نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوروناکی وجہ سےہزاروں ووٹرزنےایڈوانس پول اورپوسٹل بیلٹ استعمال کیا
  • بریکنگ :- لبرل پارٹی،اپوزیشن کنزرویٹوپارٹی اورنیوڈیموکریٹک پارٹی میں کانٹےکامقابلہ
  • بریکنگ :- ابتدائی نتائج،اٹلانٹک صوبوں میں لبرل پارٹی کو5نشستوں پربرتری
  • بریکنگ :- کینیڈامیں عام انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری
  • بریکنگ :- حکومت بنانےوالی جماعت کو 338کےایوان میں 170نشستیں حاصل کرناہوں گی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ملتان کی سیاست اور سولہ اکتوبر کا ضمنی الیکشن

گزشتہ ہفتے میں نے کالم لکھا جس کا عنوان تھا ''ملتان کی سیاست‘‘۔ اس کالم پر دو چار قارئین نے بڑے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مجھے برا بھلا بھی کہا اور خود اخلاقیات کا لیکچر دیتے ہوئے خاصی غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کی۔ اب جس سوسائٹی میں ہم زندہ ہیں وہاں تحمل اور بردباری صرف رخصت ہو نہیں رہا بلکہ ہو چکا ہے۔ مخالف فرقہ لائق جہنم اور واجب القتل ہے۔ مخالف سیاسی نظریات کا حامل شخص قابل نفرین ہے اور کم از کم گالیوں کا حق دار ہے۔ اسی طرح باقی معاملات ہیں جن پر اب کڑھنا‘ غصہ کھانا‘ غمگین ہونا یا ملول ہونا سوائے اپنے اعصاب اور صحت کی بربادی کے اور کچھ نہیں‘ لہٰذا یہ عاجز ایسے لوگوں پر ترس کھاتا ہے‘ ان کی ہدایت کے لیے دعا کرتا ہے اور فوراً ہی انہیں معاف کر دیتا ہے۔ گزشتہ دو سال سے یہ عاجز کسی کے بارے میں معاندانہ یا منفی خیالات دل میں لے کر رات کو نہیں سویا۔ پڑھا‘ دو منٹ ملال کیا اور پھر معاف کردیا۔ مجھے اپنے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں‘ مگر رات سونے سے پہلے دل پر لگے ہر زخم کو رفو کرتا ہوں۔ زخم لگانے والوں کی ہدایت کے لیے دعا کرتا ہوں۔ جب تک دل دھلے ہوئے اجلے کپڑے کی مانند نہ ہو جائے رب کریم سے درگزر کی دعا کرتا ہوںالتواب اور العفو کی تسبیح کرتا ہوں اور وہ مالک اپنا کرم فرماتا ہے۔ 
امریکہ اٹلانٹا سے برادر بزرگ کا فون آیا۔ چھوٹتے ہی کہنے لگے کہ تم نے کالم میں کیا لکھا ہے؟ میں نے پوچھا کون سا کالم؟ کہنے لگے ملتان کی سیاست والا۔ عرض کیا‘ کیا لکھا ہے؟ کہنے لگے تم نے لکھا ہے کہ ''ملتان کی سیاست میں منافقت نہ ہو تو مزا نہیں آتا‘‘ اور دوسرا یہ کہ تم نے آخر میں لکھا ہے کہ ''ملتان اور منافقت لازم و ملزوم ہیں‘‘۔ میں نے کہا۔ برادر عزیز آپ خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیں 
کہ کیا ملتان کی سیاست میں منافقت بدرجہ اتم موجود نہیں ہے؟ برادرم نے ایک منٹ توقف کیا پھر کہنے لگے بات تو درست ہے۔ پھر کہنے لگے آخری جملہ؟ کیا آخری جملہ ملتان والوں کے لیے من حیث الملتانی قابل اعتراض نہیں ہے؟ میں ہنسا اور کہا۔ برادرم آپ تو امریکہ سدھار چکے ہیں اور اب امریکی شہری ہیں۔ امریکی نیلے پاسپورٹ کے حامل ہیں۔ ملتان یاترا پر آتے ہیں تو محض اپنی جائیداد میں سے بچا کھچا فروخت کرنے آتے ہیں۔ گویا آپ کی ہر بار ملتان آمد آپ کے ملتان میں موجود تعلق کو مزید کم کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ یہ عاجز پیدائشی ہی نہیں‘ کئی نسلوں سے ملتانی ہے اور خدا کا کرم ہے کہ اس کے پاس دفن ہونے کے لیے پاک مائی کے قدیمی قبرستان میں ایک ایسا احاطہ موجود ہے جس میں اس کی پڑدادی‘ دادا‘ دادی‘ تایا‘ چچا‘ پھوپھیاں‘ بھائی‘ بہن‘ بیٹی اور سب سے بڑھ کر ماں دفن ہے اور اس ماں کے قدموں والی جانب ایک قبر کی جگہ خالی پڑی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل حال رہی تو اس فقیر کو اسی جگہ پر دفن ہونے کی سعادت حاصل ہوگی۔ بھلا میں ملتانیوں کو من حیث الملتانی کیسے مطعون کر سکتا ہوں۔ کالم کا عنوان ''ملتان کی سیاست‘‘ ہے اور یہ جملہ اسی تناظر میں ہے۔ 
برادر بزرگ کہنے لگے۔ کیا باقی ملک اس سیاسی منافقت سے پاک ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے باقی ملک سے اتنی غرض نہیں جتنی ملتان سے ہے کہ میرا حلقہ اسی شہر میں ہے۔ میرا پولنگ سٹیشن یہاں ہے۔ میں ووٹ یہاں ڈالتا ہوں۔ اپنا نمائندہ یہاں سے منتخب کر کے اسلام آباد اور لاہور بھجواتا ہوں۔ ضرورت پڑے تو اسی نمائندے کو پکڑتا ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب ملتان والے کوئی خرابی کریں‘ ان کے طعنے مجھے سننے پڑتے ہیں اور بحیثیت ملتانی صفائیاں مجھے دینی پڑتی ہیں۔ اب بھلا میں شیخ رشید کے طعنے سنتا ہوں یا جاوید ہاشمی کے؟ لوگ مجھ سے شاہ محمود قریشی کے گلے کرتے ہیں یا رانا مشہود کے؟ کرپشن کی کہانیاں یوسف رضا گیلانی کی سناتے ہیں یا حمزہ شہباز شریف کی؟ جب مجھے سب گلے‘ شکوے‘ شکائتیں اور کہانیاں ملتان والوں کی سننا پڑتی ہیں کہ سب مجھے ملتان کے حوالے سے جانتے اور پہچانتے ہیں تو بھلا لکھتے وقت میری پہلی ترجیح ملتان کیوں نہ ہو؟ اگر میں ملتان کی اور جنوبی پنجاب کی محرومیوں پر نہیں لکھوں گا تو مٹی کا قرض کیسے اتاروں گا؟ اس دھرتی اور وسیب کے بارے میں لکھنا جہاں میرا فرض ہے وہیں کچھ حقوق بھی ہیں۔ باقی شہر جانیں اور وہاں کے منافق۔ میں تو وہیں کے بارے میں لکھوں گا جہاں مجھے پالا پڑتا ہے اور جو میری نمائندگی کے دعویدار ہیں۔ یہاں سیاسی منافقوں کی دکانداری چمک ہی اس لیے رہی ہے کہ اس وسیب کے رہنے والے صدیوں سے الو بنائے جا رہے ہیں اور اب بھی وعدوں کی میٹھی گولیوں پر ٹرخائے جا رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کو انتظامی خودمختاری کا لالی پاپ دیا گیا‘ کمیٹیاں بنائی گئیں‘ میٹنگیں ہوئیں‘ تجاویز اور سفارشات مرتب کی گئیں‘ پھر سب کچھ فائلوں کے انبار تلے دب گیا۔ کوئی ایک نمائندہ بتائیں جس نے اس پر آواز اٹھائی ہو؟ احتجاج کیا ہو؟ وزیراعلیٰ عرف خادم اعلیٰ سے بات کی ہو؟ چیف سیکرٹری سے پوچھا ہو؟ پنجاب اسمبلی میں آواز اٹھائی ہو؟ وزیراعظم کو یاد دلایا ہو؟ یہاں مجلسوں میں‘ گفتگو میں‘ نجی محفلوں میں آپ ان کی باتیں سنیں‘ ان کی بڑھکوں کو دیکھیں‘ ان کی شعلہ فشانی ملاحظہ فرمائیں‘ آپ خوش ہو جائیں گے اور کبھی آپ ان کو تخت لاہور کے حاکموں کے سامنے فرمانبرداری اور تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھیں تو حیرانی سے فوت ہو جائیں۔ 
اب صرف میٹرو بس والے معاملے کو دیکھیں۔ رکن قومی اسمبلی جاوید علی شاہ‘ غفار ڈوگر ا ور سکندر بوسن (ملتان شہر اور اس سے متصل کل پانچ حلقوں میں سے دو پر تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی ہیں) رکن صوبائی اسمبلی جاوید اختر انصاری‘ شوکت بوسن‘ شہزاد مقبول بھٹہ‘ حاجی احسان الدین اور رانا اعجاز نون اور مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی ایم این اے سلطانہ شاہین۔ کسی کا کچھ پتہ نہیں کہ کیا موقف ہے۔ کچھ مخالف ہیں مگر بولتے نہیں ہیں۔ کچھ صرف اپنے حلقے تک حامی ہیں وگرنہ مخالف۔ مگر مجال ہے جو وزیراعلیٰ کی چشم ابرو کے اشارے کے خلاف لب کشائی کر جائیں۔ وزیراعلیٰ میٹروبس چلانے کا اعلان کریں تو سب حامی۔ اگر وزیراعلیٰ اس معاملے پر خاموشی اختیار کر لیں تو سب گونگے۔ بھلا ان کے بارے میں اور کیا کہا جائے؟ 
اب موجودہ صورتحال دیکھیں۔ جاوید ہاشمی بظاہر آزاد ہے مگر مسلم لیگ ن کا حمایت یافتہ ہے۔ مسلم لیگ ن جاوید ہاشمی کے مقابلے میں امیدوار کھڑا نہیں کر رہی مگر جاوید ہاشمی سے حلقہ این اے 149 سے شکست خوردہ مسلم لیگی امیدوار شیخ طارق رشید کا بڑا بھائی مسلم لیگ ن میں ہے اور آزاد امیدوار ہے۔ طاہر رشید اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی طرف سے ایم این اے منتخب ہو چکا ہے اور ق لیگ کی طرف سے 2013ء کا الیکشن ہار کر دوبارہ مسلم لیگ ن میں آ گیا ہے۔ اس کا بھائی مسلم لیگی رہنما طارق رشید مسلم لیگ ن کی پالیسی کے خلاف اپنے بھائی کی مکمل اندر خانے حمایت کر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی‘ پہلے جاوید ہاشمی کی حمایت کا اعلان کیا مگر پارٹی کے جنوبی پنجاب کے سیکرٹری عامر ڈوگر کے اصرار پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ طلب کرنے والے عامر ڈوگر کو جب پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دی تو وہ کئی گھنٹے تک انتظار کروانے کے بعد بھی گیلانی ہائوس نہ آیا اور پیغام بھجوایا کہ وہ آزاد الیکشن لڑ رہا ہے۔ گیلانی صاحب نے یہ ٹکٹ اپنے سابق فرنٹ مین ڈاکٹر جاوید صدیقی کو دے دی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جاوید ہاشمی آزاد امیدوار ہے اور مسلم لیگ ن و پیپلز پارٹی کا حمایت یافتہ ہے۔ مسلم لیگ ن کی تنظیم اندر خانے طاہر رشید کی حمایت کر رہی ہے۔ عامر ڈوگر آزاد امیدوار ہے مگر شاہ محمود کے توسط سے پی ٹی آئی میں شمولیت کا منتظر ہے اور فی الوقت بھی تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے باوجود اس کا حمایت یافتہ ہے۔ پیپلز پارٹی جاوید ہاشمی کے ساتھ بھی ہے اور اپنا امیدوار بھی کھڑا کر رکھا ہے۔ منافقت اور کیا ہوتی ہے؟ امید ہے برادرم اعجاز یہ کالم پڑھ چکے ہوں گے۔ مگر پاکستان میں ابھی دن ہے تو امریکہ میں رات۔ دو چار گھنٹوں تک ان کا فون آ جائے گا۔ دیکھیں برادر بزرگ اب کیا فرماتے ہیں؟ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں