نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اقوام متحدہ کےامن دستوں کی فوجی مشقیں مشترکہ مقصد 2021کاانعقاد
  • بریکنگ :- چین، پاکستان،منگولیا اورتھائی لینڈ کےدستوں نےحصہ لیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فوجی مشقیں چینی پیپلزلبریشن آرمی کی کیوشن ٹریننگ بیس پرمنعقدکی گئیں
  • بریکنگ :- مشقوں میں امن مشن کےکرداراورمقاصدکےتحت آپریشن ہوئے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- شرکا نے پاکستانی دستوں کی مہارت کو سراہا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- پاکستان یواین امن مشن میں بڑھ چڑھ کرحصہ لےرہاہے،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

انگریزوں کی صبح

آج صبح بہت جلد آنکھ کھل گئی۔ سارا قصور کاہلی کا تھا۔ میں رات دیر سے سویا۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ شام ہی نو بجے پڑتی ہے۔ مغرب کی نماز نو بجے اور عشا کی نماز رات گیارہ بجے ہوتی ہے۔ پہلے ہڈر سفیلڈ سے دوست آ گئے۔کھانا ان کے ساتھ کھایا اور واپس گھر آیا تو واپس باہر (مانچسٹر) لے گیا کہ فالودہ کھایا جائے۔ واپسی رات ایک بجے ہوئی۔ پھر نیٹ پر خبریں لگا لیں۔ بستر پر جاتے جاتے رات دو بج گئے۔ گزشتہ رات رضائی میں تھوڑی گرمی سی محسوس ہوئی، رات باہرکی جانب والی کھڑکی کھول دی تاکہ کمرے کا موسم تھوڑا ٹھنڈا ہو جائے۔ تب ہر طرف مکمل خاموشی تھی۔ علی الصبح کھڑکی سے ٹریفک کا شور آنا شروع ہو گیا۔ ساتھ رکھے ہوئے موبائل فون پر وقت دیکھا، ابھی صبح کے ساڑھے پانچ بجے تھے۔ ڈھیٹ بن کر دوبارہ سونا چاہا مگر دس پندرہ منٹ بعد ہی سونا محال ہوگیا۔ باہر یوں لگتا تھا کہ شاید دنیا جہان کی ٹریفک رواں دواں ہے اور میں شاید موٹروے کی فٹ پاتھ پر چارپائی ڈال کر سویا ہوا ہوں۔ ایک منٹ میں بلامبالغہ بیسیوں گاڑیاں زوں زوں کر کے گزر رہی تھیں۔ بستر سے نکل کرکھڑکی بند کرنے کے بجائے دوبارہ سونے کی کوشش کی مگر اس کاہلی نما کوشش سے رہی سہی نیند بھی اُڑگئی۔ 
میرے سفر سے چالو دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اتنا سفرکیسے کر لیتا ہوں؟ میں انہیں اس کا بڑا آسان نسخہ بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ جہاں موقع ملے سو جائو، سفر آسان ہو جائے گا۔ حالت امن ہو یا حالت جنگ، میرا مطلب ہے حالت قیام ہو یا حالت سفر، میں تقریباً آٹھ گھنٹے روزانہ سوتا ہوں۔ جس دن اس سے کم سونا نصیب ہو اس دن ویسے ہی نفسیاتی طور پر تھکاوٹ محسوس ہوتی رہتی ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ دونوں کو سونے کا بڑا شوق تھا۔ وہ رات جلدی سو جاتی اور میں صبح دیر سے اٹھ کر ٹوٹل پوراکر لیتا۔ میں جب صبح دوسری باراٹھتا تو وہ بچوں کو ناشتہ کروا کر سکول روانہ کر چکی ہوتی تھی اور اس انتظار میں ہوتی تھی کہ میں اٹھ کر نہا کر لائونج میں آ جائوں تو وہ میرے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کر لے۔ جب تک میں اٹھتا نہیں تھا ناشتہ تیار نہیں ہوتا تھا کہ میں ہر روز صبح اٹھ کر اسے بتاتا تھاکہ آج ناشتہ کس چیز سے کرنا ہے۔ ایک سال سات ماہ اور بیس دن ہوتے ہیں، صبح اٹھتا ہوں ، جو بنانا آتا ہے بنا کر ناشتہ کر لیتا ہوں۔گرمیوں میں دو گلاس لسی اور سردیوں میں کشمیری چائے کا ایک پیالہ اور آدھی باقر خانی۔ باقرخانی بھی تب جب آغا نثار لاہور سے بھجوا دے وگرنہ خالی کشمیری چائے کا ایک پیالہ۔ یہ علت مرحوم ذوالکفل بخاری نے ڈالی تھی۔ سید عطا اللہ شاہ بخاری کا یہ مہمان نواز نواسہ ہر سال سردیوں اورگرمیوں میں ایک ایک بار دوستوں کو ناشتے پر بلاتا تھا۔ سردیوں میں کشمیری چائے‘ باقر خانی‘ حلوہ پوری اور نان چنے۔ 
ذوالکفل ایک بار بتانے لگا کہ اس کے ماموں نے اس کی بہن سے جو بہاولپور سے تھوڑے فاصلے پر ایک قصبے میں بیاہ کر گئی تھی پوچھا کہ بیٹی وہاں کون کون کشمیری چائے پیتا ہے؟ بھانجی کہنے لگی ماموں بھلا وہاں کون کشمیری چائے پیے گا؟ ماموں بڑی محبت سے کہنے لگے: بیٹی آپ بنا کر ان کو پلائو گی تو ان کو عادت پڑے گی، آپ وہاں کشمیری چائے بنایا کرو، انہیں خود بخود اس کی عادت پڑ جائے گی، یہ چیز ہی ایسی ہے۔ ذوالکفل نے جب یہ واقعہ سنایا تب میں نے اسے کہا کہ وہ گھرکے اندر جائے اور کشمیری چائے بنانے کا طریقہ لکھوا کر لائے۔ تھوڑی دیر بعد ذوالکفل اندر سے ایک کاغذ اور ایک لفافہ لایا۔ کاغذ پر نسخہ تیاری برائے کشمیری چائے درج تھا اور لفافے میں کشمیری چائے کا قہوہ تھا۔ اگلے دو سال تک سردیوں میں کشمیری چائے کا قہوہ ذوالکفل کا بڑا بھائی اور میرا دوست سیدکفیل بخاری فراہم کرتا رہا۔ میں اس سے پوچھتا کہ یہ قہوہ کہاں سے ملے گا؟ وہ اندر سے قہوہ لا دیتا۔ اس کے بقول ملتان میں قہوہ ٹھیک نہیں ملتا۔ لاہور میں اچھرے کے قریب ایک دکان ہے، وہاں سے ٹھیک ملتا ہے۔ دو سال بعد بڑی مشکل سے اس دکان کا پتہ بتایا تب جا کر یہ سپلائی لائن منقطع ہوئی۔ 
ایک صبح پانچ بجے جب ابھی آسمان تاروں سے بھرا پڑا تھا، لاس اینجلس ایئرپورٹ پرجانا پڑا۔ شفیق کا گھر ایئرپورٹ سے چالیس پچاس میل دور تھا۔ وقت مقررہ سے اڑھائی تین گھنٹے پہلے گھر سے روانہ ہوئے۔ ابھی صبح کا صرف نام تھا وگرنہ رات کا پچھلا پہر چل رہا تھا۔ موٹروے ٹریفک سے بھری پڑی تھی، بلامبالغہ ہزاروں گاڑیاں رواں دواں تھیں۔ ہر شخص جلدی میں تھا اورگاڑی بھگائے چلا جا رہا تھا۔ لگتا تھا سارا لاس اینجلس سڑک پر نکلا ہوا ہے۔ اس روز صبح پانچ بجے والد صاحب امریکہ میں اچانک شدت سے یاد آئے اور آج صبح ساڑھے پانچ بجے برطانیہ میں آشٹن انڈر لائن میں یاد آئے۔ سرہانے پڑا فون اٹھایا اور انہیں فون کیا‘ پاکستان میں صبح ساڑھے نو بجے کا وقت تھا‘ پوچھنے لگے خیریت ہے اتنی صبح صبح فون کیا ہے۔ میں ہنسنے لگ پڑا۔ پھر انہیں بتایا کہ یہاں ابھی صبح ساڑھے پانچ بجے ہیں۔ لگتا ہے سارا آشٹن بلکہ اردگرد کے سبھی قصبے جاگ چکے ہیں اور ان قصبوں اور دیہات کے سارے رہائشی گاڑیوں میں بیٹھ کر سڑکوں پرگاڑیاں بھگا رہے ہیں۔ میں ان کی گاڑیوں کے شورکے باعث اٹھا ہوں۔اگر میری سڑک والی کھڑکی آج بھی بند ہوتی تو میں حسب معمول ساڑھے نو دس بجے اٹھتا۔ 
پھر میں نے والد صاحب کو یادکروایا کہ جب کبھی میں یا میرا مرحوم بڑا بھائی کسی روز فجرکی نماز کے بعد دوبارہ سو جاتے اور سورج چڑھے تک نہ اٹھتے تو آپ ہمیں ڈانٹ کر اٹھاتے تھے اور ہمیشہ ایک جملہ کہا کرتے تھے کہ ''کیا انگریزوں کی طرح دن چڑھے تک سو رہے ہو‘‘ تو میں نے صبح صبح آپ کو صرف یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ یہاں سارے انگریز نہ صرف یہ کہ صبح صبح اٹھتے ہیں بلکہ وہ مجھ پاکستانی مسافرکو بھی نہیں سونے دے رہے۔ والد صاحب نے میرے جملے کو بڑا انجوائے کیا اورکہنے لگے چلو تاخیر سے ہی سہی مگر معلومات میں اضافہ تو ہوا ہے، خواہ میرا سابقہ تصور اس سے خاصا متاثر ہوا ہے۔ بہرحال میں اپنے اس جملے پر انگریزوں سے معذرت خواہ ہوں۔ آئندہ اگر تم مجھے دیر تک سوتے نظر آئے تو میں اس جملے کی تصحیح کرتے ہوئے یہ کہوں گا کہ تم یہ کیا پاکستانیوں کی طرح دن چڑھے تک سو رہے ہو۔ صبح صبح والد صاحب سے بات کر کے دل خوش ہو گیا۔ 
وقت کی پابندی یہاں معاشرت کا حصہ ہے۔ لوگوں کی عادت ہے۔ حتیٰ کہ یہ کوئی خوبی نہیں سمجھی جاتی۔ یہاں فنکشن بروقت شروع ہوتے ہیں اور بروقت ہی ختم ہوتے ہیں۔ تقریب کا وقت پوچھیں تو کبھی یہ نہیں سنتے کہ کارڈ پر تو آٹھ بجے لکھا ہے مگر آپ بہرحال نو بجے تک پہنچ جائیں۔ آگے سے عقلمند لوگ نو بجے کے بجائے دس بجے آتے ہیں اور سبھی کہتے ہیں کہ یہ صحیح وقت پر آئے ہیں۔ دکانیں وقت پرکھلتی ہیں اور آج کل گرمیوں میں جب دن نو بجے ڈھلتا ہے، ساڑھے پانچ بجے بند ہو جاتی ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا نام و نشان نہیں مگر لوگ یہاں دن کی روشنی سے ممکنہ حد تک کام چلاتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب دکانیں کھلتی ہیں آدھا دن گزر چکا ہوتا ہے اور پھر رات گئے تک دکانیں کھلی رہتی ہیں، دیر سے سونا اور دیر سے اٹھنا۔ یہاں یہ عالم ہے کہ شام چھ بجے ابھی سورج چمک رہا ہوتا ہے اور مارکیٹیں سنسان ہو جاتی ہیں۔ ویک اینڈ نائٹس کے علاوہ سڑکیں سنسان نظر آتی ہیں۔ ہمارے ہاں نہ عام آدمی کو کسی چیز کی پروا ہے اور نہ ذمہ داری کا احساس اور نہ ہی حکومت کو اپنی کسی ذمہ داری یا فرض کا کوئی احساس ہے۔ نہ کوئی قانون ہے اور نہ اس پر عمل کروانے کی کوشش۔ حکومت کی رٹ توکجا سرے سے کوئی حکومت ہی نظر نہیں آتی۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں