"FBC" (space) message & send to 7575

آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

بھارت تو مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتا تھا‘ مگر مقبوضہ کشمیر اس کے گلے کی ہڈی بن چکا‘ جسے بھارت اگل پا رہا ہے‘ نہ نگل۔ مودی نے انتخابات میں دوبارہ فتح حاصل کی تو اپنے اور اپنے پیروکاروں کے جنگی جنون کو تسکین دینے کیلئے آرٹیکل 370 کوختم کرنے کا اعلان کردیا۔یہ اعلان گویا ایک آتش فشاں پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہوا اورمقبوضہ کشمیر میں آزادی کی ایسی تحریک شروع ہوچکی کہ جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے کے ساتھ طویل عرصے سے بھارت میں دبی علیحدگی پسند تحریکوں میں بھی ہلچل پیدا کردی ہے۔ آرٹیکل 370کو ختم کرنے کے حوالے سے جنم لینے والے حالات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات پر ایک نظر ڈال لی جائے۔
بھارت کے آرٹیکل 370کو ختم کرنے سے قبل مقبوضہ کشمیر میں مستقبل کے حوالے سے عوام میں تین آراء پائی جاتی تھیں؛ ایک طبقہ وہ تھا‘ جو بھارت نواز سمجھا جاتا تھا اور بھارتی آئین میں رہتے ہوئے ''سیلف رول‘‘ کا قائل تھا۔ اس طبقے میں شیخ عبداللہ‘ محبوبہ مفتی جیسے بھارت نواز کشمیری رہنما شامل تھے‘ جو مختلف ادوار میں بھارتی حمایت سے مقبوضہ کشمیر پر حکومت کرتے رہے‘ اسی طرح دوسرا طبقہ وہ تھا‘ جو مقبوضہ کشمیر کو آزاد ریاست کے طور پر دیکھنے کا خواہشمند تھا۔ تیسرا اور بڑا طبقہ وہ تھا‘ جو مقبوضہ کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتا تھا۔کشمیر کی خودمختاری اور پاکستان سے الحاق چاہنے والے دونوں طبقات بھارتی آئین اور آرٹیکل 370کو سرے سے مانتے ہی نہیں تھے‘ان طبقات کو قائل کرنے کیلئے من موہن سنگھ نے 2013ء میں بھارت نواز رہنماؤں کے ساتھ مل کربھارت مخالف موقف رکھنے والوں کو دعوت دی تھی کہ صرف بھارتی آئین کو قبول کرلیں‘ اس کے بعد جو مطالبات وہ کریں گے‘ وہ مطالبات آرٹیکل 370کے تحت قبول کرلیے جائیں گے‘ مگر بھارتی آئین کو نہ ماننے والوں نے من موہن سنگھ کی یہ پیشکش ٹھکرادی تھی۔ان دونوں طبقات کیلئے مودی حکومت کی جانب سے اس آرٹیکل کا خاتمہ ان کے بھارت مخالف موقف کی مضبوطی کا باعث بنا۔ دوسری طرف جو طبقہ بھارت نواز تھا ‘جس میں مقبوضہ کشمیر کے حکمران بھی شامل تھے‘ وہ بھارتی آئین میں رہتے ہوئے آرٹکل 370کی بات کرتے تھے۔ اب جب بھارت نے یہ آرٹیکل ختم کیا‘ تو ان رہنماؤں کا بھارت حمایت پر مبنی موقف عوام میں بے اثر ہوگیا۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرینگر کے وہ علاقے ‘جو بھارت نواز رہنماؤں اور بیوروکریسی کا گڑھ سمجھے جاتے تھے اور ان علاقوں میں ماضی میں کبھی بھارت مخالف تحریک نہیں چلی تھی ‘اب پرتشدد مظاہروں کا مرکزبن چکے ۔بھارت نواز رہنما شیخ عبداللہ کا آبائی علاقہ سورہ ‘جہاں بھارت نواز موقف کو پذیرائی حاصل رہی ہے اور کشمیر کی جدوجہد آزادی کی تاریخ میں اس علاقے میں کبھی بھارت مخالف سرگرمیاں نہیں ہوئیں۔ مودی حکومت کے موجودہ فیصلے کے بعد یہ علاقہ مزاحمت کا استعارہ بن چکا اور بھارتی فوج کیلئے اس علاقے کے عوام کو قابو کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کا سربراہ نرمل سنگھ اس جانب اشارہ کرچکا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی حمایت کھو رہا ہے‘ اسی طرح سرینگر کا ہی ایک اور علاقہ درگاہ حضرت بل کا ہے۔ اس علاقے کے ایک جانب دل جھیل ہے ‘جبکہ دوسری جانب پوش رہائشی علاقے کے ساتھ ساتھ عالمی معیار کے ہوٹل قائم ہیں۔ رہائشی علاقے میں بھارت نواز رہنما اور بیوروکریسی آباد ہے‘ جبکہ ہوٹلوں میں بیرون ممالک سے آنے والے وفود اور میڈیا کے نمائندے رہائش اختیار کرتے ہیں۔ اس علاقے کو بھارت کی جانب سے ہمیشہ پرُامن رکھا جاتا تھا‘ تاکہ بیرونی میڈیا کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر کے حالات پرُ امن دکھائے جاسکیں ‘مگر اس بار اس علاقے کے حالات بھی بھارت کے قابو سے باہر ہوگئے ہیں۔ درگاہ حضرت بل جو کشمیری عوام کے لیے مذہبی اہمیت کی حامل ہے‘ تاریخ میں کبھی بند نہیں ہوئی تھی‘ مگر اب 5اگست سے اس درگاہ کے اطراف خاردار تاریں بچھا کر بھارتی فوجی اہلکار تعینات کردئیے گئے ہیں اور نمازوں کی ادائی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ 
مودی کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے فیصلے کو بھارت میں ہی مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے اپنے انٹرویو میں بھی غلطی قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ مودی حکومت نے ایسا فیصلہ کیا ہے‘ جس سے صرف علیحدگی پسندوں اور بھارت مخالف موقف کو تقویت ملے گی‘ جس کے اثرات کشمیر کے ساتھ بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی سامنے آئیں گے۔ اے ایس دولت طویل عرصہ تک بھارتی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے طور پر مقبوضہ کشمیر کے معاملات کو دیکھتا رہا ہے‘ اس کا یہ اعتراف بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اے ایس دولت کی تشویش بے جا نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے جو حصے ابھی تک تحریک آزادی میں شامل نہیں ہوئے تھے‘ اب وہاں بھی مزاحمت شروع ہوچکی۔ لداخ کے مسلم اکثریتی ضلع کارگل میں کبھی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ اس علاقے کی جانب سے علیحدہ تشخص دینے کا مطالبہ کیاجارہا تھا‘ مگر مودی حکومت کے اقدام نے کارگل باسیوں کو بھی علیحدہ تشخص کے مطالبے سے ہٹا کر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا کردیا ہے۔ کارگل باسیوں نے مزاحمت شروع کردی ہے اور مسلسل بھارتی فوج کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔کارگل کے مشرق میں لداخ کا دوسرا ضلع لیہ ہے۔چین کے تبت پر قبضے کے بعد بدھ مت سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد یہاں آکر آباد ہوگئی تھی‘ جس کے بعد اس علاقے میں بدھ مت افراد کی اکثریت ہوگئی تھی‘ جو عمومی طور پر پرامن سمجھے جاتے تھے‘ تاہم مودی حکومت کے موجودہ اقدام نے اس علاقے میں بھی شورش پیدا کردی ہے اور لیہ میں بھی احتجاج شروع ہوچکا‘ جس نے بھارتی تبصرہ نگاروں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ 
الغرض مودی حکومت اس اقدام نے نا صرف مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی لہر میں نئی زندگی بھر دی ہے ‘بلکہ بھارت نواز حلقے بھی اب اپنے موقف سے پیچھے ہٹ کر بھارت سے چھٹکارہ حاصل کرنے والوں کے ساتھ مل چکے ہیں۔ اس تازہ لہر نے بھارت کی دیگر ریاستوں میں دبی علیحدگی پسندتنظیموں کو بھی تقویت دی ہے‘ جس کے بعد بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ‘بھارتی ریاست آسام میں علیحدگی پسندمتحرک ہوگئے ہیں۔ آسام میں آر ایس ایس کے ایک مقامی بااثر رہنما کو اس کے گھر کے باہر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ اس واقعہ کو بھارتی دفاعی ماہرین تشویشناک اور علیحدگی پسندوں کے سراٹھانے کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت وہ ملک ہے ‘جہاں مختلف ریاستوں میں علیحدگی کی 67تحریکیں چل رہی ہیں ‘جن میں سے 19 بڑی اور 48چھوٹی علیحدگی پسند تنظیمیں سمجھی جاتی ہیں۔ان میں سے24علیحدگی پسند مسلح تنظیمیں صرف آسام میں سرگرم ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب معتدل مزاج سمجھے جانیوالے بھارتی مبصرین اس حوالے سے مودی حکومت کو خبردار کرنے کے ساتھ آرٹیکل370 کے خاتمے کو مودی حکومت کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
اب‘ صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو مودی حکومت بزور قوت دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ جنون میں مبتلا مودی حکومت آرٹیکل370 کے خاتمے کا قدم تو اٹھا چکی‘ مگر اس کے بعدسامنے آنے والے زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں جنم لینے والی مزاحمت نے مودی سرکارکے تمام اندازے غلط ثابت کردئیے۔ مودی حکومت کو اندرونی اور بیرونی سطح پرسبکی اٹھانا پڑی ہے اور سخت تنقید کا سامنا ہے۔ جو جال مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کیلئے بچھایا تھا‘ اس میں وہ خود بری طرح پھنس چکی۔ اب مودی حکومت کو اپنے بچھائے اس جال سے نکلنے کیلئے کشمیریوں کو آزادی دینا ہوگی ‘کیونکہ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں