نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم نے 4 ماہ کی تاریخ دےدی،لگتاہےموسم بہارکاانتظارہے،حسان خاور
  • بریکنگ :- 2023 تک اپوزیشن کیلئےخزاں کا موسم ہی چلتارہےگا،حسان خاور
  • بریکنگ :- لانگ مارچ کااعلان صرف اعلان ہی رہےگا،ترجمان پنجاب حکومت
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

فیصلہ کن لمحات

دنیا کا کام ہے ہر آن بدلتے رہنا‘ جو بدلتا نہیں وہ غیر متعلق ہو جاتا ہے‘ یعنی اُس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ ہم جس کائناتی نظام کا حصہ ہیں ‘اُس میں سبھی کچھ ہر آن بدل رہا ہے۔ تبدیلیوں کے وقوع پذیر ہوتے رہنے کے اس عمل پر ہم میں سے کسی کا کوئی اختیار نہیں۔تاریخ کا ہر دور گواہ ہے کہ بہت کچھ شعوری سطح پر ہوتا آیا ہے‘ یعنی کسی نے باضابطہ خواہش کے تحت کوشش کی اور کچھ کیا‘ مگر دوسرا بہت کچھ ایسا بھی ہوتا آیا ہے ‘جو کسی بھی اعتبار سے شعوری کوشش کا نتیجہ تھا نہ ہے۔ بہت سے چھوٹے واقعات مل کر ایک بڑے واقعے کو جنم دیتے ہیں اور یوں دنیا میں حقیقی نوعیت کی ایسی تبدیلی رونما ہوتی ہے ‘جو بہت کچھ بھی بدل دیتی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑی طاقتوں کے درمیان بالا دستی کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے کشمکش جاری رہی ہے۔ اس لڑائی میں چھوٹی اور کمزور ریاستوں کی شامت آ جاتی ہے۔ تاریخ کا کوئی بھی دور بڑی طاقتوں کی طرف سے بالا دستی بڑھانے کی کوششوں سے خالی نہیں رہا۔ ہاں‘ کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ دو یا دو سے زائد بڑی طاقتیں اپنی طاقت میں اضافے کیلئے آپس میں لڑتی ہیں تو چھوٹی اور کمزور ریاستوں کی جان پر بن آتی ہے‘ جن کی کوئی بساط ہی نہ ہو اُن ریاستوں کو کسی نہ کسی کا ساتھ دینا ہی پڑتا ہے۔ جب بڑے لڑتے ہیں تو غیر جانب دار رہنے کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہی کیفیت ہے۔ 
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو فطری علوم و فنون میں پیش رفت کے اعتبار سے نقطۂ عروج کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ہر شعبے میں ممکنہ پیش رفت ہوچکی ہے۔ کچھ نیا ایجاد نہیں ہو رہا۔ ہاں‘ ندرت کا بازار گرم ہے۔ اب‘ سارا زور پہلے سے موجود ایجادات کو زیادہ سے زیادہ کارآمد اور تجارتی اعتبار سے زیادہ بارآور بنانے پر دیا جارہا ہے۔ عام آدمی کو جو سہولتیں عمومی سطح پر دستیاب ہیں‘ وہ تو بادشاہوں کو بھی میسر نہ تھیں۔ خیر‘ بات ہو رہی تھی خصوصی عہد میں جینے کی۔ ہر وہ عہد تاریخ میں اہم رہا ہے‘ جس میں ایک نظام دم توڑ رہا ہو اور اُس کے متبادل کی تیاری بھرپور انداز سے جاری ہو۔ جنگیں بھی اسی کھاتے میں ہوتی رہی ہیں۔ جب بڑی طاقتیں ٹکراتی ہیں تو نیا دور جنم لیتا ہے۔ کسی ایک بڑی طاقت کے کمزور پڑنے سے جو خلاء پیدا ہوتا ہے‘ اُسے پُر کرنے کے لیے کئی طاقتیں آگے بڑھتی ہیں‘ اُن میں رسّا کشی ہوتی ہے اور زور آزمائی کے نتیجے میں کوئی ایک طاقت مکمل طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اس عمل میں کئی ریاستیں تباہی کے عمل سے بھی گزرتی ہیں۔ اس وقت بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ یورپی طاقتوں نے کم و بیش 300 برس تک دنیا پر حکومت کی اور کئی خطوں کو تاراج کیا۔ اُن کی چیرہ دستیوں نے کئی ممالک کو مکمل بربادی سے دوچار کیا۔ جب اُن کی طاقت میں کمی واقع ہوئی تو جنگوں کا نیا اور طویل دور شروع ہوا۔
بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی جس نے یورپ کو تباہی سے ہم کنار کیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں جرمنی اور اُس کی ہم نوا ریاستوں کے لیے جس تذلیل کا سامان کیا گیا اُسی کی کوکھ سے دوسری جنگِ عظیم نے جنم لیا۔ دوسری جنگ ِ عظیم نے یورپ کو ایک طرف ہٹاکر امریکا کو آگے بڑھنے کا موقع عطا کیا۔ دوسری طرف روس بھی علاقائی ریاستوں کو ساتھ لے کر سوویت یونین کی شکل میں بیلینسنگ ایکٹ کیلئے میدان میں آیا۔ دونوں بڑی طاقتوں میں سرد جنگ شروع ہوئی جو کم و بیش چار عشروں تک چلی۔ 
ایک زمانہ تھا کہ ٹیکنالوجیز مغرب اور دیگر ترقی یافتہ خطوں تک محدود تھیں۔ اب یہ کیفیت نہیں رہی۔ اس کے نتیجے میں امریکا اور یورپ کی بالا دستی محدود ہوتی جارہی ہے۔ دوسری جنگ ِعظیم کے خاتمے پر نیا عالمی نظام لایا گیا تھا‘ جس میں مرکزیت امریکا کو حاصل تھی اور یورپ اُس کے ساتھ کھڑا تھا۔ ڈالر کلیدی عالمی کرنسی بن کر ابھرا۔ مالیاتی نظام کو امریکا اور یورپ کے مفادات کے تابع رکھا گیا۔ جاپان‘ اگرچہ تباہ ہوچکا تھا‘ مگر پھر ابھرا اور عالمی طاقت کی حیثیت حاصل کی۔ یہ الگ بات کہ اُس نے امریکا اور یورپ سے متصادم ہونے کی بجائے مل کر چلنے کو ترجیح دی ہے اور نرم قوت کے سہارے آگے بڑھتا رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا اور یورپ دونوں کے لیے مشکلات کا آغاز ہوا۔ امریکا واحد سپر پاور کی حیثیت سے میدان میں رہ گیا۔ اُس کی طاقت غیر معمولی دکھائی دیتی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ طاقت میں کمی واقع ہوچکی تھی۔ عالمی نظام کے تمام اجزاء سے اچھی طرح جُڑے ہوئے ہونے کا وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہا تھا۔ واحد سپر پاور ہونے کے ناتے اُسے کوئی روکنے والا بھی نہ تھا۔ ایسے میں اُس کا سرکش ہو جانا فطری امر تھا۔ اور یہ امریکی سرکشی ہی کا تو نتیجہ ہے کہ آج دنیا خطرناک حد تک الجھ کر رہ گئی ہے۔ امریکا اور چین آمنے سامنے ہیں۔ جب دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تب ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو تاریخ کے دھارے کا رخ بدلتے ہیں۔ دو عالمی جنگیں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے پر امریکا نے اسلامی دنیا کو نشانے پر لیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا تماشا شروع کرنے کا سوچا۔ اس کے لیے کوئی بہت بڑا معاملہ لازم تھا ۔سو ‘نائن الیون ہوا۔نائن الیون کے بعد اب معاملات کو ایک بار پھر اپنے حق میں کرنے اور دنیا کو چین سے برگشتہ کرنے کے لیے لازم ہوگیا ہے کہ کچھ نہ کچھ ایسا کیا جائے‘ جو پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دے۔ اس کے لیے کورونا وائرس کو میدان میں لایا گیا ہے۔ کورونا کی وباء کے ہاتھوں بظاہر ہلاکتیں بھی بہت ہوئی ہیں اور مریضوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ پھر بھی بہت کچھ ایسا ہے ‘جو سات پردوں میں لپٹا ہوا ہے۔ قدم قدم پر گمان ہوتا ہے۔ع 
کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں 
کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی جارہی۔ مریضوں کو بھی بالکل الگ تھلگ رکھا جارہا ہے۔ ع 
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے 
یہ سب کچھ حقیقت پر مبنی ہو یا محض ڈراما‘ حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر آگئی ہے۔ یہ فیصلہ کن لمحات ہیں۔ نائن الیون نے دنیا کو خاصا بدل دیا تھا۔ اب کورونا وائرس کے ہاتھوں لاک ڈاؤن نے بھی دنیا کو بہت بدل ڈالا ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں