نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- برطانوی وزیراعظم کاکرکٹ ٹیم کادورہ پاکستان منسوخ ہونےپراظہارناراضگی
  • بریکنگ :- انگلینڈکرکٹ بورڈکےفیصلےسےپاک برطانیہ تعلقات متاثرہوئے،بورس جانسن
  • بریکنگ :- پاکستان میں ہائی کمشنرنےسیریزمنسوخی بورڈکاانفرادی فیصلہ قراردیاتھا،برطانوی اخبار
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پشاور… جہاں میں بار بار جانا چاہتا ہوں

سفر زندگی کا لازمہ بن چکا ہے مگر یہ محض اتفاق تھا کہ گزشتہ کئی سال سے پشاور نہیں جا سکا تھا۔پرسوں پشاور گیا تو شہر دیکھ کر‘شہر میں ہونے والی تبدیلیاں دیکھ کر پتہ چلا کہ میں واقعتاً کئی برس کے بعد پشاور آیا ہوں اور اس دوران شہر بڑا تبدیل ہو چکا ہے۔میرا بیٹا بھی میرے ہمراہ تھا۔اسلام آباد سے پشاور کے لیے روانہ ہوئے تو اسے پشاور کے بارے میں کچھ خاص اندازہ نہ تھا۔وہ پہلے کبھی اپنے ہوش میں پشاور نہیں گیا تھا۔پہلی اور آخری بار وہ جب پشار گیا تھا تو ڈیڑھ دو سال کا تھا‘ اب اس بات کو بارہ برس گزر چکے تھے۔ میں ان بارہ برسوں کے دوران دو تین مرتبہ پشاور آیا مگر گزشتہ چار پانچ سال سے ادھر بالکل ہی نہ آ سکا۔
ایک زمانہ تھا کہ پشاور آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جی ٹی ایس پشاور کی بسیں چلتی تھیں ۔ملتان سے پشاور براستہ ڈیرہ اسمٰعیل خان گورنمنٹ کی بسیں چلتی تھیں ۔سروس عمدہ‘ بسیں نسبتاً بہتر اور کرایہ نصف۔نصف کرائے سے مراد طلبا والا رعایتی کرایہ تھا۔پھر زمانہ طالب علمی گزر گیا اور جی ٹی ایس کے بجائے فلائنگ کوچز پر سفر شروع ہو گیا۔جی ٹی ایس کا اڈا جی ٹی روڈ پر واقع تھا۔وہیں اترتے اور وہاں سے پیدل غلہ منڈی کے سامنے سے گزرتے ہوئے فقیرآباد چلے جاتے جہاں افغان مہاجر فٹ پاتھ پر روسی سامان بیچا کرتے تھے۔ہر چکر میں ایک سبز جیکٹ خریدنا تو گویا معمول تھا۔ ڈیڑھ دو سو روپے میں انتہائی گرم فوجی جیکٹ‘چھ سات سو روپے میں عمدہ قسم کی افسروں والی جیکٹ اور بارہ پندرہ سو روپے میں امریکی پارکا۔تب مالی حالات ایسے نہ تھے کہ ہر چار پانچ ماہ بعد امریکی جیکٹ خریدی جا سکتی جیسی گنجائش ہوتی ویسی جیکٹ خرید لی جاتی۔کیمپنگ کے لیے بے تحاشا سامان دستیاب تھا۔فوجیوں کے فولڈنگ بسترے‘بریف کیس ٹائپ ایلومینیم کے بکس میں چھوٹے چھوٹے ایل پی جی کے چولہے‘ ہوا والے گدے‘ بارش اور برفباری میں اوپر ڈالنے والا ''پانچو‘‘ سلیپنگ بیگز اور اسی قسم کی بے شمار چیزیں۔جس چیز کی جیب اجازت دیتی خرید لی جاتی۔ گھر کا سٹور ان چیزوں سے لدا ہوتا تھا۔ اب کئی بار سٹور کی صفائی کے دوران متروک اشیا نکال پھینکیں۔ کچھ اگلی نسل کے سیرو سیاحت کے شوقین بچوں کو دیدیں مگر اب بھی چار چھ چیزیں سٹور میں پڑی ہیں اور تب کی یاد تازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔
سبز جیکٹوں کا تو گویا خبط(Craze)تھا۔ سات آٹھ مختلف قسم کی‘مختلف میٹریل کی اور موسم کی شدت کے حساب سے مختلف جیکٹس۔ وارڈ روب کا غالب حصہ ان جیکٹوں نے گھیراہوا تھا۔شادی سے پہلے میری بیگم نے سردیوں میں مجھے جب بھی دیکھا‘ سبز جیکٹ میں دیکھا۔نیک بخت نے کبھی یہ غور ہی نہ کیا کہ ڈیزائن وغیرہ میں کوئی فرق ہے۔اس نے تو بس رنگ دیکھا۔ویسے بھی خواتین خود اپنے کپڑوں کے بارے میں سب سے زیادہ رنگ کے متعلق فکر مند رہتی ہیں‘ سو اس کی نظر میں میرے پاس ایک ہی جیکٹ تھی جس کا رنگ سبز تھا اور میں ساری سردیاں وہی ایک جیکٹ پہنتا تھا۔میری اہلیہ کا بڑا بھائی احسان الرحمان میرا دوست تھا لہٰذا کبھی کبھار گھر جانا بھی ہو جاتا مگر اس نیک بخت کو مجھ پر بڑا ترس آتا تھا کہ اس کے پاس چار ماہ کی سردیاں گزارنے کے لیے فقط ایک سبز جیکٹ ہے۔تب یہ عالم تھا کہ ایک سبز جیکٹ بدن پر ہوتی۔ دو تین ڈرائی کلین والے کے پاس اور تین چار الماری میں ہوتیں۔مجھے کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ ان سبز جیکٹوں کے علاوہ بھی سردیوں میں کوئی گرم چیز اوڑھی جا سکتی ہے۔شادی کے اگلے روز میری اہلیہ نے میری الماری کھولی تو تقریباً آدھی الماری سبز جیکٹوں سے بھری پڑی تھی۔میری بیگم نے میری طرف حیرانی سے دیکھا اور ہنستے ہوئے صرف ایک جملہ کہا۔''بڑے افسوس کی بات ہے‘‘۔اگلے ایک ماہ میں اس نے ایک کے علاوہ ساری جیکٹس مستحقین میں تقسیم کر دیں۔میں ایک جیکٹ بھی اس طرح بچانے میں کامیاب ہوا کہ میں نے دلائل سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ میرا شمار بھی ان مستحقین میں ہوتا ہے جنہیں جیکٹ بخشی جا سکتی ہے۔کئی سال بعد ہم پشاور گئے تو وہاں ایک سبز جیکٹ دیکھ کر میری اہلیہ رک گئی۔مسکرا کر مجھے دیکھا اور دکاندار سے یہ جیکٹ کو دکھانے کا کہا۔ دکاندار نے جیکٹ اتاری۔ میری اہلیہ نے وہ جیکٹ مجھے پہنا کر دیکھی اور کہا کہ اچھی لگتی ہے۔پھر نرخ پوچھے دکاندار نے پانچ ہزار روپے بتائے۔میں نے کہا کہ یہ بہت زیادہ ہیں دکاندار نے چار ہزار بتائے ۔مجھے کہنے لگی بس لے لیں۔میں نے کہا یہ مہنگی لگا رہا ہے۔کہنے لگی آپ کو کیا۔آپ یہ چار ہزار میرے جیب خرچ سے کاٹ لیجئے گا۔میری الماری میں ایک سبز جیکٹ آج بھی لٹکی ہوئی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اب میں زندگی میں کبھی سبز جیکٹ خرید پائوں گا۔
پشاور تب روسی فوجیوں کی فروخت کردہ اور ان سے چھینی گئی چیزوں کے علاوہ افغان مجاہدین کو دی جانے والی امریکی امدادی اشیاء سے بھرا ہوتا تھا ۔جی ٹی روڈ کے کنارے چیزیں فروخت ہوتی تھیں۔ساتھ ہی ایک علاقہ تھا فقیر آباد نمبر ایک‘نمبر دو اور اسی طرح ۔اب پشاور بڑا پھیل گیا ہے۔حیات آباد بعد میں بننا شروع ہوا۔حیات آباد کی مارکیٹیں المعروف کارخانو مارکیٹ بعد کی پیداوار ہیں۔تب کپڑے اور الیکٹرانک کا سامان خریدنے کے لیے باڑہ جانا پڑتا تھا۔باڑہ کی جامع مسجد میں نماز کے وقت کھڑے ہونے کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی۔ ہر دوسرے مقامی نے کندھے پر بندوق لٹکائی ہوتی تھی جسے نماز کے دوران سامنے حصے پر رکھ دیا جاتا تھا۔نماز سے پہلے یا نماز کے دوران کسی دھماکے کا خوف نہیں ہوتا تھا۔اغوا برائے تاوان کا خطرہ نہیں تھا۔ایسے واقعات کبھی کبھار ہوتے تھے اور اس کی وجہ بھی کوئی نہ کوئی کاروباری جھگڑا ہوتا تھا۔نادہندہ پارٹی کو ادائیگی ہونے تک اغوا کنندگان اپنی تحویل میں رکھتے تھے اور معاملات طے ہو جانے پر ''باعزت‘‘ رہائی نصیب ہو جاتی تھی۔بطور پیشہ یہ کام نہ تو عام ہوا تھا اور نہ ہی اچھا سمجھا جاتا تھا۔علاقہ غیر یعنی قبائلی علاقہ میں ''ملک‘‘حضرات کی چلتی تھی۔پولیٹیکل ایجنٹ کا خوف ہوتا تھا اور کم از کم سڑک کے اوپر گورنمنٹ کی رٹ چلتی تھی۔اب کہیں گورنمنٹ کی رٹ نہیں ہے۔بہت سے ''ملک‘‘مارے جا چکے ہیں۔پولیٹکل ایجنٹ خود غیر محفوظ ہیں اور گھر سے مسجد تک کچھ محفوظ نہیں ہے۔
میرا بیٹا میرے ہمراہ تھا ۔موٹر وے سے اتر کر جی ٹی وڈ پر آئے اور شہر کی طرف چل پڑے۔ فرنٹیئر کور کا ہیڈ کوارٹر قلعہ بالاحصار ہمارے بائیں طرف تھا۔رات کا وقت تھا اور نیچے جلنے والی روشنیاں اس قلعے کی دیواروں کو روشن کیے ہوئے تھیں۔لفظ بالاحصار ''دری فارسی‘‘ زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے بلند قلعہ۔یہ قلعہ کب بنا؟۔تاریخ واضح طور پر کچھ بتانے سے قاصر ہے مگر بقول ڈاکٹر اے ایچ دانی چینی سیاح ہیون سنگ جب پشاور آیا تو یہ قلعہ بطور شاہی رہائش گاہ موجود تھا۔ہیون سنگ 630ء میں پشاور آیا تھا۔یہ قلعہ بعدازاں افغان حکمران تیمور شاہ کی سرمائی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔سکھوں کے دور حکومت میں اس کا نام بالاحصار سے تبدیل کر کے سمیر گڑھ کرنے کی کوشش کی گئی مگر نام قبولیت حاصل نہ کر سکا۔انگریزی دور میں یہ انگریز گیریژن کے استعمال میں بھی رہا۔ 1949ء سے یہ قلعہ فرنٹیئر کور کا ہیڈ کوارٹر ہے۔یہ بڑا خوبصورت اور دبدبے والا قلعہ ہے۔میرا بیٹا باہر سے دیکھ کر بڑا متاثر ہوا اور کہنے لگا کہ کیا وہ اسے اندر سے دیکھ سکتا ہے؟۔میں نے کہا ممکن ہے وہ کبھی اسے اندر سے دیکھ لے۔خیبر پختونخوا کی تحریک انصاف کی حکومت
نے اسے ٹورسٹ پوائنٹ بنانے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں اسے فرنٹیئر کور سے خالی کروانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ 13 جنوری 2014ء میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے ایک قرار داد بھی پاس کی ہے جس میں اس قلعے کو سیاحتی مقام بنانے کا اعادہ کیا ہے۔
میں نے چلتے چلتے اپنے ہمراہ بیٹھے ہوئے عتیق سے پوچھا کہ نئی حکومت کا کیا حال ہے؟عتیق کو ہمارے ساتھ ہمارے میزبان ڈاکٹر اسماعیل قمر نے بھیجا تھا تاکہ بازار میں پشتو بھائو تائو کے لیے ہمارے پاس بھی کوئی پٹھان ہو۔کہنے لگا سرجی!پہلے سے بہت بہتر ہے۔میں تحریک انصاف کا ووٹر نہیں تھا مگر حالات بہت اچھے ہو رہے ہیں۔صرف امن و امان کا مسئلہ حل ہو جائے تو پشاور ایسا شہر بن جائے کہ آپ دیکھتے رہ جائیں۔سکولوں کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور تعلیم کا نظام سدھر رہا ہے۔صحت کی سہولتیں بہتر ہو رہی ہیں۔عام آدمی کو انہی دو چیزوں سے پالا پڑتا ہے اور یہ دونوں بہتر ہو رہی ہیں۔باقی چیزیں بھی ٹھیک ہو رہی ہیں۔عدل و انصاف کی صورتحال اچھی ہو رہی ہے اور نوکریاں میرٹ پر مل رہی ہیں۔آہستہ آہستہ چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں۔شہر میں سڑکیں ٹھیک ہو رہی ہیں ابھی سب کچھ جادو کے زور پر تو ٹھیک نہیں ہو سکتا۔وقت تو لگے گا۔
میں نے سوچا عتیق ٹھیک کہتا ہے ۔وقت تو لگتا ہے۔پشاور پہلے جیسا نہیں۔پہلے شہر میں فقیر آباد میں افغانستان پر روسی قبضے کے طفیل امریکی چیزیں بکتی تھیں‘ اب افغانستان پر امریکی قبضے کے طفیل امریکی چیزیں حیات آباد میں بکتی ہیں۔کبھی یہاں سبز جیکٹیںبکتی تھیں اب کچھ کیموفلاج جیکٹس بکتی ہیں۔کبھی پشاور ہند کو بولنے والوں کا شہر تھا‘ اب پشتو بولنے والوں کا شہر ہے۔یہ سب کچھ تاریخ کی کتابوں میں نہیں پڑھا‘ آنکھوں سے دیکھا ہے۔بہرحال میرے بیٹے کو پشاور بہت پسند آیا ہے۔ خدا کرے کہ یہاں امن و امان کا مسئلہ بھی حل ہو جائے تاکہ میں اس کے ساتھ زیادہ سکون اور اطمینان سے آئوں اور جی ٹی روڈ کے کنارے بیٹھ کر سرخ لوبیا کھا سکوں۔ میں اس شہر میں بار بار آنا چاہتا ہوں۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں