نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانےکےوسیع مواقع ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاک مصرفرینڈشپ گروپ پارلیمانی روابط کےفروغ کےلیےمتحرک ہے،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

نئے سال کے مبارک بھرے پیغامات، بسمہ اور بارہ سالہ انس

نیا سال شروع ہو چکا ہے اور آج اس کا تیسرا دن ہے۔ گزشتہ تین چار دن سے نئے سال کے پیغامات نے باقاعدہ''پھاوا‘‘ کر کے رکھ دیا ہے۔ حساب کتاب اور سال مہینے کی گنتی کی حد تک تو یہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ اکتیس دسمبر2015ء اوریکم جنوری 2016ء کی صبح بھی ایک جیسی تھی اور شام بھی۔ ٹی وی کی خبریں بھی ویسی ہی تھیں اور صبح کے اخبارات بھی۔ غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ عدم انصاف‘ عدم تحفظ‘ بھوک‘ افلاس ‘ جھوٹ‘ دعوے‘ فریب‘ لوٹ مار، قبضے اور حکمرانوں کی لاپروائی، غرض کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ حتیٰ کہ حکمرانوں نے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود جنوری2016ء کے لیے دسمبر2015ء کی پٹرول کی قیمتیں برقرار رکھ کر اس بات میں مزید اپنا حصہ ڈالا کہ نئے سال کی صبح بالکل گزشتہ سال جیسی ہو گی۔
چوہدری بھکن ملا تو کہنے لگا کہ اس بار حکمرانوں کو شاید نئے سال کی آمد کا احساس نہیں ہوا یا انہیں یاد نہیں رہا۔ ویسے بھی گھر کی شادی کی مصروفیت اور اوپر سے مودی صاحب کی اچانک اور '' بغیر اطلاع‘‘ آمد نے اتنی گڑ بڑی کر دی تھی کہ میاں صاحبان کے پہلے سے ہی پھولے ہوئے ہاتھ پائوں مزید پھول گئے۔ اب بھلا ایسے میں نئے سال کی آمد کسے یاد رہتی ہے۔ گزشتہ سال اس لحاظ سے کیونکہ پرسکون اور ٹھنڈا ٹھار تھا اس لیے حکمرانوں نے یکم جنوری 2015ء کو پٹرول کی قیمتیں کم کی تھیں۔ گزشتہ سے پیوستہ دسمبر یعنی دسمبر2014ء میں پٹرول کی قیمت 84.53 روپے فی لٹر تھی جو جنوری2015ء میں کم کر کے 78.28 روپے فی لٹر کر دی گئی تھی مگر اس بار شادی پرخرچہ ہی اتنا ہو گیا تھا کہ پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا نہ تو خیال آیا اور نہ ہی اتنے خرچے کے بعد قیمتیں کم کرنے کا کوئی جواز ہی باقی بچا ۔ 
میں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں کا شادی کے خرچے سے کیا تعلق ہے؟ تو چوہدری نہایت ہی ڈھٹائی سے ہنسنے لگ پڑا اور کہنے لگا کہ یہ ویسے ہی بات سے بات نکل آئی تھی۔ تمہیں تو پتا ہے کہ بات سے بات نکلنے کا نہ کوئی وقت ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مقام، بس بات سے بات نکل آئی تو نکل آئی۔ اس میں اتنا سنجیدہ ہونے کی کیا ضرورت 
ہے؟ میں نے کہا چوہدری تو کہتا تو ٹھیک ہے، اچھا یہ بتا کہ یہ جو بسمہ کراچی میں پروٹوکول میں پھنس کر اپنی جان سے گئی تھی کیا اس کی قربانی کا کوئی نتیجہ نکلے گا؟ کیا اس سال یعنی2016ء میں حکمرانوں کے اعلیٰ و ارفع ہونے اور عوام کے ذلیل و خوار ہونے میں کوئی کمی آئے گی؟ کیا حکمرانوں کا ''موٹر کیڈ‘‘ کچھ چھوٹا ہو گا؟ کیا ''روٹ لگنے‘‘ کی اصطلاح میں کوئی کمی واقع ہو گی؟ کیا اس سال کسی بچے کے رکشہ یا ویگن میں پیدائش کا امکان صفر ہو گا؟ کیا حکمران ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہوئے مریضوں کے لیے باعث آسانی کے بجائے باعث تکلیف و آزار بننے سے باز آ جائیں گے؟
چوہدری آگے سے دانت نکال کر ہنسنے لگ پڑا۔ میں نے کہا، چوہدری یہ کوئی ہنسنے کی بات ہے؟ چوہدری جواباً کہنے لگا، بھلا یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ تمہیں اچھا بھلا پتا ہے کہ ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات پر‘ ایسے چھوٹے چھوٹے لوگوں کے مرنے پر نہ کوئی تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی یہ باتیں چار دن بعد کسی کو یاد رہتی ہیں۔مہذب معاشرہ ہوتا تو نثار کھوڑو کے بیان پر کہ''ہمیں تو بلاول کی جان سب سے عزیز ہے‘‘ ایسا کہرام مچاتا اور ایسی کلاس لیتا کہ نثار کھوڑو سیاست سے توبہ تائب ہو جاتا مگر نثار کھوڑو بھی قائم ہے، اس کی وزارت بھی قائم ہے اور سائیں قائم علی شاہ بھی قائم ہے۔سائیں نے بسمہ کے والد فیصل بلوچ کو لیاری کے ایم پی اے کے گھر بلا کر تعزیت کی۔ آپ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ حکمران تعزیت کرتے وقت بھی اپنا پروٹوکول مجروح نہیں ہونے دیتے، ایسے میں تم یہ اُمید کیسے کر سکتے ہو کہ کوئی تبدیلی آئے گی‘ پروٹوکول ختم ہو گا‘ سائرن والی گاڑیاں بند ہونگی‘ آگے جاتے ہوئے پولیس کے ڈالے میں سوار ایلیٹ فورس والے ساتھ گزرنے والوں کو باہرلٹک لٹک کر توہین آمیز انداز میں ہاتھ سے اشارے کر کے ایک طرف ہونے کا نہیں کہیں گے۔ سب کچھ اسی طرح چلے گا مگر میں ایک بات تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔ یہ جو تم نے کہا ہے کہ بسمہ کی قربانی کا کوئی نتیجہ نکلے گا؟ تو عزیزم یہ قربانی ہے ہی نہیں۔ قربانی از خود دی جاتی ہے، سوچ سمجھ کر‘ جان بوجھ کر اور اختیاری جذبے کے تحت دی جانے والی قربانی ہی دراصل قربانی ہوتی ہے۔ یہ والی قربانی یعنی ہسپتال کے دروازے پر پروٹوکول میں پھنس کر دی جانے والی جان کو قربانی کہنا ایسے ہی ہے جیسے بقول تمہارے دوست جوئیہ کا کوئی پولیس والا عید کے روز آپ کی گاڑی کے کاغذات چیک کرنے کے بہانے روک کر آپ سے دو سو روپے مار لے اور آپ اسے عیدی قرار دے دیں یا کوئی پاکٹ مار آپ کی جیب کاٹ کر آپ کا بٹوہ لے جائے اور آپ جیب پر ہاتھ مار کر کہیں کوئی بات نہیں جان کا صدقہ نکل گیا۔ یہ قربانی بھی عیدی اور صدقے جیسی ہے جو آپ سے زبردستی وصول کی گئی ہے۔ یہ قربانی نہیں حادثہ ہے، بلکہ حادثہ بھی نہیں سانحہ ہے، بلکہ سانحہ بھی نہیں سنگین جرم ہے۔ آپ اسے قربانی کہہ کر پہلے جرم کی فہرست سے نکالتے ہیں پھر معافی میں لپیٹ کر بخش دیتے ہیں اور الٹا میڈیا میں اچھالتے ہیں کہ اتنا بڑا آدمی چل کر گھر آیا تھا۔ ایک معذرت اور اللہ اللہ خیر سلاّ!
سیاستدانوں کو تو ہر بات میں سے فائدہ تلاش کرنے کی عادت ہے۔ بسمہ جان سے گئی، قائم علی شاہ نے تعزیت کر لی، بلاول نے معذرت کرلی، سارے لوگ نثار کھوڑو کے بیان کو بھول گئے۔ عمران خان نے پروٹوکول اور حکمرانوں کے خلاف بیان داغ کر اپنا پوائنٹ سکور کر لیا۔ اگلے روز پرویز خٹک نے جی ٹی روڈ بند کر کے عمران خان کے بیان کی ساری اخلاقی ہوا نکال دی۔ اب 2016ء آ گیا ہے، سب کچھ اسی طرح ہوتا رہے گا جس طرح2015ء میں ہوتا رہا ہے‘ 2014ء میں ہوتا رہا ہے اور علیٰ ہذالقیاس گزشتہ کئی عشروں سے ہوتا آ رہا ہے۔ یہ تو بعض سیاستدانوں کی محض''بدقسمتی‘‘ ہوتی ہے کہ اس روز کوئی نامعقول اور جلد باز بچہ وقت کی نزاکت اور پروٹوکول کی مجبوریوں کا خیال کیے بغیر کبھی رکشے میں اور کبھی ویگن میں تولد پذیر ہو جاتا ہے۔ یہ محض ملک الموت کی ضدہے کہ وہ اس روز پروٹوکول میں پھنسے ہوئے مریض کو بھی معاف نہیں کرتا اور اس قدر ''پھس پھسا‘‘ میں بھی جان نکالنے سے باز نہیں آتا۔ تمہیں یاد ہے ناں جب تمہاری ایک عزیزہ ملتان میں چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بائی پاس کے لیے داخل تھیں، تب میاں شہباز شریف نے دل کے اس ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔ تم اس سارے واقعے کے عینی شاہد ہو کہ کیا ہوا تھا؟ سارا ہسپتال سیل کر دیا گیا تھا۔ ایمرجنسی بند کر دی گئی تھی۔ غضب خدا کا، دل کے ہسپتال کی ایمرجنسی کا راستہ بند کر دیا گیا۔ مریضوں کے لواحقین کا ہسپتال میں داخلہ بند ہو گیا۔ مریضوں کا کھانا وغیرہ ان تک نہ پہنچ سکا۔ یہ محض میاں شہباز شریف کی خوش قسمتی تھی کہ اس روز ملک الموت کا ادھر پھیرا نہ لگا اور بچت ہو گئی وگرنہ ایسے میں اگر کوئی شدید ایمرجنسی والا مریض آتا اور دروازے کے باہر پھنس کر اپنی جان دے دیتا تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہوتی؟ جس روز حکمرانوں کی شاہی سواری کے باعث ٹریفک میں پھنس کر کوئی بچہ رکشے میں پیدا نہیں ہوتا تو یہ اس بچے کی مہربانی ہے۔ اگر کوئی مریض اس روز دم نہیں توڑتا تو یہ ملک الموت کی دیگرمصروفیات کا کمال ہے۔ حکمرانوں کی ذاتی حرکات تو ایسی ہیں کہ ہر روز کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہونا چاہیے۔ ویسے ایک بات بتائو، سارے میڈیا نے بسمہ کے واقعے کو تو ٹھیک کوریج دی‘ اخبارات نے ہائی لائٹ کیا، الیکٹرانک میڈیا نے کہرام مچایا، یہ سب بجا ہے، لیکن اشفاق کے ساتھ کیا بیتی‘ کسی کو یاد ہے؟ اشفاق نے جس طرح جان دی، کسی کو احساس ہے؟کسی اخبار نے اس سانحے کی دوسرے دن خبر لگائی؟ کسی چینل نے اس پر بریکنگ نیوز چلائی؟ کسی حکمران نے اس پر اللہ سے معافی مانگی؟ کسی ارب پتی حکمران نے اپنی آمدنی غریبوں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا؟ معاشرے کو اپنی لاعلمی ‘ بے رحمی اور لاتعلقی کا کوئی احساس ہے؟
اشفاق ملتان کے محلہ شریف پورہ کا رہائشی تھا۔ پاور لوم پرکام کرنے والا دیہاڑی دار مزدور۔ لوڈشیڈنگ اور دیگر کئی عوامل کے باعث پاور لومز انڈسٹری برے حال میں ہے۔کام نہ ملنے اور کم اجرت کے باعث چار بچوں کا باپ نہایت ہی برے حال میں زندگی گزار رہا تھا۔ بڑا بیٹا بارہ سالہ انس ساتویں‘ دس سالہ بیٹی علیشہ پانچویں اور سات سالہ علیزہ تیسری کلاس میں پڑھتی تھی، تین سالہ ایمان ابھی سکول نہیں جاتی تھی۔ بارہ سالہ انس ہر کلاس میں پوزیشن لیتا تھا اور غربت کا یہ عالم تھا کہ اس کی فیس ٹیچرز بھرتے تھے۔ آہستہ آہستہ زندگی سے دور جاتے ہوئے اس خاندان کے سربراہ نے روز روز کے مرنے کے بجائے ایک روز مرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے چاروں بچوں اور بیوی کو زہر دے کر گلا دبایا اور خود پھندے سے جھول گیا۔ پولیس جب گھر پہنچی تو ایک کمرے کے گھر کے کونے سے صرف اور صرف غربت نظر آ رہی تھی۔ اینٹوں کے سہارے قائم ایک پلنگ‘ اسی کمرے میں قائم کچن میں گنتی کے چند برتن‘ ایمان کے خالی گندے فیڈر اور چند کپڑے، ساتھ پڑی ہوئی چار معصوم بچوں اور ایک بیوی کی لاش، ساتھ پھندے سے لٹکتا ہوا اشفاق ہمارے معاشرے کے منہ پر طمانچے مار رہا تھا‘ حکمرانوں پر چار حرف اور اس نظام پر لعنت بھیج رہا تھا۔
سنا ہے پچھلے سال ایک شادی میں ایک خاتون نے ستر کروڑ روپے کے زیورات پہنے ہوئے تھے۔ یہ سب کچھ گزرے سال سے تعلق رکھتا تھا۔ دعا تو ہرگز نہیں مگر گمان ہے اگلا سال بھی ایسا ہی ہو گا۔ ایسے میں میں نئے سال کے ان بے شمار مبارک بھرے پیغامات کا کیا کروں جو میرے فون میں محفوظ ہیں؟ میں نے کلاس میں اول آنے والے انس کو کبھی نہیں دیکھا مگر اسے دیکھے بغیر محسوس تو کر سکتا ہوں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں