نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف زیادتی کرنےوالا ہی قصوروارہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتاثرہ فردکبھی بھی اس واقعےکاذمہ دارنہیں ہوتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتعلق میرےبیان کوسیاق وسباق سے ہٹ کرلیاگیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انٹرویومیں پاکستانی معاشرےسےمتعلق بات ہورہی تھی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خواتین ہی نہیں بچوں کی اکثریت بھی جنسی جرائم کاشکارہورہی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پردےکاحکم صرف خواتین کےلیےنہیں مردوں کےلیےبھی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام میں پردےکامقصد معاشرےمیں بگاڑکوروکنا ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام خواتین کوعزت واحترام دیتاہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان میں جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کاامریکی نشریاتی ادارےکوانٹرویو
Kashmir Election 2021
"KMK" (space) message & send to 7575

امریکہ میں پٹواری نہیں ہوتے!

میں گزشتہ دو عشروں سے امریکہ جا رہا ہوں اور اس دوران درجنوں دوستوں سے کئی بار پوچھ چکا ہوں کہ کیا امریکہ میں زمینوں کے جھگڑے ہماری طرح نسل در نسل عدالتوں میں چلتے ہیں؟ کیا یہاں بھی ایک قطعہ زمین کی کئی عدد رجسٹریاں ہوتی ہیں؟ کیا امریکہ میں جعلی انتقال کا کوئی جھگڑا ہوتا ہے؟ لوگ دوسروں کی زمین پر قبضے کرتے ہیں؟ کیا یہاں زمین کی پیمائش میں ہیرپھیر ہوتا ہے؟ سب کا ایک ہی جواب ہے کہ کم از کم انہوں نے ایسا کوئی واقعہ نہیں سنا۔ امریکی قوانین، آئین اور رسوم و رواج کے بارے میں عزیزم شفیق میرے تمام دوستوں سے زیادہ باعلم اور بھیدی قسم کا بندہ ہے (کم از کم میرے خیال میں)۔ میں نے اس سے ایک دن اس موضوع پر بڑی سیر حاصل بریفنگ لی۔ مختصراً یہ سمجھ میں آیا کہ زمین اور جائیداد کی خرید و فروخت کا نظام بڑا فول پروف ہے اور ہر مرحلے پر حکومتی چیک اسے ایسی تمام قباحتوں سے محفوظ رکھتا ہے جس کے باعث ہم اہل پاکستان دیوانی عدالتوں میں عشروں تک بلکہ نسل در نسل خواروخستہ ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے شفیق سے بنیادی وجہ دریافت کی تو وہ کہنے لگا: امریکہ میں پٹواری نہیں ہوتے۔
قارئین! میں اس لفظ پٹواری کے استعمال سے کئی پڑھنے والوں کے ذہن میں آنے والی بدگمانی کا ابتدا میں ہی خاتمہ کرنا چاہتا ہوں۔ میری پٹواری سے خدانخواستہ کوئی اور مراد نہیں تھی بلکہ اس سے مراد اصلی اور نسلی پٹواری ہی تھا جو برصغیر پاک و ہند میں صدیوں سے زمین کے معاملات کا مالک و مختار چلا آ رہا ہے۔ جس کے بستے میں موجود رجسٹر پٹوار شیر شاہ سوری کے زمانے سے کھاتہ، کھتونی، موضع، کھیوٹ، مسل میعادی، خسرہ گرداوری اور عکس شجرہ جیسی اصطلاحات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ویسے بھی کم از کم شفیق سے اس لفظ کا کوئی اور مفہوم منسوب ہی نہیں کیا جا سکتا کہ شفیق میرے تمام دوستوں میں سب سے زیادہ کٹر قسم کا متوالا ہے اور متوالا بھی کوئی ایسا ویسا؟
شفیق مجھ سے کہنے لگا، ادھر امریکہ میں شاید کسی نے پٹواری کا لفظ بھی نہیں سنا ہوگا۔ اسی لیے یہاں زمین اور جائیداد کے معاملات کسی قسم کی ہیراپھیری اور قباحت سے بچے ہوئے ہیں۔ میں نے شفیق سے پوچھا کیا واقعی امریکہ میں کسی نے پٹواری کا نام نہیں سنا؟ شفیق ہنس کر کہنے لگا: اب آپ سنجیدہ موضوع سے ہٹ رہے ہیں۔ میں نے مسکرا کر کہا: یقین کرو میں بھی سنجیدہ موضوع پر ہی بات کر رہا ہوں اور میرے خیال میں کم از کم ایک پٹواری تو امریکہ میں ضرور بالضرور موجود ہے۔ اب شفیق کے حیران ہونے کی باری تھی۔ پوچھنے لگا: یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے اسے بتایاکہ میں دو تین سال قبل شوکت فہمی کے ساتھ نیویارک میں جیکسن ہائٹس پر گاڑی میں گھوم رہا تھا کہ میری نظر اچانک سامنے جانے والی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر پڑی۔ حیرانی سے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ گاڑی کی نمبر پلیٹ پر سات حرفی نمبر بڑا حیران کن تھا۔ یہ نمبر PATWARI تھا۔ میں نے شوکت فہمی کو کہا کہ وہ گاڑی کا نمبر دیکھے۔ شوکت ہنس کر کہنے لگا: میں یہ نمبر دو بار پہلے بھی دیکھ چکا ہوں اور اس کے بارے میں جان بھی چکا ہوں۔ یہ ایک پاکستانی کی گاڑی ہے اور اس نے یہ کمپیوٹرائزڈ نمبر کافی مہنگا خریدا ہے۔ ''شوق دا کوئی مل نئیں‘‘۔ اللہ جانے اس گاڑی والے نے یہ خاص نمبر کیوں خریدا؟
یہ ساری باتیں دراصل مجھے اس لیے یاد آئی ہیں کہ امریکہ میں ڈائون ٹائون (پرانا شہر یا شہر کا وسط سمجھ لیں) اور اپارٹمنٹس کے علاوہ زیادہ تر گھروں کے درمیان نہ کوئی دیوار ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ حد بندی۔ پندرہ بیس فیصد گھر ایسے ہوتے ہوں گے جن کے درمیان لکڑی کی بالکل سادہ سی باڑ لگی ہوتی ہے۔ یہ بھی کسی قبضے وغیرہ کے خوف سے نہیں بلکہ گھر کے پالتو جانوروں، بچوں یا لان وغیرہ کی دیکھ بال کے حوالے سے لگائی گئی ہوتی ہے۔ بیشتر گھروں کے درمیان نہ کوئی باڑ ہے اور نہ دیوار۔ فرنٹ پر بھی کسی قسم کی کوئی دیوار وغیرہ کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے۔ سڑک کے کنارے پر گھر کے سامنے ایک ڈبہ نما لیٹر بکس لگا ہوتا ہے اور بس۔ سڑک سے گھر کے مرکزی دروازے تک عموماً ایک پختہ سا راستہ ہوتا ہے اور باقی جگہ پر گھر کی وسعت کے حساب سے گھاس اور پھولوں کی کیاریاں ہوتی ہیں۔ سبزہ ایسی چیز ہے جو امریکہ میں بہ افراط ہے۔
برادر بزرگ اعجاز احمد بتانے لگے کہ انہوں نے اپنے گاڑیوں کے کاروبار کے لیے برلب سڑک دو اڑھائی ایکڑ اراضی خریدی اور اس کی حفاظتی چاردیواری (بنیادی طور پر صرف دو طرف دیوار ہے۔ ایک طرف پختہ اور دوسری طرف لکڑی کی پتلی دیوار ہے، جبکہ باقی دو اطراف میں لوہے کی جالی لگی ہوئی ہے) بنائی۔ اس دوران اس زمین کی پچھلی دیوار‘ جو لکڑی سے بنائی گئی ہے اور ساتھ والے متصلہ مکان کے درمیان واقع ہے‘ دیوار بنانے والوں نے سیدھا کرکے بنا دی جبکہ اصل میں پچھلا کونا تین فٹ اندر تھا۔ مالک مکان نے برادر بزرگ کو بتایا کہ اس طرف سے کونا ٹیڑھا تھا جبکہ اسے سیدھا کرتے ہوئے میری تین فٹ زمین آپ کی طرف چلی گئی ہے۔ اعجاز بھائی نے اس سے کہا کہ اب دو صورتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ میں دیوار گرا کر اسے بمطابق آپ کی ملکیتی زمین کی پیمائش کے کروا دیتا ہوں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں آپ کو اس فالتو زمین کی ادائیگی کر دوں۔ ہمسایہ یہ کہنے لگا، تیسری صورت بھی ہے اور وہ سب سے آسان اور قابل عمل ہے کہ آپ آگے سے دیوار کو تین فٹ پیچھے کر لیں (ابھی آگے والی دیوار بنی نہیں تھی) تو آپ کا اور میرا رقبہ برابر ہو جائے گا۔ برادرم نے بخوشی اس کی یہ تجویز قبول کر لی۔ بعد ازاں دونوں صاحبان نے زمین کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں نئی حد بندی کے مطابق تبدیلی کروا لی اور معاملہ نہایت ہی خوش اسلوبی سے باہمی طور پر طے پا گیا۔ ہمارے ہاں ہوتا تو اول تو فریقین عدالت میں چلے جاتے یا پٹواری کے ہاتھوں خوار ہوتے۔
میری بیٹی نے ٹولیڈو کے نواحی قصبے پیپریز برگ میں جو گھر خریدا ہے اس کے چاروں طرف کسی قسم کی نہ تو کوئی دیوار ہے اور نہ ہی حد بندی۔ سامنے تو چلیں سڑک ہے لیکن بقیہ تین اطراف سے بھی کوئی چیز ایسی نہیں جسے چاردیواری وغیرہ قرار دیا جا سکے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا ہے کہ آپ کے گھر کی زمین کی حدود کہاں تک ہیں۔ اس نے کہا: ادھر دیکھیں‘ ہمارے اور ساتھ والوں کے گھر کے لان میں گھاس کی کٹائی میں فرق ہے۔ جہاں گھاس کی کٹائی میں فرق ہے بس وہی ہمارے گھر کی حد ہے۔ پیچھے والی جانب گھر کا لان اور سکول کی گرائونڈ باہم متصل ہیں اور حد بندی گھاس کی کٹائی کے فرق کے علاوہ یہ ہے کہ جہاں ڈھلان ختم ہوتی ہے اور گرائونڈ سیدھی ہو جاتی ہے یہ ہمارے گھر کی آخری حد ہے۔ سیدھی گرائونڈ سکول کی ہے۔ درمیان میں نہ کوئی دیوار ہے اور نہ ہی کوئی باڑ ہے۔ دوپہر کے بعد سکول بند ہو جاتا ہے اور ساتھ کے گھروں والے بچے سکول کی گرائونڈ میں کھیلتے ہیں اور سکول کے پارک میں مزے کرتے ہیں۔ وہاں لگے ہوئے جھولوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور جمناسٹک کرتے ہیں۔ نہ کوئی روک ٹوک ہے اور نہ کوئی پابندی۔ پھر میری بیٹی نے گھر کے پچھواڑے والے لان کے بائیں کونے پر لگے ہوئے ایک بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: بھلا اس بورڈ پر کیا لکھا ہوا ہے؟ میں نے دیکھا‘ اس سفید بورڈ پر سیاہ رنگ سے لکھا ہوا تھا: Do Not Mow‘ اس بورڈ کے پیچھے سکول کے لان کا ایک کافی بڑا حصہ ایسا تھا جس میں جھاڑیاں اور پھولوں کے پودے بے ترتیب انداز میں اُگے ہوئے تھے۔ اس قطعے کے بیچوں بیچ لکڑی کے دو تین بینچ پڑے ہوئے تھے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں