نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا76 واں سربراہی اجلاس آج سےشروع ہوگا
  • بریکنگ :- نیویارک:امریکی صدرجوبائیڈن آج جنرل اسمبلی اجلاس سےخطاب کریں گے
  • بریکنگ :- جوبائیڈن خطاب میں بتائیں گےوہ نئی سردجنگ پریقین نہیں رکھتے،امریکی عہدیدار
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان 24ستمبرکوجنرل اسمبلی سےورچوئل خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- 83 سربراہان مملکت، 43وزرائےاعظم، 3نائب وزیراعظم اجلاس سےان پرسن خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- بھارتی وزیراعظم کا25ستمبرکوخطاب،کشمیری اقوام متحدہ کےباہراحتجاج کریں گے
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

شہری حکومتیں‘ ہمارے ہاں اور امریکہ میں

بوسٹن ایئرپورٹ کے باہر ابوموگالو میرا منتظر تھا۔ افریقہ سے تعلق رکھنے والا ابوموگالو امریکہ میں مسلمانوں کی بہت بڑی تنظیم اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (ICNA) کے زیر انتظام چلنے والی چیریٹی آرگنائزیشن ''ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈیویلپمنٹ‘‘ میں کام کرتا ہے۔ میں اور انور مسعود صاحب اسی چیریٹی تنظیم کے زیر اہتمام پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے سلسلے میں ہونے والے مشاعروں میں شرکت کی غرض سے امریکہ آئے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں اس کام کا بیڑہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ نے اٹھایا ہوا ہے۔ ہیلپنگ ہینڈ اور غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ اس فنڈ ریزنگ میں ایک دوسرے کے پارٹنر ہیں۔ ابوموگالو ہیلپنگ ہینڈ کے بوسٹن یونٹ میں کام کرتا ہے۔ 
ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کا سفر چالیس منٹ کا تھا مگر جب میں بوسٹن ایئرپورٹ سے باہر نکلا تب رش کا وقت یعنی دفاتر سے واپسی کا وقت ہو چکا تھا لہٰذا سڑکیں ٹریفک سے بھری پڑی تھیں۔ فری وے یعنی موٹروے پر بھی معاملہ پھنسا ہوا تھا۔ ابوموگالو کہنے لگا ہمیں ہوٹل پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگ جائے گا۔ ہوٹل ایئرپورٹ سے تقریباً چالیس میل یعنی چونسٹھ کلو میٹر دور تھا۔ بچوں جیسی معصومیت والے چہرے کا مالک ابوموگالو ہر بات کا آغاز یا اختتام الحمدللہ‘ اور ماشاء اللہ سے کر رہا تھا۔ انور مسعود‘ خالد عرفان‘ سید وقاص جعفری اور نوید باقی ایک روز قبل ہی بوسٹن آ چکے تھے جبکہ میں چار دن برادر بزرگ کے پاس اٹلانٹا گزار کر عین مشاعرے والے دن بوسٹن پہنچ رہا تھا۔ راستے میں ابوموگالو سے بات چیت شروع ہو گئی۔ میں نے پوچھا کہ اس کا تعلق افریقہ کے کس ملک سے ہے؟ اس نے بتایا کہ یوگنڈا سے۔ پھر وہ پوچھنے لگا کہ کیا مجھے یوگنڈا کے بارے میں کچھ پتہ ہے؟ میں نے کہا بہت زیادہ تو نہیں مگر تھوڑا بہت پتہ ہے۔ اس نے پوچھا کہ کیا مجھے یوگنڈا کے کسی شہر کا نام آتا ہے؟ میں نے کہا صرف دوشہروں کا۔ کمپالا کا جو دارالحکومت ہے اور جنجا کا نام آتا ہے۔ وہ مسکرایا اور کہنے لگا آپ پہلے آدمی ملے ہیں جسے میرے ملک کے دو شہروں کا نام آتا ہے۔ یہاں امریکہ میں سو میں سے نوے غیر افریقیوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ یوگنڈا کسی ملک کا نام ہے کجا کہ یہ پتہ ہو کہ وہ افریقہ میں ہے۔ ابوموگالو نو سال قبل جب اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ آیا تو اس کی عمر پندرہ برس تھی۔ اس نے بوسٹن کے قریبی شہر مارلبرو سے پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کی اور پھر ہیلپنگ ہینڈ سے وابستہ ہو گیا۔ 
ابوموگالو نے میرا باقاعدہ امتحان لینا شروع کردیا۔ پوچھنے لگا آپ کو پتہ ہے ہم نے کس سے آزادی لی تھی۔ میں نے کہا تمہارا اور ہمارا حاکم برطانیہ تھا۔ ہم نے تم لوگوں سے تقریباً پندرہ بیس سال پہلے آزادی حاصل کر لی تھی۔ وہ پوچھنے لگا کہ مجھے پتہ ہے کہ دریائے نیل کہاں سے نکلتا ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ دریائے نیل کے دو منبعے ہیں۔ ایک سفید نیل ہے جو جھیل وکٹوریہ سے نکلتا ہے اور دوسرا نیلا نیل ہے جو جھیل ٹانا سے نکلتا ہے۔ جھیل وکٹوریہ سے نکلنے والا سفید نیل بنیادی ذریعہ ہے۔ جھیل وکٹوریہ یوگنڈا‘ کینیا اور تنزانیہ کے درمیان ہے۔ تنزانیہ کا پرانا نام ٹانگا نیکا ہے اور اس نے زنجبار پر قبضہ کیا ہوا ہے جس کا اب موجودہ نام ''زینزیبار‘‘ ہے۔ زینزیبار پر برطانوی قبضے کے دوران ہونے والی جنگ محض اڑتیس منٹ تک چلی۔ یہ جنگ کسی ملک پر قبضہ کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سلسلے میں دنیا کی مختصر ترین جنگ ہے۔ ابوموگالو میری معلومات سے خاصا متاثر ہو گیا اور جواباً مجھے بتانے لگا کہ اسے بھی پاکستان کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔ پھر اس نے اپنی تازہ ترین معلومات کا ثبوت دیتے ہوئے بتایا کہ وہ عمران خان کو بھی جانتا ہے اور اسلام آباد میں Sit in یعنی دھرنے کا بھی اسے پتہ ہے۔ پھر وہ مجھ سے پوچھنے لگا کہ اس دھرنے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ میں نے کہا اگر مجھے پتہ ہوتا تو ضرور بتا دیتا مگر میں بھی اس کی طرح ابھی عمران خان کی ہٹ دھرمی اور عزائم سے آگاہ نہیں ہوں۔ وہ ہنسنے لگ گیا۔ 
راستے میں فری وے کے درمیان بنے ہوئے ڈیوائیڈر پر ہر چار چھ میل کے بعد چھوٹے چھوٹے روشن بلبوں سے چمکنے والا ایک تختہ لگا ہوا تھا اور اس پر ایک ہی جملہ جگمگا رہا تھا۔ 
Thank you Tom Menino (شکریہ ٹام مینینو)۔ میں نے ابوموگالو سے پوچھا یہ ٹام مینینو کون ہے؟ وہ کہنے لگا یہ بوسٹن کا میئر تھا۔ کل اس کا انتقال ہوا ہے۔ ٹام مینینو بوسٹن کا تریپنواں میئر تھا۔ یہ 1993ء سے 2014ء تک لگاتار اکیس سال 
بوسٹن کا میئر رہا تھا۔ 1993ء میں اس نے چونسٹھ فیصد ووٹ حاصل کیے۔ 1997ء میں اکہتر فیصد‘ 2001ء میں چھہتر فیصد‘ 2005ء میں سڑسٹھ فیصد اور 2009ء میں ستاون فیصد ووٹ لے کر پانچویں دفعہ اور بوسٹن کی تاریخ کا سب سے لمبا عرصہ میئر رہنے والا شخص تھا۔ اس نے بوسٹن کی حالت ہی تبدیل کردی۔ بوسٹن امریکہ کا سب سے زیادہ شعور کا حامل شہر سمجھا جاتا ہے جہاں ہارورڈ یونیورسٹی اور میسا چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) ہے۔ جنرل ایجوکیشن اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں علی الترتیب دنیا کے پہلے نمبر کے تعلیمی ادارے ہیں۔ ٹام مینینو کی ترجیحات میں ہر بچے کو معیاری تعلیم‘ قابل دسترس رہائشی سہولت‘ جرائم کا ممکنہ حد تک سدباب اور ہر رہائشی شہری کے لیے صحت مندانہ طرزِ زندگی تھا اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب رہا۔ اٹھائیس مارچ 2013ء کو اس نے اعلان کر دیا کہ وہ چھٹی ٹرم کے لیے امیدوار نہیں ہوگا۔ اس دوران اس نے نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ کے ساتھ مل کر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں عوام کو گلیوں میں غیر قانونی اسلحہ سے تحفظ کا عزم کیا گیا۔ پندرہ میئرز سے شروع ہونے والی تحریک 2006ء میں پچاس میئرز تک پہنچ گئی اور پھر اس میں امریکہ بھر کی چالیس ریاستوں کے نو سو میئر شامل ہو گئے۔ ٹام مینینو چھ جنوری 2014ء کو ریٹائر ہو گیا۔ گزشتہ روز ٹام مینینو کو سپرد خاک کردیا گیا۔ 
امریکی نظام میں بھی خرابیاں ہیں اور صرف چند ایک ہی نہیں ان گنت خرابیاں ہیں مگر شہری حکومتوں والے عوامی نمائندے بہرحال عوام کی عدالت میں جوابدہ ہیں اور اپنی سیاسی وابستگی سے قطع نظر صرف اور صرف عوامی خدمت کے حوالے سے ہی کامیابی یا ناکامی کا مزہ چکھتے ہیں۔ لاس اینجلس کا ٹام بریڈلی‘ نیویارک کا میئر بلومبرگ‘ شکاگو کارچرڈ ڈیلی اور بوسٹن کا میئر ٹام مینینو‘ یہ میئرز تین سے پانچ بار تک لگاتار اپنے اپنے شہر کے میئر رہے ہیں۔ امریکہ میں کم از کم سات ایسے میئرز اب بھی اپنے دفتر میں کام کر رہے ہیں جو چالیس سال سے زیادہ عرصے سے لگاتار منتخب ہو رہے ہیں ریاست کینٹیکی کے شہر بون ولی کا میئر چارلس لانگ پچھلے پچپن سال سے یہ عہدہ سنبھالے ہوئے ہے۔ یہاں لوگ کارکردگی کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے شہروں کی صورت بدل کر رکھ دی ہے۔ ہمارے ہاں صرف ایک ٹرم کے لیے منتخب ہونے والوں نے اپنی ذاتی مالی حالت تبدیل کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ خرابیاں امریکہ میں بھی ہیں مگر یہاں شہری حکومتوں کا معاملہ تادیر دونمبری سے نہیں چل پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ریپبلکن ریاستوں میں ڈیموکریٹ میئرز اور ڈیموکریٹ ریاستوں میں ریپبلکن میئرز جیت جاتے ہیں۔ عوام ووٹ دیتے وقت کانگرس کا ممبر اپنی پارٹی اور میئر مخالف پارٹی کا منتخب کر لیتے ہیں۔ امریکی شہری حکومتوں کو اسی چیز نے متوازن رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں جیسا معاملہ نہیں کہ میئر ملتان کا ہو اور نامزدگی لاہور سے آئے۔ اگر بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کی امید نہ ہو تو سپریم کورٹ کے ا حکامات کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کروائے جائیں۔ دنیا بھر میں شہری حکومتوں کا نظام بہتری کی طرف اور ہمارے ہاں تنزلی کی طرف گامزن ہے۔ مسئلہ سیاسی مداخلت‘ ترجیحات اور پیداگیری کا ہے۔ ملتان کا ایک واقعہ آئندہ سہی۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں