نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سندھ میں لاقانونیت بڑھتی جارہی ہے، حلیم عادل شیخ
  • بریکنگ :- سندھ میں 59 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، حلیم عادل شیخ
  • بریکنگ :- سندھ کےسرکاری اسکولوں میں اساتذہ ہیں نہ ہی سہولیات، حلیم عادل شیخ
  • بریکنگ :- صوبائی حکومت سرکاری اسکولوں کو بند کررہی ہے، حلیم عادل شیخ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ری پبلیکن، ڈیموکریٹک پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی

کل امریکی تاریخ کے سب سے عجیب و غریب الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ اس صدارتی الیکشن کو اہم، مشکل، یادگار یا فیصلہ کن نہیں کہا جا سکتا، حتیٰ کہ اسے مکمل طور پر فضول بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ میں آج کل ایک جملہ چل رہا ہے کہ ''حالیہ صدارتی انتخابات میں آپ کے پاس دو اُمیدواروں میں سے ایک اُمیدوار چننے کا محدود اختیار باقی ہے جن میں سے ایک کی کمزوری 'ای میل‘ اور دوسرے کی 'فی میل‘ ہے‘‘۔
صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہو چکی ہے اور آج کے پوائنٹس کے مطابق ہیلری کو ٹرمپ پر محض دو پوائنٹس کی برتری ہے اور امریکی صدارتی انتخاب کے طریقہ کار میں ان پوائنٹس کی اہمیت عام جمہوری انتخاب میں جہاں ایک آدمی ایک ووٹ کے حساب سے گنتی میں آتا ہے سے کافی مختلف ہے۔ جیتنے والے امریکی صدر کو دوسو ستر الیکٹرول ووٹ درکار ہیں اور حالیہ جائزے کے مطابق بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو دو سو ستر ووٹ کا حصول ممکن ہو چکا ہے اور وہ صدر منتخب ہو سکتا ہے لیکن شفیق اس بات سے اتفاق کرنے کے باوجود ایک جگہ پر آکر اختلاف کر رہا ہے۔ شفیق کے نقطہ نظر کا ذکر بعد میں، فی الحال عمومی صورتحال پر بات ہو گی۔
شفیق پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ ٹرمپ دراصل امریکی اسٹیبلشمنٹ کا ''ٹرمپ کارڈ‘‘ ہے اور امریکی مقتدر حلقے بالعموم اور امریکی ''وار مشینری‘‘ بالخصوص ٹرمپ جیسے آدمی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی غرض سے مکمل سپورٹ کر رہے ہیں کہ انہیں ایک عقل سے پیدل ذاتی فہم و فراست سے محروم اور ''معمول‘‘ ٹائپ صدر کی ضرورت ہے، جس سے وہ جو چاہیں، منوائیں اور استعمال کریں۔ اس کے ذریعے وہ اپنی تمام وہ باتیں پوری کر سکتے ہیں جو کسی ذہین اور فہیم صدر سے منوانا مشکل ہی نہیں شاید نا ممکن ہیں۔ ٹرمپ کی صدارتی اُمیدوار کے طور پر نامزدگی سے قبل پارٹی کے اندرونی 
پرائمری انتخابات سے لے کر آخر تک اسے اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور مدد حاصل رہی مگر سب اندرخانے تھا اور بظاہر نظر نہیں آرہا تھا، لیکن اب ایف بی آئی کی طرف سے ایسے موقع پر جب انتخابات میں محض چار چھ دن باقی رہ گئے تھے، ہیلری کی متنازعہ (اس متنازعہ سے مراد اس قسم کی متنازعہ نہیں جس قسم کی آڈیو اور وڈیو ٹیپس ٹرمپ سے وابستہ ہیں۔ یہ ای میلز بطور وزیر خا رجہ مختلف امور پر اپنے سیکرٹریٹ کے افراد کو ہدایت وغیرہ پر مبنی تھیں جن میں سے بعض ہیلری نے اپنے پرائیویٹ براؤزر سے کی تھیں اور بہت سے معاملات کو امریکی سرکاری موقف، طریقہ کار اور پالیسی سے ہٹ کر طے کرنے جیسی ہدایات پر مشتمل تھیں) ای میلز کو لیک کروایا گیا اور اب الیکشن سے چند دن قبل امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے ان ای میلز کی ایک اور قسط نہ صرف جاری کی ہے بلکہ اس پر ہیلری سے پوچھ کچھ بھی کی ہے۔ اس نئے دباؤ سے ہیلری کی پوزیشن بلاشبہ متاثر ہوئی ہے اور یہ حرکت اس بات کی غماز ہے کہ ٹرمپ کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے وگرنہ اس Critical موقع پر سرکاری تحقیقاتی ایجنسی پارٹی نہ بنتی اور بیلنس کو خراب کرنے میں ملوث نہ ہوتی، مگر یہ سب کچھ طے شدہ سکرپٹ کا حصہ تھا اور شاید ان ای میلز کو اسی موقعے کے لیے سنبھال کر رکھا گیا تھا۔ بصورت دیگر ان کے بارے میں مہینوں پہلے بھی پوچھا جا سکتا تھا کہ یہ معاملہ کوئی کل پرسوں پیش نہیں آیا اور یہ ای میلز ایف بی آئی کے پاس سالوں، مہینوں سے محفوظ پڑی تھیں۔
چند روز پہلے ہیلری کلنٹن کی کامیابی کافی واضح تھی مگر اب کئی ریاستوں میں صورتحال بالکل تو نہیں لیکن کافی بدل گئی ہے اور وہ ریاستیں جن میں ہیلری کو معمولی برتری حاصل تھی ''ٹائی‘‘ ہو چکی ہے۔ امریکی ریاست مین میں دونوں برابر ہیں۔ مشیگن میں بھی دونوں کا پلڑا بالکل برابر ہو چکا ہے۔ نیو ہمپشائر میں ٹرمپ کو معمولی برتری ہے اوہاہیو اور یوٹاہ میں بھی ٹرمپ کو برتری حاصل ہے اور وسکائسن میں دونوں برابر ہیں۔
الیکشن کی حالیہ صورتحال بڑی غیر واضح اور غیر یقینی ہے۔ مستقبل میں مشرق وسطی، چین اور روس کے بارے میں امریکی مقتدر حلقے جس جارحانہ پالیسی کا تعین کئے بیٹھے ہیں اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہیلری امریکی اسٹیبلشمنٹ کے لیے شاید کسی صورت قابل قبول نہیں کہ اس کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں بہرحال سابق امریکی صدر بل کلنٹن موجود ہوگا۔ بے شک اس کی سرکاری حیثیت ''فرسٹ جنٹلمین‘‘ کی ہو گی مگر وہ اپنی اہلیہ اور امریکی صدر ہیلری کلنٹن کا بہرحال مشیر ضرور ہوگا۔ پاکستان میں تو لوگ کلنٹن کو محض مونا لیونسکی والے معاملے کے تناظر میں دیکھتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکیوں کی رائے میں کلنٹن امریکہ کی تاریخ کے چند بہترین صدور میں سے ایک ہے اور امریکہ کا کامیاب ترین صدر بھی۔ اس کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی سنجیدہ امریکیوں کے نزدیک بہت زیادہ اہم ہے اور وہ اسے ہیلری کا مثبت پوائنٹ سمجھتے ہیں۔ امریکی مقتدر حلقوں کے لیے یہی ''پلس پوائنٹ‘‘ دراصل''مائنس پوائنٹ‘‘
ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھی ہوئی ہیلری کو اس طرح اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکیں گے جس طرح وہ ٹرمپ کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بلا تردد استعمال کر سکتے ہیں۔
ایف بی آئی نے ان ای میلز کے مسئلے پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے، جو دوسرے لفظوں میں مسز کلنٹن کی ساکھ کو برباد کرنے کی بھرپور کوشش ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی متوقع جارحانہ پالیسیوں کی ٹرمپ جیسا متعصب، سنگل ٹریک اور امریکی قوم کی برتری کے زعم میں مبتلا شخص ہی پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے کہ وہ انہی خطوط پر سوچتا ہے جو منصوبے امریکی اسٹیبلشمنٹ مستقبل قریب میں چین، روس، پاکستان، ایران، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بارے میں بنائے بیٹھی ہے۔ ایک عقل و خرد سے عاری شخص ہی ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے ان کا آلہ کار بن سکتا ہے۔ فارن پالیسی میں امریکی کانگرس کا کردار بڑا ثانوی ہے جبکہ صدر کا کردار سب سے اہم بھی ہے اور حاوی بھی۔ اس وقت اپنے منصوبوں کے حوالوں سے امریکی اسٹیبلشمنٹ اور اپنی سوج کے اعتبار سے ٹرمپ ایک صفحے پر ہیں اور ایک دوسرے کے لیے زبردست معاون۔
مسز کلنٹن کی کامیابی کے امکانات اب بھی ٹرمپ کی نسبت روشن ہیں لیکن وہ یقینی کامیابی والی صورتحال اب خواب ہو چکی ہے۔ ایک ہفتے پہلے تک Toss up ریاستیں یعنی جہاں ابھی معاملہ برابر برابر تھا اور کسی کی بھی جیت کے امکانات برابر تھے، ان ریاستوں میں فلوریڈا، ایری زونا، نواڈا، شمالی کیرولائنا، اوہائیو اور آئیووا شامل ہیں۔ دوسری طرف وہ ریاستیں جہاں ہیلری کی جیت کے امکانات روشن تھے اب Toss up میں آچکی ہیں، ان میں پنسلوینیا، مشی گن، ورجینیا اور نیو ہمپشائر شامل ہیں۔ تازہ اطاعلات کے مطابق ٹرمپ نیو ہمپشائر میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر دیگر ریاستوں میں ہیلری جیت بھی جائے تو ووٹوں کی تعداد 259-269 ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں ریاست مین کا کردار بڑا اہم ہو جاتا ہے۔ اگر اس ریاست میں ہیلری جیت بھی جائے تو ایک ووٹ ٹرمپ کو ملنے کا قوی امکان ہے۔ مین اور نبراسکا امریکہ کی دو ریاستیں ہیں جہاں جیتنے والے اُمیدوار کو ریاست کے پورے (مین کے الیکٹرول سسٹم میں کل چار ووٹ ہیں اور نبراسکا کے پانچ ووٹ۔ یہ ووٹ ایک ہی اُمیدوار کو ملنے کے بجائے کانگریشنل ڈسٹرکٹ متھڈ (Congressional District Method) کے تحت تقسیم بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک بڑا پیچیدہ طریقہ کار ہے جس کا یہ کالم متحمل نہیں ہو سکتا) ملنا ضروری نہیں بلکہ ان چار اور پانچ ووٹوں میں سے ایک ووٹ دوسرے اُمیدوار کو بھی مل سکتا ہے جو ہار جیت میں بڑا اہم کردار انجام دے سکتا ہے۔ ٹرمپ کو یہی ووٹ ملنے کا قوی امکان ہے اور اس طرح ٹرمپ کے 270 ووٹ ہو جاتے ہیں۔
بقول شفیق یہ ساری کاغذی کیلکولیشن ہے۔ ایک پوائنٹ ہم لوگ بھول جاتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی امریکہ کی ن لیگ ہے اور ری پبلیکن پارٹی پی ٹی آئی یعنی ڈیموکریٹک پارٹی منظم، الیکشن لڑنے اور جیتنے کے حربوں سے لیس اور ووٹروں کو گھر سے نکالنے کی ازحد ماہر۔ دوسری طرف ری پبلیکن پارٹی ہے، الیکشن لڑنے کے بیشتر حربوں سے عاری، ووٹر کو گھر سے نکالنے کے فن سے محروم اور early votes ڈلوانے کے فن میں صفر۔ امریکہ میں اب تک تقریباً تین کروڑ قبل از الیکشن ووٹ ڈالے جا چکے ہیں، جو ہمیشہ کی طرح تقریباً یکطرفہ ہوں گے اور اس بار اتنی زیادہ تعداد میں ڈالے گئے پیشگی ووٹ ہیلری کی جیت میں بڑا اہم کردار سرانجام دیں گے۔ ممکن ہے امریکیوں کو میرے اس تقابل پر اعتراض ہو تو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہماری مسلم لیگ امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی ہے۔ پی ٹی آئی والیو! کچھ سِکھ لؤ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں