"FBC" (space) message & send to 7575

سانحہ ساہیوال ‘موچی اور وزیراعظم

کریم بلاک میں کچھ خریداری کے بعد واپسی کے لیے نکل رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک بزرگ موچی پر پڑی‘ جس کے پاس ایک صاحب کھڑے اپنے جوتے مرمت کروا رہے تھے۔ بارش کی وجہ سے میرے جوتوں کی حالت خاصی خراب ہورہی تھی‘ سو میں نے جوتے اتار کر اسے صاف کرنے کے لیے دیے اور خود بھی اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔عمر رسیدہ موچی کے پاس اخبار پڑا تھا‘ جس کے صفحہ اول پر سانحہ ساہیوال کی سرخیاں نمایاں تھیں۔جب سے یہ سانحہ ہوا تھا میں مسلسل سانحہ کی تصویروں اور ویڈیوز کو نظر انداز کررہا تھا۔ میں اپنے اندر اتنی ہمت نہیں کر پارہا تھا ان معصوم بچوں کی دل چیر دینے والی صورتوں پر نظر ڈال سکوں۔ مجھے اخبار کی جانب متوجہ دیکھ کر موچی کے پاس کھڑے صاحب کہنے لگے: بہت ظلم کیا ہے ‘ یہ معمولی واقعہ نہیں ‘بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہوئی ہے۔ میں نے ان کو اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سانحے سے جو بدنامی ہوئی وہ تو اپنی جگہ‘ مگر ہمارے ادارے مسلسل کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں‘ مگر اس واقعے کے بعد نا صرف پاکستان میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بات ہوگی ‘بلکہ جس طرح اس واقعے میں خواتین و بچوں پر اندھادھند فائرنگ کرکے مارا گیا ہے‘ اس وحشیانہ طرزعمل کا مطلب یہ نکالا جائے گا کہ داعش کا زہر عوام میں نچلی سطح تک سراعت کرچکا ہے اور پاکستان میں داعش کے موجود نہ ہونے کا موقف کمزور ثابت ہوگا۔ 
اس سانحہ پر حکومت کہہ رہی ہے کہ ڈرائیور ذیشان کا تعلق داعش سے ہے۔ ان صاحب نے توپوچھ لیا‘ مگر مجھے یہ سوال حیران کر جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا دفتر خارجہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں داعش کا وجود نہیں اور پنجاب حکومت کی جانب سے داعش کی موجودگی کا جواب پنجاب حکومت ہی دے سکتی ہے۔دوسری بات یہ کہ اگر ذیشان داعش کا دہشت گرد تھا بھی تو گاڑی روک کر بچوں ‘خواتین اور مردوں پر اندھادھند فائرنگ کا کیا جواز تھا؟ جبکہ جوابی فائرنگ بھی نہیں ہوئی۔ درجنوں سوالات سر اٹھاتے ہیں‘ اگر ذیشان داعش کا دہشت گرد تھا تو گاڑی جب لاہور میں کئی روز پہلے چیک ہوگئی تھی تو کیوں نہیں پکڑا گیا؟ جب لاہور سے نکل رہی تھی تو کیوں نہیں پکڑا گیا؟ گاڑی روک کر جب بچوں کے والد سے بات چیت ہوگئی تھی پھر فائرنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پہلے ڈکیت پھر اغواء کار اور پھر داعش کے دہشت گرد قرار دینے کے حوالے سے تین بار موقف کیوں تبدیل کیے گئے؟ کہانی پر کہانی کیوں تبدیل کی جاتی رہی؟کیا 13سالہ بچی کو چشم دید گواہ ہونے کی وجہ سے مار دیا گیا‘ کیونکہ ان بچوں میں وہ بڑی اور سمجھدارتھی؟پھر جب عوامی ردعمل آیا تو کہا گیا کہ موٹر سائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے خاتون و بچی ماری گئیں‘ مگر اللہ رب العزت نے ان ظالموں کا بھانڈہ پھوڑنا تھا۔ عام شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز سامنے آگئیں۔ وہ ویڈیوز جن میں اہلکار پہلے گاڑی میں موجود مردوں سے بات کرتے ہیں‘ پھر چند فٹ کے فاصلے سے فائرنگ کرتے ہیں۔ تین بچوں کو نکالتے ہیں اور پھر فائرنگ کرتے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق؛ 13سالہ بچی اریبہ اور اس کی والدہ نبیلہ کو دس فٹ کے فاصلے سے چھ چھ گولیاں ماری گئیں۔جب ہر طرف سے گھر گئے تو سی ٹی ڈی کی جانب سے موقف سامنے آیا کہ گاڑی کے شیشے کالے تھے ‘اس لیے خواتین و بچے نظر نہیں آئے۔ ٹول پلازہ پر لگے کیمرے نے سی ٹی ڈی کی اس نئی منطق کا بھی پول کھول دیا‘ جس میں گاڑی گزرتے وقت عقبی سیٹ پر بچی نظر آرہی ہے‘ جبکہ عینی شاہدین کے مطابق؛ گاڑی کے شیشے کالے نہیں تھے۔ ہر جھوٹ پکڑا جارہا تھا اس کے باوجود سی ٹی ڈی جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہی ہے۔ چند وحشیوں کو بچانے کیلئے عالمی سطح پر داعش کا وجود نہ ہونے کے پاکستانی موقف کا رد کیا جارہا ہے۔بچوں کو پہلے بے یارومددگار پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا گیا اور اس کے بعد ہسپتال پہنچا کر سی ٹی ڈی اہلکار فرار ہوگئے۔ ہسپتال اور پٹرول پمپ سے جب بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں معاملہ یکسر پلٹ گیا۔عوامی ردعمل شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا۔ ملک بھر میں سوگ کا سماں تھا‘ ان ظالموں کے گھروں کے سوا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو ‘جہاں ان بچوں کو دیکھ کر آنکھیں اشکبار نہ ہوئی ہوں۔ 
اس باریش موچی اور ان کے پاس موجود صاحب دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے ‘ کہنے لگے: اب کیا ہوگا؟ کہہ رہے ہیں ذیشان تو دہشت گرد تھا۔ میں نے کہا: ہوسکتا ہے‘ ذیشان دہشت گرد ہو‘ مگر جو تصویر شیئر کی گئی ہے تو کیا کسی کا دہشت گرد کے ساتھ سیلفی ہونا دہشت گرد بنا دیتا ہے۔ موجودہ وزیر داخلہ شہریار آفریدی کی منشیات فروش کے ساتھ‘ زرداری اور اس کی بہن فریال تالپور کی عزیر بلوچ کے ساتھ تصاویر‘ شریف برادران کی کالعدم تنظیموں کے رہنمائوں اور پومی بٹ وغیرہ کے ساتھ تصاویر اور کئی صحافیوں کی اسامہ بن لادن‘ بیت اللہ اور حکیم اللہ محسود کے ساتھ تصاویر موجود ہیں‘ پھر آن لائن گاڑی خریدنے والا گاڑی کی کنڈیشن دیکھتا ‘نا کہ فروخت کرنے والے کی ‘ تو کیا اب گاڑی کے ساتھ ساتھ فروخت کرنے والے کی معلومات بھی لینی ہوں گی ؟ پھر دوسری بات یہ کہ ذیشان جاوید کا بھائی ڈولفن فورس میں ہے ۔ پولیس میں بھرتی کیلئے پورے خاندان کا ریکارڈ حاصل کیا جاتا ہے اور اسے چیک کیا جاتا ہے ؛ اگر ذیشان دہشت گرد تھا تو پولیس فورس کے نظام پر تف ہے‘ جس میں دہشت گردوں کے رشتے دار موجود ہیں۔ ذیشان کی والدہ تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس کی جاننے والی ہیں اور عندلیب عباس کہتی ہیں کہ وہ اس خاندان کو اچھی طرح جانتی ہیں اس فیملی کے دہشت گردوں سے تعلقات نہیں ہوسکتے‘ پھر سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ذیشان کے گھر سے اسی روز رات میں تین دہشت گرد نکل کر فرار ہوئے‘ جنہیں گوجرانوالہ کے قریب مار دیا گیا۔ اب اگر اس بات کو دیکھا جائے‘ تو حیرت ہوتی ہے کہ ذیشان کا گھر تو کئی روز سے نگرانی میں تھا‘ پھر جس روز سانحہ ساہیوال ہوا تو اس روز نگرانی مزید سخت ہوگئی ہوگی‘ پھر دہشت گرد وہاں سے نکل کر کیسے فرار ہوگئے؟ ایسے اَن گنت سوالات ہیں ‘جن کے جواب موجود نہیں ہیں۔
حکومتی وزراء کے بیانات کو دیکھا جائے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے‘ کیونکہ گزشتہ چند ماہ میں ان کی اہلیت تو سامنے آہی گئی تھی‘ اب ان کی انسانیت کا معیار بھی پتا چل گیا ہے۔ گورنر پنجاب ہو‘ فواد وچوہان یا راجہ بشارت ‘ ان حکومتی ذمہ داران کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ یہ خواتین سمیت سب کو دہشت گرد کہہ رہے تھے ۔ رہی بات محمود الرشید کی‘ جس نے سانحہ ساہیوال کی ویڈیوز کو ہی جعلی قرار دیدیا تووہ ابھی تک اپنے بیٹے کی ڈانسنگ کار ویڈیو منظر عام پر آنے کے شاک سے نہیں نکل پارہے‘ اس لیے ہر ویڈیو کو جعلی قرار دینا شروع کردیتے ہیں۔ موچی کہنے لگا کہ میری شدید خواہش ہے کہ کاش میں وزیر اعظم ہوتا تو میںذمہ داران کو ساہیوال میں ہی پھانسی دیتا۔ جب میں نے کہا کہ آپ بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں‘ تو وہ کہنے لگا کہ مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا ۔ میں نے کہا :حضور یہی تو آجکل شرط اول ہے‘ اس عہدے کیلئے بس آپ ٹویٹ کرنا سیکھ لیں۔ اس موچی نے جوتے مجھے دیے تو میں نے دیکھا کہ جوتوں پر پالش کی تہہ موجود ہے اور اسے اچھی طرح صاف نہیں کیا گیا تھا۔ مجھے غصہ آگیا ‘ ٹائم پہلے ہی کافی گزر گیا تھا اور مجھے دفتر پہنچنا تھا۔ میں نے جوتے پہنے ‘ اسے پیسے دیے اور جاتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ آپ نے صرف میرا ٹائم ضائع کیا ہے‘وزیراعظم بننا آپ کی خواہش ہوسکتی ہے‘ مگر آپ کبھی بھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں