نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- غلام سرورکیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کامعاملہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وفاقی وزیرغلام سرورکےوکیل الیکشن کمیشن میں پیش
  • بریکنگ :- اس کیس پردلائل آج مکمل کرلیتےہیں،سکندرسلطان راجہ
  • بریکنگ :- جواب دینےکیلئےمزیدوقت دیاجائے،وکیل غلام سرور
  • بریکنگ :- اتناپیچیدہ کیس نہیں کہ زیادہ التوادیاجائے،چیف الیکشن کمشنر
  • بریکنگ :- ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کےاتفاق رائےسےبناہے،چیف الیکشن کمشنر
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےسماعت 20 دسمبرتک ملتوی کردی
  • بریکنگ :- کنٹونمنٹ انتخابات،غلام سرورپرضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کاالزام ہے
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

جامعیت کا پھندا

زندگی کیسی ہونی چاہیے؟ شاندار‘ اور کیسی! ہر لمحہ شادمانی کی کیفیت سے سرشار رہتے ہوئے گزرنا چاہیے۔ کیا واقعی؟ ایسا ممکن ہے؟ بہت حد تک مگر اِس کے لیے چند شرائط کا خیال رکھنا لازم ہے۔ ہم زندگی بھر کامیابی و شادمانی کے لیے سرگرداں رہتے ہیں مگر بالعموم زیادہ کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اِس کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات کی غلامی ترک نہیں کرتے۔ کامیابی اور شادمانی کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے وہ ہم یا تو نہیں کرتے یا اگر کرتے بھی ہیں تو دلجمعی کے ساتھ نہیں۔ اور یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ کامیابی و شادمانی یقینی بنانے کے لیے جو کچھ ترک کرنا ہے وہ بھی ہم ترک نہیں کرتے۔ کسی بھی معاملے میں کوئی کسر رہ جائے تو کیے کرائے پر پانی پھرا سمجھیے۔ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا کسی بھی انسان کے لیے ناممکن نہیں مگر عمومی حالات میں واضح تحرک نہ ہونے سے معاملات بگڑتے چلے جاتے ہیں اور یوں اچھی خاصی آسانی سے ممکن ہوتی ہوئی کامیابی بھی انتہائی دشوار ہو جاتی ہے۔
ایسا کیوں ہے کہ ہم میں سے بہت سوں میں غیر معمولی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں مگر اُن کا اظہار مشکل سے ہو پاتا ہے؟ یہ سوال ہر اُس انسان کے لیے پریشان کن ہے جو کچھ کرنے کے حوالے سے سوچتا ہے۔ صلاحیت و سکت رکھنے کے باوجود انسان غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام کیوں رہتا ہے؟ کیا اِس کا سبب تحریک و تحرک کا نہ ہونا ہے؟ یا تحریک کا مطلوب سطح تک نہ ہونا؟ عمومی مشاہدہ ہے کہ بہت سے لوگ کچھ کر دکھانے کا غیر معمولی جذبہ رکھتے ہوئے بھی زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے اور بالعموم اوسط درجے کی زندگی بسر کرتے ہوئے دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
اچھی کارکردگی کیا ہے؟ ہر اُس کارکردگی کو اچھا کہا جائے گا جو انسان کو غیر معمولی تسکین دے، کچھ ہونے کا احساس دلائے اور ساتھ ہی ساتھ دوسروں کی نظر میں اُس کی وقعت بھی بڑھائے۔ بہترین کارکردگی وہ ہے جس کا تعلق انسان کے ذوق و شوق سے ہو۔ انسان جس کام کو بچپن سے پسند کرتا آیا ہو‘ مشغلے کے طور پر بھی اپنایا ہو اُسے پیشے یا کیریئر کے طور پر اپنانے کی صورت میں زندگی حقیقی لطف سے ہم کنار ہوتی ہے۔ ہر انسان اپنے اُس کام سے غیر معمولی لطف پاتا ہے جسے وہ شوق کے طور پر بھی اپناچکا ہو۔اب سوال یہ ہے کہ اچھی کارکردگی سے آگے کیا ہوتا ہے؟ صلاحیت و سکت کا اظہار کافی ہے یا اِس سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتا ہے؟ صلاحیت و سکت کو بروئے کار لانے کا نتیجہ تو خیر کامیابی ہوتا ہی ہے مگر سچ یہ ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیت و سکت کو موزوں طریقے سے بروئے کار لائے۔ اس مرحلے سے گزرے تو سمجھ لیجیے ایک دنیا کو فتح کرلیا۔ ہر دور میں کم و بیش 95 فیصد افراد کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف معاملات میں اچھی خاصی صلاحیت اور سکت رکھنے پر بھی اپنے وجود کو بروئے کار لانے پر متوجہ نہیں ہوتے اور یوں اُن کی زندگی میں خلا سا رہ جاتا ہے۔ آج بھی بیشتر معاشروں میں واضح ترین اکثریت کا حال ہے کہ صلاحیت، سکت اور رجحان یا میلان رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو آزمانے سے گریزاں رہتی ہے، کچھ ایسا کرنے سے اجتناب برتتی رہتی ہے جو عام یا مقبول ڈگر سے ہٹ کر ہو۔
ہر دور کی طرح آج بھی بہت سوں کا یہ حال ہے کہ غلطی کرنے سے ڈرتے ہیں اس لیے کچھ کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ غلطی وہی کرتے ہیں‘ جو کچھ کرتے ہیں۔ جو کچھ نہیں کرتے یعنی عمل کی منزل سے دور رہتے ہیں وہ غلطی بھی نہیں کرتے۔ جو میدان میں اترتے ہیں وہی گرتے بھی ہیں۔ یہ سب تو کھیل کا حصہ ہے۔ گرنے کے بعد اٹھنا ہی تو انسان کو دوسروں کی نظر میں وقیع بناتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ لوگ ہر معاملے میں ایسی کارکردگی چاہتے ہیں جس میں بظاہر کوئی غلطی نہ ہو۔ ایسا ممکن نہیں! جو عمل پسند رویہ رکھتے ہیں وہ کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں اور اِس دوران غلطی بھی کرتے ہیں۔ غلطی کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی اپنے آپ کو کمتر سمجھے اور مزید غلطیوں کے ارتکاب کے خوف سے کچھ کرنے ہی سے مجتنب ہو رہے۔ 
جامعیت بہت اچھی بات ہے۔ کسی بھی معاملے میں جامعیت مثال بنتی ہے مگر کارکردگی کو بے داغ بنانے کے لیے ہر قیمت پر جامعیت یقینی بنانا کسی بھی اعتبار سے کوئی ایسا رویہ نہیں جسے آدرش قرار دیا جائے۔ اگر یہ رویہ عام ہو جائے تو جینا دشوار ہو جائے۔ جامعیت کے معاملے میں انتہا پسندی انسان میں نفسی پیچیدگی پیدا کردیتی ہے۔ جو ہر معاملے میں جامع ہونا چاہتے ہیں وہ دراصل اپنے آپ کو محدود کرتے چلے جاتے ہیں کیونکہ حد سے زیادہ احتیاط پسند ہونا اُنہیں بہت کچھ کرنے سے روکتا ہے۔ ہیریٹ بریکر کا کہنا ہے ''اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی خواہش اور کوشش انسان کو بہت آگے لے جاتی ہے۔ دوسری طرف جامعیت کی شدید خواہش انسان کو گھسیٹ کر پیچھے کردیتی ہے‘‘۔ حقیقت یہی ہے۔ جو لوگ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی صلاحیت اور سکت کو بروئے کار لانے پر متوجہ ہوتے ہوئے عمل کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ کر دم لیتے ہیں۔ راستے میں چند ایک غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں مگر غم کس بات کا کہ یہ تو کھیل کا حصہ ہوا۔ کوئی بھی انسان جب یہ طے کرلیتا ہے کہ اس کے کام میں کہیں کوئی کھوٹ نہیں ہونی چاہیے تب کام کرنے کا جذبہ ماند پڑنے لگتا ہے۔ غلطی کے ارتکاب کا خوف انسان کو عمل پسندی کی راہ سے ہٹاکر پر بے عملی کی ڈگر پر لے جاتا ہے۔
ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ کسی نے جامع ہونے کی کوشش کی اور عمومی نوعیت کی کارکردگی سے بھی گیا۔ چند ایک کامیاب مثالیں بھی موجود ہیں۔ ایک مثال دلیپ کمار کی ہے اور دوسری عامر خان کی۔ دلیپ کمار یعنی یوسف صاحب کے فن کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے 1942ء سے شروع ہوکر 1997ء میں ختم ہونے والے کیریئر میں صرف 55 فلمیں کی ہیں! ایک زمانہ تھا کہ وہ سال ڈیڑھ سال میں صرف ایک فلم کرتے تھے اور پھر یہ بھی ہوا کہ ان کی فلمیں پانچ پانچ سال کے وقفے سے آنے لگیں۔ عامر خان نے کیریئر کے ابتدائی پندرہ سال میں بہت سی فلمیں کیں مگر پھر سنبھل گئے اور انتہائی محتاط ہوکر سال ڈیڑھ میں ایک فلم دینے لگے۔ اور اس روش پر وہ اب تک گامزن ہیں۔ دلیپ صاحب اور عامر خان دونوں ہی پرفیکشنسٹ ہیں یعنی جامعیت پر جان دیتے ہیں۔ دونوں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنے کام میں پورے وجود کو کھپا دیتے ہیں۔ دوسروں نے بھی پرفیکشنسٹ بننے کی کوشش کی مگر ناکام رہے کیونکہ اُن کا اِس راہ پر گامزن ہونا مطلوب تیاری کے بغیر تھا۔ کسی بھی شعبے میں غیر معمولی طلب کے باوجود کم کام کرنے پر مائل ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انسان کسی نہ کسی معاملے میں ڈھیلا پڑ ہی جاتا ہے۔ جو لوگ کم کام کرکے بڑے نام کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں وہ اِس کے لیے بھرپور ذہنی تیاری بھی کرتے ہیں۔ امیتابھ بچن ایک استثنائی کیس کا درجہ رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے بہت کام کیا ہے اور مجموعی طور پر بہت اچھے رہے ہیں۔ اُن کی ناکام فلموں کی تعداد بھی کم نہیں مگر غیر معیاری فلمیں بہت کم ہیں۔
بیشتر معاملات میں جامعیت پسندی گلے کا پھندا بن جاتی ہے۔ بہت سے باصلاحیت افراد اپنے اور مجموعی حالات پر غور کیے بغیر جامعیت کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں اور ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں۔ قدرت نے کسی کو صلاحیتوں سے نوازا ہے تو اُسے زیادہ سے زیادہ صلاحیتیں بروئے کار لانے پر متوجہ رہنا چاہیے۔ جامعیت کے جال میں پھنس کر کم کام کرنا کوئی اچھا آپشن نہیں۔ شخصیت اور فن کا بھرپور اظہار ہی انسان کو تادیر زندہ رکھتا ہے۔ جامعیت بہت اچھی عادت ہے مگر یہ غلطی کرنے سے ڈرنے کا سبب نہیں بننی چاہیے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں