نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

شاہراہِ گریہ …(I)

یہ بات تو طے ہے کہ ایک غلطی دوسری غلطی کا جواز نہیں بن سکتی۔ ایک غلطی اگلی غلطی کے لیے بہانہ نہیں بن سکتی۔ ہاں البتہ دونوں مل کر دو غلطیاں ضرور بن جاتی ہیں۔ ملک عزیز پاکستان میں ہونے والی خرابیاں ہر حال میں اپنی جگہ خرابیاں ہی رہیں گی۔ امریکہ میں ہونے والی خرابیاں‘ برائیاں اور غلطیاں پاکستان میں ہونے والی کسی خرابی‘ برائی یا غلطی کے لیے نہ تو جواز ہے اور نہ ہی ایسا سوچنا چاہیے۔ پاکستان میں ہونے والی خرابیاں اپنی جگہ خرابیاں ہیں اور امریکہ میں ہونے والی خرابیاں اپنی جگہ خرابیاں ہیں۔ ایک خرابی کو دوسری خرابی کے لیے کوئی وجہ یا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ دونوں خرابیاں ہیں اور اگر دونوں جگہ وقوع پذیر ہو رہی ہیں تو دو خرابیاں ہیں تاہم میرے لیے زیادہ اہم خرابی وہ ہے جو پاکستان میں ہو رہی ہے کہ میں اس سے براہ راست متاثر ہو رہا ہوں۔ میں اس کا مشق ستم کا بنیادی شکار ہوں۔ 
امریکی خرابیوں کو اجاگر کرنے کا مقصد اس امریکی پہلو کو سامنے لانا ہے جس سے ''متاثرین امریکہ‘‘ ہمیں کبھی آگاہ نہیں کرتے۔ امریکہ سے آنے کے بعد ہمیں مزید احساس کمتری کا شکار بناتے ہیں اور ہمہ وقت یہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ اعلیٰ سیاست‘ انسانی اقدار اور قانون کی عملداری تو بس صرف امریکہ اور یورپ میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ بحیثیت قوم ہمیں ڈانٹ پھٹکار‘ طعنہ زنی اور گالیاں دینے پر آ جاتے ہیں۔ ہماری خرابیاں ضرور درست ہونی چاہئیں مگر اپنی برائیوں کو اجاگر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ مغرب کی منافقت‘ زیادتی‘ جھوٹ اور مکر و فریب کو پراپیگنڈے کے خوشنما لفافے میں ڈال کر اس کی جھوٹی تشریح اور غلط تشہیر کی جائے۔ مغرب کا اقوام عالم پر ظلم و بربریت اور خصوصاً امریکی استحصال تاریخ کا ایسا بدنما صفحہ ہے جو اس کے حال کی مانند نہایت قبیح صورت ہے اور جب بعض پاکستانی حضرات پاکستان کی نفی‘ مذمت اور برائی کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ بعض ایسی چیزوں میں موازنہ کرتے ہوئے ڈنڈی مارتے ہیں جہاں خود امریکہ دنیا بھر میں سب سے شرمناک ریکارڈ کا حامل ہے تو اس بدترین تاریخی خیانت پر غصہ آنا فطری عمل ہے۔ امریکی خرابیوں کا تعلق اس جھوٹ اور مکر و فریب سے ہے جس سے مغرب زدہ ذہنیت ہمیں ہمیشہ احساس کمتری میں مبتلا کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ امریکی خرابیاں پاکستانی حکمرانوں کے لیے نہ تو جواز ہیں اور نہ ہی راہ فرار کا راستہ۔ لیکن جب امریکہ پوری دنیا کو عموماً اور تیسری دنیا کو خصوصاً انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے طے کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق احکامات کی چھڑی سے ہانکنے کی کوشش کرتا ہے تو خود امریکہ کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ایک قدرتی عمل ہے۔ دنیا جہان کو اپنی طے کردہ تشریحات سے اخلاقیات کا درس دینے اور انسانی حقوق کے بارے میں ہدایات جاری فرمانے والے امریکہ بہادر کی زور زبردستی دیکھتا ہوں تو مجھے امریکہ کی تاریخ میں موجود ''ٹریل آف ٹیئرز‘‘ یعنی آنسوئوں کی شاہراہ یاد آ جاتی ہے‘ جس کے متاثرین آج بھی اپنے حقوق‘ اپنی زمین اور اپنی شناخت کے لیے فریادی ہیں۔ 
میں بلال پراچہ سے ملنے کے لیے اوکلاہاماسٹی پہنچا۔ ڈاکٹر بلال پراچہ نہایت ہی متحرک شخص ہیں ا ور امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کو ہمہ وقت کسی نہ کسی حوالے سے مصروف عمل رکھتے ہیں۔ پہلے امریکی ریاست پنسلوینیا کے شہر پٹس برگ میں تھا اور وہی کچھ کرتا تھا۔ اب امریکی ریاست اوکلاہاما کے صدر مقام اوکلاہاماسٹی میں ہے اور حسب معمول انہی کاموں میں مبتلا ہے۔ یہاں اس نے ایک پاک امریکن تھنکرز فورم بنا رکھا ہے اور اس فورم کے حوالے سے امریکہ میں موجود پاکستانیوں کے درمیان بہترین رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان کے مجموعی تاثر کو بہتر کرنے میں مصروف ہے۔ میں بلال پراچہ کو محض ایک دن کے لیے ملنے کی غرض سے اوکلاہاما پہنچا... رات گئے تک گپ شپ کے بعد اگلے روز اوکلاہاما کے دوسرے بڑے شہر ٹُلسا جا پہنچے جہاں خالد عطا ہمارا منتظر تھا۔ دوپہر کو خالد عطا کہنے لگا کہ آج آپ کو ٹلسا میں موجود ''چکاسائو کلچرل سنٹر‘‘ میں لے چلتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں امریکن نیٹوز (American Natives) یعنی ریڈ انڈینز کے بارے ایک نہایت عمدہ عجائب گھر ہے۔ یہاں ریڈ انڈینز‘ جنہیں اب امریکن انڈینز یعنی امریکی ہندی یا امریکن انڈینز امریکن نیٹوز یعنی قدیم متوطن امریکی کہا جاتا ہے‘ کے بارے میں بہت بڑا تہذیبی اور ثقافتی ذخیرہ موجود ہے۔ یہ اوکلاہاما میں موجود مشہور امریکی انڈین جنگجو قبیلے چکاسائو (Chickasaw) کے نام پر ہے اور یہ قبیلہ اب بھی ٹلسا سے کچھ فاصلے پر اپنے علاقے میں رہتا ہے۔ میں ہنسا اور کہا ''اپنے علاقے میں‘‘۔ میسیپی‘ ابہامہ اور ٹینیسی سے کھدیڑ کر یہاں 
لائے گئے امریکہ کے اصل وارث۔ امریکہ کی طرف سے اعلان کردہ ''پانچ مہذب قبیلوں‘‘ میں سے ایک۔ 1832ء میں امریکی پارلیمنٹ کے منظور کردہ تاریخ انسانی کے بدترین قانون ''انڈین ریموول ایکٹ 1830ء‘‘ کے تحت زبردستی ہانک کر لائے گئے حقیقی امریکی باشندے۔ ڈھائی کروڑ ریکٹر زمین کے حصول کے لیے فوج کی مدد سے گھروں سے نکال کر بندوق کے زور پر اپنی آبائی زمینوں سے بے دخل کر کے ساڑھے تین ہزار کلو میٹر دور طاقت کے ذریعے آباد کیے گئے ''پانچ مہذب قبیلے‘‘۔ بائیس سو میل پیدل اور ریڑھیوں پر ا ٓنے والے جنوب مشرقی ریاستوں کے اصل مالک چھیالیس ہزار مظلوم۔ یہ ساڑھے تین ہزار میل طویل راستہ جو امریکی ریاست ٹینیسی سے شروع ہوتا ہے اور خشکی میں کینٹکی‘ اینوائے‘ مورتی‘ ارکنساس سے گزر کر اور پانی کے راستے دریائے ٹینیسی‘ مسی سیپی اور دریائے ارکنساس کے ذریعے ریاست ابہامہ‘ ٹینیسی‘ کینٹکی‘ مسوری‘ مسی سیپی‘ لاکنساس سے ہوتے ہوئے اوکلاہاما پہنچنے والے چیروکی‘ کریک‘ چوکٹائو‘ سیمی نول اور چکاسائو قبائل۔ یہ راستہ تاریخ میں ''ٹریل آف ٹیئرز‘‘ یعنی شاہراہِ گریہ کے نام سے موسوم ہوا۔ میں اس میوزیم میں جا کر کیا کروں گا؟ محض ایک اور ملال۔ اس سے بڑھ کر اور کیا حاصل ہوگا؟ 
یورپ سے آنے والی سفید فام اقوام نے اصل امریکی باشندوں یعنی امریکی نیٹوز کے ساتھ جو کچھ کیا‘ وہ اتنا دردناک اور طویل ہے کہ اس پر ہزاروں صفحات بھی کم ہیں۔ مگر ان کے ساتھ لوٹ مار اور توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ یورپ سے آنے والے ڈاکوئوں اور لٹیروں نے تو جو سلوک کرنا تھا کیا‘ ان کے ساتھ امریکی حکومت‘ امریکی صدور اور امریکی پارلیمنٹ نے جو کچھ کیا‘ وہ مہذب کہلانے والوں اور قانون کی سربلندی کی بات کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ بابائے امریکہ اور پہلے صدر جارج واشنگٹن نے ریڈ انڈین سرداروں کو ایک تحریری یقین دہانی کرائی جس میں لکھا ''تمہاری بچی کھچی زمینوں کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ کوئی ریاست یا فرد تمہاری زمین نہیں خرید سکے گا جب تک کہ امریکی حکومت کے زیر نگرانی ایسا معاملہ طے نہ ہو جائے۔ امریکی حکومت ریڈ انڈینز سے فریب دہی کے کسی معاہدے میں فریق نہیں بنے گی‘‘(1790ء)۔ بعدازاں جارج واشنگٹن کے دست راست‘ امریکی اعلان آزادی کی دستاویز کے خالق‘ پہلے نائب صدر اور تیسرے صدر امریکہ تھا مس جیفرسن نے ایک اور تحریری یقین دہانی کرائی کہ ''اس بات کو یقینی سمجھنا چاہیے کہ ریڈ انڈینز سے ایک فٹ زمین بھی ان کی رضامندی کے بغیر نہیں لی جائے گی۔ ان کے حقوق کی تقدیس کو امریکہ اور یورپ میں ہر سوچنے سمجھنے والا محسوس کرتا ہے‘‘۔ پھر اینڈریو جیکسن نامی امریکی صدر نے ریڈ انڈینز کو 1826ء میں ایک اور تحریری ضمانت دیتے ہوئے تحریر کیا کہ ''تمہارے سفید فام برادران تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچائیں گے‘ نہ ہی تمہاری زمینوں پر کسی ملکیت کا دعویٰ کریں گے۔ تم اور تمہارے بچے اس وعدے پر اس وقت تک یقین رکھ سکتے ہیں جب تک گھاس اگتی رہے یا پانی امن اور افراط سے بہتا رہے‘‘۔ امریکہ میں آج بھی گھاس اگتی ہے اور پانی افراط سے بہتا ہے مگر ریڈ انڈینز اپنی زمینوں سے محروم کیے جا چکے ہیں۔ یہ کام اسی ضمانت کنندہ اینڈریو جیکسن کے ہاتھوں اپنے انجام پر پہنچا۔ (جاری) 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں