نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لائف لائن صارفین کی کیٹیگری 50سے100یونٹ کردی گئی
  • بریکنگ :- بجلی صارفین کے لئے ازسرنو سبسڈی سے متعلق فیصلہ جاری
  • بریکنگ :- نیپرانےوزارت توانائی کی درخواست پرپہلےمرحلےکی منظوری دےدی
  • بریکنگ :- صارفین پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ڈالا گیا، نیپرا
  • بریکنگ :- 300سے700کے سلیب کو چار کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا رہا ہے،نیپرا
  • بریکنگ :- وزارت توانائی کوفیز2اور3کےمالی اثرات کی تفصیلات شیئرکرنےکی ہدایت، نیپرا
  • بریکنگ :- اتھارٹی میرٹ پرفیز 2 اور فیز 3 کے معاملات کی جانچ پڑتال کرے گی، نیپرا
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اسلام آباد میں دو دن

ان دو دنوں میں اتنی افواہوں سے پالا پڑا کہ خدا کی پناہ، جس کے پاس چار منٹ بیٹھا وہیں اسی ایک موضوع پر گفتگو شروع ہو گئی۔ دھرنے سے شروع ہوئی تو آرمی چیف کی طرف چلی گئی۔ توسیع سے لے کر نئے آرمی چیف کی تقرری اور پھر دھرنے کے انجام و عواقب سے ہوتی ہوئی ڈان میں چھپنے والی سیرل المیڈا کی سٹوری تک آن پہنچی۔ لیکن سارا معاملہ اسی دائرے میں گھومتا رہا۔ اس لیے میں اسے ایک ہی موضوع قرار دے رہا ہوں کہ گفتگو کا سرا جدھر سے بھی شروع ہوا دوسری طرف ختم ہوا۔ ڈان کی سٹوری سے دھرنے تک اور درمیان میں آرمی چیف کا معاملہ یا پھر دھرنے سے ڈان کی سٹوری تک اور درمیان میں آرمی چیف کی تقرری یا توسیع کا مسئلہ۔
نام کیا لینے اور اشارے کیا دینے؟ ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا تو اس کے محکمے سے متعلق اس معاملے پر بات ہوئی۔ وہ دوست کہنے لگا ہم نے تو سرکار کو کہا ہے کہ اس معاملے کو طاقت کے بجائے گفتگو اور افہام و تفہیم کے ذریعے‘ یعنی سیاسی طریقے سے حل کرے کہ اگر معاملہ لمبا ہو گیا تو خراب ہو جائے گا۔ درمیان میں نئے آرمی چیف کے تقرر یا موجودہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ لٹک گیا تو مسئلہ بنے گا اور اگر اس دوران طے کیا تو کسی اور خرابی کا باعث بنے گا۔ میں نے پوچھا آخر ابھی تک ایک پنجابی محاورے کے مطابق ''کوئی کٹا کٹی برآمد کیوں نہیں ہوا؟‘‘ وہ دوست کہنے لگا اس پر بھی مختلف افواہ نما خبریں ہیں۔ ایک خبر یہ ہے کہ فوج نے تین ناموں پر مشتمل ایک پینل وزارت دفاع کے توسط سے وزیراعظم صاحب کو بھجوایا تھا مگر ایک عرصے سے اپنی مرضی کا آرمی چیف مقرر کرنے کے عادی وزیراعظم صاحب نے یہ سمری قبول نہیں کی اور ایک نیچے والے جنرل (اس دوست نے تو سنیارٹی کے حساب سے نمبر بھی بتایا تھا مگر میں وہ نمبر حذف کر رہا ہوں) کا نام تجویز کیا مگر اسے فوج والوں نے قبول نہیںکیا۔
میاں صاحب نے پہلے جنرل پرویز مشرف اور بعد ازاں جنرل ضیاء الدین بٹ اور پھر جنرل راحیل شریف، ان تینوں کا انتخاب ازخود اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت کیا۔ پہلے نے ان کی چھٹی کروا دی۔ دوسرے یعنی جنرل ضیاء الدین بٹ کا انتخاب ان کے جوڑوں میں بیٹھ گیا کہ اگر وہ ''انجینئر‘‘ جنرل کے بجائے ''سولجر‘‘ جنرل کا تقرر فرما دیتے تو شاید انہیں جدے نہ جانا پڑتا اور معاملہ ازخود حل ہو جاتا مگر اپنے صوابدیدی اختیارات کو اندھے کی لاٹھی کی طرح گھمانے کے شوق میں مبتلا میاں نوازشریف کو اپنا یہ انتخاب بھی بہت مہنگا پڑا اور جناب بٹ صاحب چیف آف آرمی سٹاف بنتے بنتے اپنے ریٹائرمنٹ کے Benefits سے بھی محروم ہو گئے۔ اللہ جانے انہیں ابھی اپنے بقایا جات ملے ہیں یا نہیں۔ بہرحال ان کا تیسرا انتخاب خود جنرل راحیل شریف تھے اور اب وہ خود انہیں سے تنگ و پریشان ہیں اور اسی پریشانی میں وہ ایک بار پھر اپنے صوابدیدی اختیار کو اندھے کی لاٹھی کی طرح گھمانے پر مصر ہیں۔ اللہ خیر کرے۔
ایک نہایت ذمہ دار نے بتایا کہ میاں صاحب جنرل راحیل شریف کو ایک سال کی توسیع دینے پر نہ صرف تیار ہیں بلکہ ان کو یہ تجویز بھی بھجوا چکے ہیں مگر جنرل راحیل شریف نے یہ توسیع لینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسی دوست کا کہنا تھا کہ میاں صاحب ایک سال کی توسیع دے کر ان کو 2018ء میں ہونے والے الیکشن سے بہرحال پہلے فارغ کرنا چاہتے ہیں، لیکن دوسری طرف جنرل راحیل شریف ایک سال کی توسیع لینے پر تیار نہیں۔ میں نے پوچھا اگر تین سالہ توسیع دی جائے تب؟ وہ دوست کہنے لگا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم اس پر میاں صاحب راضی ہی نہیں، لہٰذا اس پر فی الوقت گفتگو بے معنی ہے۔ لیکن ایک اور مزے کی خبر ہے کہ مختلف کارنرز سے دو تین مختلف جنرلوں کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے کا ''دانہ‘‘ ڈالا گیا تھا اور مقصد یہ تھا کہ دو تین طرف سے حمایت حاصل کر کے ''مدمقابل‘‘ کو کمزور کیا جا سکے مگر بیڑہ غرق ہو سیریل المیڈا کی سٹوری کا، اس نے فوج کو بطور ادارہ ایک بار پھر اکٹھا کر دیا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح جنرل (ر) جہانگیر کرامت کی جب میاں نوازشریف نے قبل ازوقت چھٹی کروائی تھی اور حسب روایت کسی اچھے طریقے سے رخصت کرنے کے بجائے غیر روایتی انداز میں جس طرح فارغ کیا‘ اس پر راولپنڈی والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ کسی آرمی چیف کی اس انداز میں رخصتی قبول نہیں کی جائے گی اور میاں صاحب نے نوشتہ دیوار پڑھنے کے بجائے پھر وہی بات دہرائی اور نتیجہ یہ نکلا کہ آرمی چیف کو رخصت کرتے کرتے خود جدے جا پہنچے۔ سیرل المیڈا کی سٹوری نے ایک طرف پاکستانی فوج کا عالمی سطح پر جو امیج خراب کیا ہے وہ تو کیا ہے لیکن اس سٹوری نے خود میاں صاحب کے لیے جتنی مشکلات پیدا کی ہیں ان کا عام آدمی کو اندازہ نہیں مگر میاں صاحب کے تمام قریبی لوگوں کے چہروں پر جو پریشانی ہے وہ اندر کی کہانی سنا رہی ہے۔ سب کے رنگ فق ہیں‘ چہرے اترے ہوئے ہیں اور دل سہمے ہوئے ہیں۔
اس سٹوری کے بارے میں بھی بڑی کہانیاں ہیں مگر ان تمام تر کہانیوں میں سب سے معتبر کہانی (سنانے والوں کے معتبرین کو سامنے رکھتے ہوئے) یہ ہے کہ یہ خبر اسلام آباد کے سب سے اونچے گھر سے فیڈ کروائی گئی ہے۔ اونچے سے مراد جغرافیائی بھی ہے اور غیر جغرافیائی بھی۔ اس گھر میں ایک پرائیویٹ میڈیا سیل ہے جسے سرکاری خرچے پر چلایا جا رہا ہے۔ اسے ایک بڑے آدمی کی بیٹی کنٹرول کرتی ہے اور اس کی تکنیکی مدد تمہارا ایک بیورو کریٹ دوست کرتا ہے جو میڈیا مینجمنٹ کا ایکسپرٹ ہے۔ میں نے پوچھا اس کا نام کیا ہے؟ وہ دوست کہنے لگا میرا منہ نہ کھلوائو، تمہیں اچھی طرح پتا ہے میں کس کی بات کر رہا ہوں۔ پہلے وہ پنجاب سرکار میں تھا اب تین سال سے وزیراعظم ہائوس میں ہے۔ میں نے کہا چلیں اتنا بھی شکر ہے کہ تمہارے منہ سے وزیراعظم ہائوس نکل گیا ہے وگرنہ تم تو یہ بھی بتانے پر راضی نہیں تھے۔ بھلا اتنے سخت سنسر میں کسی عام شریف آدمی کو خاک سمجھ آئے گی۔ وہ کہنے لگا اس موضوع کا تعلق عام شریف آدمی سے ہے بھی نہیں۔ عام شریف آدمی کو مہنگائی‘ بے روزگاری‘ امن و امان‘ صحت‘ تعلیم‘ پولیس گردی اور پٹواری سے نجات کی صورت درکار ہے، اسے سیرل المیڈا، آرمی چیف کی تقرری یا توسیع اور دھرنے سے کوئی غرض نہیں، یہ سب آپ جیسوں کے چونچلے ہیں اور آپ سے اسی زبان میں گفتگو ہو گی۔
میں نے پوچھا یہ ہوا کیسے؟ وہ کہنے لگا کس بات بارے پوچھ رہے ہو۔ میں نے کہا ڈان والی سٹوری کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ میں تب امریکہ اور پورے بیس دن تک ٹی وی اخبار وغیرہ سے محفوظ رہا ہوں۔ بیٹی کے پاس ٹولیڈو میں تھا۔ گھر میں ٹی وی پر سارا دن صرف سیفان کے کارٹون چلتے تھے۔ اخبار کے لیے صرف اپنے فون پر دنیا کھول کر دیکھ لیتا تھا اور اس کے علاوہ نہ کسی دوست سے رابطہ تھا اور نہ کسی سے بحث۔ شفیق سے بھی صرف امریکی صدارتی الیکشن اور لوکل صورتحال پر گفتگو ہوئی تھی۔ اس سٹوری کو پڑھا اور بس۔ باقی کہانی کا پتا نہیں۔ اب آیا ہوں تو سوچا کہ تھوڑا پتا ہی کر لیں کہ کیا حقیقت ہے۔ وہ دوست کہنے لگا اس کہانی کو دراصل ایک خاص مقصد کے لیے فیڈ کروایا گیا تھا۔ مقصد تھا کہ پنڈی والوں کو دفاعی مقام پر لے جایا جاتا اور وہ مدافعانہ قسم کی صورتحال کا شکار ہو جاتے مگر اس سٹوری کے باعث عالمی سطح پر ہماری ساری محنت پر اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فوج کی قربانیوں پر جو پانی پھرا اور جس طرح کی جگ ہنسائی ہوئی، ہندوستانی موقف کی گواہی اور سچائی کو تقویت ملی اس نے اس ساری سازش کا نہ صرف رُخ ہی تبدیل کر دیا بلکہ جن کو مدافعانہ صورتحال کا شکار کرنا تھا وہ بالکل الٹ ہو گیا اور لینے کے دینے پڑ گئے۔ پہلے سے عالمی تنہائی کا شکار پاکستان کے لیے یہ سٹوری عالمی سطح پر بطور مملکت جتنی تباہ کن ثابت ہوئی اب یہ اس سے بڑھ کر حکومت کے لیے دبائو‘ شرمندگی اور پریشانی کا باعث بن چکی ہے۔
معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سٹوری کے پیچھے تمہارا ایک دوست وفاقی وزیر‘ ایک فارغ شدہ وزیر مملکت‘ وزیراعظم ہائوس میں موجود دو بیورو کریٹ جن کا تعلق میاں صاحبان کے ذاتی وفادار سرکاری ملازمین میں ہوتا ہے، شامل ہیں۔ اس کے اہتمام میں وزیراعظم ہائوس میں موجود ایک سرکاری خرچے پر چلنے والی ذاتی میڈیا سیل کا حصہ ہے۔ پہلے یہ سٹوری ایک بہت بڑے میڈیا گروپ کے پاس لے جائی گئی۔ نچلی سطح کے لوگوں نے تو فوراً ہاتھ کھڑے کر دیئے کہ یہ ہماری اوقات سے بڑی کہانی ہے پھر خلیجی ممالک میں مقیم مالک سے بات ہوئی تو اس نے بھی انکار کر دیا۔ کہنے لگا ابھی میری ان سے صلح نہیں ہوئی، محض جنگ بندی ہوئی ہے اور میں اسی میں امان پاتا ہوں۔ اب مجھ میں یہ حوصلہ نہیں کہ ایک بار پھر اگر اکڑ دکھائوں، البتہ میں آپ کو گائیڈ ضرور کر سکتا ہوں۔ سو اس نے یہ سٹوری لے کر ڈان کی مالکن کے پاس جانے کی تجویز دی اور سٹوری بنا کر سیرل کے ہاتھ دے دی گئی جس نے اس کو اوپر نیچے کیا اور فائل کر دی۔ ردعمل میں جو ہوا وہ تمہارے سامنے ہے۔
میں نے پوچھا تو اب بنے گا کیا؟ کہنے لگا وہی بنے گا جو مشاہد اللہ خان کے ساتھ بنا تھا۔ اس بارے دو لوگ قربانی کا بکرا بنیں گے اور گمان ہے کہ یہ دونوں تمہارے دوست ہونگے۔ میں نے پوچھا دھرنے کا کیا بنے گا؟ کہنے لگا حال خراب ہے۔ کس کا؟ میں نے استفسار کیا۔ کہنے لگا ہر دو فریقین کا لیکن زیادہ برا حکمرانوں کا ہے۔ اگر مریدکے والے آ گئے تو سمجھو پنڈی والے آ گئے۔ میں نے پوچھا پنڈی والے کیسے آئیں گے؟ کہنے لگا یہی اصل مسئلہ ہے۔ طریقہ نہیں مل رہا۔ اگر طریقہ مل جاتا تو گیم کب کی ختم ہو گئی ہوتی۔ گوٹی یہیں پھنسی ہوئی ہے لیکن اگلے دو ہفتے بڑے اہم ہیں۔ اللہ خیر کرے۔ میں نے کہا اللہ اس ملک کو کسی اور ایڈونچر سے محفوظ رکھے۔ پہلے تین بار بھی کچھ ایسا نہیں ہوا جسے سامنے رکھتے ہوئے چوتھی بار کسی اچھائی کی امید رکھی جائے۔ جمہوریت چلنی چاہیے تاہم جمہوریت کو بھی چاہیے کہ وہ کرپشن کو تحفظ دینے کا فریضہ مزید سرانجام دینے سے باز آجائے۔ وہ دوست کہنے لگا یہ بڑی مشکل بلکہ ناممکن قسم کی خواہش کا اظہار ہے۔ حکمرانوں نے اگر کرپشن نہیں کرنی تو حکومت کرنے کا کوئی ایک فائدہ بتائو؟ میں نے تب بھی کافی سوچا اور اب بھی یہی سوچ رہا ہوں مگر پاکستان کے تناظر میں کوئی ایک وجہ بھی دماغ میں نہیں آ رہی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں