاجر ہو جاتی ہے اور وہ صرف اردو بولنے والوں کے نمائندے بن جاتے ہیں؛حا لانکہ یہ بھی حقیقت نہیں۔ اردو بولنے والوں کی اکثریت قومی دھارے میں شامل ہے ، میم سے ''مہاجر‘‘ نہیں ''متحدہ ‘‘ ہے ۔ مگر جمہوریت کی دعویدار جماعت جب خم ٹھونک کر ایک آمر کے لیے تن من دھن سے لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتی ہے تو عقل میں سوائے اس کے اور کوئی دلیل نہیں آتی کہ اس آمر کی محض ایک Qualificationہے اور یہ اردو سپیکنگ ہونا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے جہاں اور بہت سے کارنامے ہیں ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے جاتے جاتے ایم کیو ایم کا مفہوم پھر تبدیل کر دیا ہے۔
نوٹ:اس موضوع پر ایڈیٹرانچیف روزنامہ '' دنیا‘‘ میاں عامر محمود کا کالم کل ملاحظہ فرمائیے۔(ادارہ)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں