نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈٹیم کی واپسی پربھارتی میڈیا جشن منارہاہےیابیگم صفدراعوان،فیاض الحسن
  • بریکنگ :- بیگم صفدراعوان کی والد کےنقش قدم پرچلنے کی روش برقرار ،فیاض الحسن
  • بریکنگ :- ثابت ہو گیا شریف خاندان مودی کاسچا دوست ہے،فیاض الحسن چوہان
  • بریکنگ :- مودی سےمحبت ،وطن سے دشمنی ،شریف خاندان نے اپنے عمل سے ثابت کیا،فیاض الحسن
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

نام نہاد سمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد

پنجابی کا ایک محاورہ ہے ''انہے ہتھ بٹیرہ آنا‘‘ یعنی اندھے کے ہاتھ بٹیر لگ جانا۔ تفصیل یہ ہے کہ کوئی اندھا کھیتوں میں جا رہا تھا کہ اس کے پاؤں کے نیچے بٹیر آ گیا اس نے اسے پکڑ لیا (اب راوی نے یہ ہرگز نہیں بتایا کہ جو بٹیر زمین پر چپکا بیٹھا رہے تاوقتیکہ وہ اندھے شخص کے پاؤں کے نیچے آ جائے اس کی جسمانی کیفیت اور صحت کی حالت کیا تھی) اور گاؤں میں مشہور کر دیا کہ وہ بٹیروں کا شکاری ہو گیا ہے۔ یہی حال اس وقت کورونا کے معاملے میں حکومت کا ہے۔
اسے صرف اور صرف خداوند کریم کا فضل و کرم ہی کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد بھی بہت کم ہو گئی ہے اور اموات کی تعداد بھی۔ تاہم اس خدائی مدد کاسہرا حسبِ معمول حکومت اپنی زور دار پالیسیوں اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے سر باندھ رہی ہے۔ ہماری ہر حکومت ایسے معاملات میں سارا سہرا اپنے سر باندھ دیتی ہے اور خرابیاں جانے والوں پر ڈال دیتی ہے۔ جب اس ملک میں خشک سالی کے دوران بارشیں ہوئیں تو اس قدرتی امداد کا سہرا وفاقی وزیر ماحولیات زرتاج گل نے اپنی ایک تقریر میں نہایت ذومعنی انداز میں مسکراتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت اور عمران خان کے سر باندھ دیا۔ جب بے وقت بارشوں نے اس ملک کے کئی علاقوں میں تباہی مچائی تب موصوفہ ان بارشوں کو حکمرانوں کے غلط کاموں پر اللہ کی طرف سے عذاب ماننے کے بجائے کہیں غائب ہو گئیں۔ یہی حال کورونا والے معاملے میں ہوا ہے۔
حکومت کورونا کی وبا کے کنٹرول میں آنے اور اموات میں کمی کا سارا سہرا اپنے سمارٹ لاک ڈاؤن کے سر باندھ رہی ہے حالانکہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مہربانی کے علاوہ اور کچھ نہیں وگرنہ ہم نے بطور حکمران اور اس سے بڑھ کر بطور قوم جتنی بے احتیاطیاں کی ہیں اور جتنی خلاف ورزیاں کی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اب بھلا کوئی عقلمند اِن سے پوچھے کہ کیا کورونا وائرس سوموار‘ منگل‘ بدھ‘ جمعرات اور جمعہ کو چھٹی پر ہوتا تھا؟ اور کیا یہ وائرس صرف لانگ ویک اینڈ یعنی ہفتے اور اتوار کو مار دھاڑ پر نکلتا تھا کہ ان دو دنوں میں نام نہاد سمارٹ لاک ڈاؤن نے اس کو پچھاڑ کر رکھ دیا اور اس کے دانت کھٹے کر دیئے؟ اللہ جانے یہ راز حکومت کو کس نے بتایا کہ ہفتے کے سات دنوں میں یہ وائرس پانچ دن رخصت پر رہتا ہے اور محض دو دن کیلئے گھر سے نکلتا ہے اور لوگوں سے لپٹ جاتا ہے اگر ان دو دنوں میں احتیاط کی جائے تو ہفتے کے باقی والے پانچ دن بالکل خیریت سے گزریں گے اور وائرس صاحب منہ سر لپیٹ کر سوئے رہیں گے۔ ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دو دن والا سمارٹ لاک ڈاؤن بھی ایک بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ تھا۔ بے شمار لوگوں نے ان دو دنوں میں کاروبار اور دفاتر بند رکھنے کی حکومتی ہدایت کو بھی جوتے کی نوک پر رکھا ہوا تھا اور دیگر پانچ دنوں میں بھی اوقات کی پابندی کے حکم کو ہوا میں اڑائے رکھا تھا۔
اس سمارٹ لاک ڈاؤن میں گنتی کے چند بڑے بڑے برانڈز‘ ہوٹل‘ ریستوران‘ شادی گھر‘ سینما ہالز‘ تھیٹرز اور دیگر اجتماعات پر پابندی کا کسی حد تک اطلاق ہوا وگرنہ دیگر کاروبار پولیس کی مدد سے چلتے رہے۔ اس سارے نام نہاد سمارٹ لاک ڈاؤن میں سب سے زیادہ چاندی پولیس کی ہوئی اور اس نے بھتہ لے کر دکانیں اور کاروبار چلانے کی اجازت دیے رکھی‘ اسی طرح میں ذاتی طور پر عینی شاہد ہوں کہ جن دکانوں کو پہلے پانچ بجے شام اور بعد میں سات بجے شام کو بند ہونا تھا وہ رات دس گیارہ بجے تک کھلی رہیں۔ ہفتے اور اتوار کو بعض دلیر لوگ پوری دکان کھول کر اور تھوڑے کم ہمت لوگ پولیس کو مال پانی لگا کر آدھا شٹر اٹھا کر کاروبار چلاتے رہے۔ دکان صرف ان کی مکمل طورپر بند رہی جو بالکل ہی کمزور دل کے اور بزدل تھے یا پھر ان کے دل میں قانون کی پاسداری کا کوئی لحاظ اور مروت تھی۔ حکومتی رِٹ نامی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آئی۔
اب یہ نام نہاد سمارٹ لاک ڈاؤن بھی ختم ہوا اور قوم کی منافقت سے جان چھوٹی۔ نام نہاد اس لیے کہ اس دوران کسی نے بھی موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی کو تسلیم نہ کیا۔ اگر کسی نے اس حکم کو تسلیم بھی کیا تو اس صورت میں کہ اس نے اپنی موٹر سائیکل پر دو لوگ بٹھانے کے بجائے تین لوگ بٹھائے اور ڈبل سواری پر حکومتی پابندی کا مکمل احترام کیا۔ کسی نے سوشل ڈسٹنس یعنی سماجی فاصلے کا قطعاً کوئی خیال نہ رکھا اور بازاروں‘ مارکیٹوں اور دکانوں کے علاوہ دفاتر میں بھی کھوے سے کھوا چھلتا رہا۔ چند بڑے سٹورز کے علاوہ کسی نے بھی ماسک پہننے کی پابندی پر رتی برابر عمل نہ کیا۔ ہاں جو لوگ اس کی از خود پابندی کرتے رہے ان کی بات الگ ہے۔ سارے کا سارا سمارٹ لاک ڈاؤن حکومت اور عوام کے باہمی تعاون اور بھائی چارے سے چلتا رہا۔ نہ لوگوں نے حکومتی احکامات پر عمل کیا اور نہ ہی حکومت نے اپنے جاری کردہ احکامات کو صحیح طریقے سے نافذ کروانے کی کوشش کی۔ اب اس کے بعد بھی اگر کورونا کی وبا میں قابلِ ذکر کمی ہوئی ہے تو یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہیں تو اور کیا ہے؟
اب ماشا ء اللہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن نامی پابندیوں کا نام نہاد ڈرامہ سرکاری طور پر اپنے اختتام کو پہنچا۔ سینما ہال اور تھیٹر کھول دیئے گئے ہیں اور سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں بند ہیں۔ سرکار کا خیال ہے کہ کورونا وائرس کو تعلیم سے بہت دلچسپی ہے اور جونہی سکولز‘ کالجز اور یونیورسٹیاں کھلیں کورونا وائرس بھی اپنا بستہ اٹھا کر تعلیمی اداروں میں پہنچ جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا سینما ہال اور تھیٹر میں بیٹھنے والوں کی تعداد کسی تعلیمی ادارے کے کلاس روم میں بیٹھنے والے طلبہ سے کم ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں پہلے مرحلے پر کم از کم یونیورسٹی کی سطح پر تعلیمی سلسلے کو شروع کر دینا چاہئے تھا تاکہ یونیورسٹی کی سطح پر ایس او پیز کے ساتھ تعلیمی اداروں کو کھولنے کے بعد اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بتدریج کالج اور سکول کھولے جا سکتے تھے مگر حکومتی بزرجمہروں کے ان فیصلوں پر کیا کہا جا سکتا ہے؟
گزشتہ کئی ماہ سے جاری اس لاک ڈاؤن اور سمارٹ ڈاؤن کے دورانیے میں وہ کون سی بے احتیاطی ہے جو روا نہیں رکھی گئی؟ ایس او پیز کی وہ کونسی خلاف ورزی تھی جو نہیں کی گئی؟ وہ کونسی حکومتی ہدایت تھی جسے پامال نہیں کیا گیا ؟ ڈاکٹروں اور ماہرین کی وہ کونسی سفارش تھی جو رد نہیں کی گئی؟ وہ کونسی نااہلی تھی جو حکومتی ٹیم سے سرزد نہیں ہوئی؟ اور وہ کونسی حرکت تھی جو عوام نے نہیں کی؟ اب اس سب کے باوجود کورونا پر قابو پانے کا سہرا اپنے سر باندھنے کا حکومتی دعویٰ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ یہ صرف اور صرف معجزہ تھا۔ میرے مالک کا کرم تھا اور اس کی مہربانی وگرنہ برطانیہ‘ امریکہ‘ برازیل اور دیگر ترقی یافتہ مغربی ممالک کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ دور کیوں جائیں‘ بھارت میں ہم سے کہیں زیادہ سخت لاک ڈاؤن کے باوجود جو حال ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔
سمارٹ لاک ڈاؤن کا خاتمہ بنیادی طور پر معاشی صورتحال کے طفیل کیا جانے والا فیصلہ ہے مگر یار لوگوں نے اسے کورونا کے باقاعدہ اختتام کا اعلان سمجھ لیا ہے اور جو تھوڑی بہت احتیاطی تدابیر تھیں وہ بھی اختتام پذیر ہو گئی ہیں۔ لوگوں نے گزشتہ روز سے ماسک کو ایسے اتار پھینکا ہے جیسے موٹر وے کے آخری ٹال پلازہ پر ٹال ٹیکس ادا کرنے کے بعد ہم لوگ اپنی سیٹ بیلٹ کھولتے ہیں اور ایک اطمینان بھرا لمبا سانس لیتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس لاک ڈاؤن کے باقاعدہ خاتمے کے بعد ہونی والی بے اعتدالیوں کے طفیل ہم پر رحم کرے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں