نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- چین کےصدرشی جن پنگ کااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سےورچوئل خطاب
  • بریکنگ :- چین ماحول کی بہتری کےلیےتمام اقدامات اٹھائےگا،چینی صدر
  • بریکنگ :- توانائی کےلیےکوئلےکےمزیدپروجیکٹ نہیں لگائیں گے،شی جن پنگ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

موٹروے‘ میٹرو بس‘ پیلی ٹیکسی اور ناآسودہ خواہشات

ایک دوست نے سوال کیا کہ آخر میں ملتان اور خصوصاً ملتان کی سڑکوں پر کب تک لکھتا رہوں گا؟ میں نے جواب دیا کہ جب تک خرابیاں درست نہیں ہوتیں میں لکھتا رہوں گا۔ اس نے پھر پوچھا کہ آخر ایک موضوع پر کتنی بار لکھا جا سکتا ہے؟ میرا جواب تھا جب تک حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا ،لکھنے میں قطعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ پھر پوچھنے لگا کہ کیا ایک ہی بات بار بار لکھتے ہوئے مجھے اس بات پر شرمساری سی محسوس نہیں ہوتی کہ یہ سب لکھنا کار بے کار ہے اور کسی پر کچھ اثر نہیں ہو رہا؟ میں نے کہا ممکن ہے مجھے ایک ہی موضوع پر بار بار لکھتے ہوئے ایسی کوئی بات محسوس ہوتی‘ مگر حکمرانوں کی اپنے معاملات اور اپنی سوچ پر ''ثابت قدمی‘‘ دیکھ کر میرا بھی حوصلہ بڑھ گیا ہے اور میں دوبارہ‘ سہ بارہ اور اس سے بھی ''زیادہ بار‘‘ لکھنے میں قطعاً عار محسوس نہیں کرتا۔ وہ دوست پوچھنے لگا‘ تمہارا اس ''ثابت قدمی‘‘ سے کیا مطلب ہے؟ میں نے کہا‘ یہ حکمرانوں کی سوچ کے بارے میں ترجمانی کے لیے مناسب لفظ تو نہیں ہے مگر چونکہ مہذب لفظ ہے اس لیے استعمال کر رہا ہوں۔ حقیقتاً مجھے جو لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا وہ دوسرا ہے مگر ''پارلیمانی‘‘ ہے اس لیے یہ عاجز اسے استعمال نہیں کر سکتا۔ 
گزشتہ ہفتے میں نے ایک کالم لکھا تھا جس میں پیلی ٹیکسیوں کی حکومتی سکیم کا جائزہ لیا تھا اور اس سے قبل دو مرتبہ اس سکیم کے انجام پر روشنی ڈالتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حکمران تیسری بار بھی اسی سوراخ سے قومی سرمائے کو ڈسوائیں گے۔ میرا خدشہ درست ثابت ہوا۔ اگلے ہی روز اخبار میں آیا کہ میاں شہباز شریف اس بار پھر اپنا یہی پسندیدہ کام تیسری بار کریں گے۔ انہوں نے اعلان
کیا ہے کہ وہ ''بے روزگاروں‘‘ میں پچاس ہزار پیلی ٹیکسیاں تقسیم کریں گے۔ میاں شہباز شریف کی اس مستقل مزاجی‘ استقلال اور ثابت قدمی نے مجھے بھی یہ حوصلہ اور جرأت بخشی ہے کہ میں بھی انہی جیسی مستقل مزاجی‘ استقلال اور ثابت قدمی سے کئی بار پہلے لکھے گئے موضوعات پر بے دھڑک لکھوں؛ تاہم ان کی بار بار پیلی ٹیکسی سکیم کے مقابلے میں میرا ایک ہی موضوع پر بار بار لکھنا ہرگز برابر نہیں کہ ان کی اس حرکت سے قوم کے اربوں روپے برباد ہو جاتے ہیں جبکہ اس عاجز کی اس حرکت سے کسی کے باپ کا کچھ نہیں جاتا۔ میاں صاحبان نے پہلے بھی بینکوں اور قومی اداروں کے اربوں روپے ان پیلی ٹیکسیوں پر برباد کیے ہیں اور اب پھر اسی جذبے اور جوش و خروش سے اربوں روپے برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسی ''ثابت قدمی‘‘ سب کو نصیب ہو۔ 
میاں صاحبان کی اپنی عمربزنس کرتے ہوئے گزری ہے؛ تاہم نئی نسل کے ارادے بلند ہیں اور وہ پرانے روایتی کاروبار پر قناعت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کوئی لندن میں پراپرٹی کا کام کر رہا ہے اور کوئی پاکستان میں انڈے‘ مرغی اور دودھ دہی کی مارکیٹ پر قبضے کا خواہاں ہے۔ پرانے اور پٹے ہوئے کاروباروں سے یہاں ہر کوئی جان چھڑوا رہا ہے۔ چودھری برادران نے یہ بات جلد بھانپ لی تھی لہٰذا انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں اپنی کنجاہ ٹیکسٹائل ملز‘ ملکوال ٹیکسٹائل ملز‘ پھالیہ شوگر ملز اور پنجاب شوگر ملز کو بیچ باچ کر مال کھرا کیا اور پاکستان سے باہر پراپرٹی اور دیگر پیداواری یونٹس میں لگالیا۔ پاکستان میں سیاست کرنے اور پاکستان پر حکمرانی کرنے کے امیدواروں نے اپنا سارا کاروبار پاکستان سے باہر شفٹ کردیا۔ یہی حال موجودہ حکمرانو کا ہے۔ ان کا سارا کچھ باہر ہے ۔رہ گیا پاکستان میں کاروبار کا معاملہ تو اب بہت بڑے بڑے یونٹس پر نئی نسل کی توجہ کم ہے وہ فوری اور زیادہ نفع آور کاموں میں آ گئے ہیں ۔ انہوں نے پٹی ہوئی روایتی مارکیٹ سے جان چھڑوانا شروع کردی ہے اور چودھریوں کی پیروی کرتے ہوئے روایتی بزنس سے جان چھڑوانے کی ابتدا کر لی ہے۔ 
یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ آخر ان کی سوئی موٹروے‘ میٹرو اور پیلی ٹیکسیوں میں ہی کیوں پھنسی ہوئی ہے؟ مجھے دنیا کا ایک ملک بتا دیا جائے جس کی ترقی میں میٹرو یا پیلی ٹیکسیوں نے کوئی کردار سرانجام دیا ہو۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک دکھا دیا جائے جس کی اقتصادی ترقی کا سرچشمہ میٹرو بس یا پیلی ٹیکسی ہو۔ میٹرو بس اور پیلی ٹیکسیاں ترقی کے ثمرات تو ہو سکتے ہیں ترقی کا زینہ نہیں۔ ترقی وہ ملک کرتے ہیں جو تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی حالت بہتر بناتے ہیں۔ تحقیق و تعلیم پر کام کرتے ہیں۔ صنعت و حرفت پر توجہ دیتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پر زور دیتے ہیں۔ جب صنعت و حرفت کا پہیہ چلنے لگ پڑتا ہے تو میٹرو بسیں خودبخود چلنے لگ جاتی ہیں اور پیلی ٹیکسیاں سڑکوں پر آ جاتی ہیں۔ میٹرو اور پیلی ٹیکسیاں معاشی ترقی کے ایسے ثمرات ہیں جو خودرو ہیں۔ بیٹے کو کار لے دینے سے نہ اس کی تعلیمی قابلیت بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ نوکری حاصل کر سکتا ہے۔ نہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے بڑھا سکتا ہے۔ ہاں اعلیٰ تعلیم‘ اچھی نوکری اور مناسب کاروبار اس کے لیے کار فراہم کرنے کا ذریعہ ضرور بن سکتے ہیں۔ وہ کار کے زور پر اچھا روزگار حاصل نہیں کر سکتا مگر اچھے روزگار کی بنیاد پر کار ضرور حاصل کر سکتا ہے۔ 
پیلی ٹیکسی سے روزگار کا معاملہ دوبار فیل ہو چکا ہے۔ ملتان‘ لاہور‘ فیصل آباد اور دیگر شہروں میں آپ کو کہیں پیلی ٹیکسیاں کرائے پر چلتی نظر نہیں آئیں گی۔ صرف راولپنڈی‘ اسلام آباد پنجاب کے وہ شہر ہیں جہاں آپ کو ٹیکسی نظر آتی ہے اور وہ بھی اکثر ایسی پرانی اور کھٹارہ گاڑیاں جو اس سکیم سے پہلے کی چل رہی ہیں۔ ہوائی اڈوں پر چلنے والی گاڑیوں کا اس سکیم سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ پرائیویٹ کمپنیوں کی ملکیت بڑی گاڑیاں ہیں اور مارکیٹ سے خرید کر چلائی جا رہی ہیں یا پرائیویٹ مالکان نے لیز پر دے رکھی ہیں۔ ملتان میں بلامبالغہ سینکڑوں گاڑیاں اس سکیم کے تحت بے روزگاروں کو دی گئی تھیں۔ ان میں پانچ دس کو چھوڑ کر باقی ساری ٹیکسیاں پرائیویٹ طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ غلطی سے کسی خالی جاتی ہوئی پیلی ٹیکسی کو ہاتھ دیں تو ڈرائیور گھورتا ہوا اور منہ میں بڑبڑاتا ہوا گزرتا ہے۔ نہ کسی پر جنگلہ باقی ہے اور نہ پیلی بتی میں جگمگاتا ہوا لفظ TAXI موجود ہے۔ سرکار کو ٹیکس اور دیگر مدات میں کروڑوں اربوں کا ٹیکہ لگ چکا ہے اور میاں صاحب تیسری بار پھر پچاس ہزار پیلی ٹیکسیوں کا ملبہ آپ کے اور میرے ادا شدہ ٹیکس پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ 
میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حکمران اپنے اس تیسرے دور حکومت میں بھی سڑکوں‘ میٹرو بسوں اور پیلی ٹیکسیوں کو ہی اپنا ایجنڈا نمبر ون بنائے ہوئے ہیں؟ وہ کہنے لگا اس کی وجہ شاید نفسیاتی ہے۔ یہ لوگ کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ممکن ہے ان کے ذہن کے کسی کونے میں کبھی ٹرانسپورٹر بننے کا خیال آیا ہو اور وہ خیال ان کے لاشعور میں بیٹھ گیا ہو۔ یہ لاشعوری معاملات بڑے پیچیدہ ہوتے ہیں اور آسانی سے سلجھائے نہیں جا سکتے۔ پھر وہ دوست علم نفسیات کی گہرائیوں میں چلا گیا اور شعور‘ لاشعور‘ تحت الشعور اور تحلیل نفسی وغیرہ جیسی گنجلک اور ادق اصطلاحات پر اتر آیا۔ دس منٹ میں ہی اس نے میرا دماغ پلپلا کردیا؛ تاہم مجھے یہ پتہ چل گیا ہے کہ آخر حکمرانوں کی سوئی اتنے عرصے سے موٹروے اور پیلی ٹیکسیوں کے بعد اب میٹرو میں کیوں پھنسی ہوئی ہے۔ ناآسودہ خواہشات انسان کو ساری عمر تنگ اور پریشان کیے رکھتی ہیں۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں