سری لنکا میں سونامی کی تباہ کاریوں کی رپورٹنگ کے دوران وہ نوجوان کبھی نہیں بھولتا‘ جو ایک عمارت کے ملبے پر بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں نومولود کے جوتے تھے ‘جو وہ آنکھوں سے لگاتا اور سرجھکا لیتا ۔ کتنی ہی دیر جوتوں کو آنکھوں سے لگائے سر گھٹنوں پر ٹکائے بیٹھا رہتا ‘ پھر نظر اٹھاتا ‘اطراف کی تباہی دیکھتا اور پھر سر گھٹنوں پر ٹکا دیتا۔کافی دیر سے وہ اسی کیفیت میں تھا۔میں اس کے پاس گیا‘ اسے دلاسہ دیا اور پھرجس سانحہ سے وہ گزرا تھا‘ اسے جاننے کی کوشش کی۔پتا چلا کہ اس کی اہلیہ امید سے تھی اور ہسپتال میں داخل تھی۔ وہ شہر سے باہر مزدوری کرتا تھا ۔ آج ہی واپس آیا تو اپنے ہونے والے بچے کے لیے کھلونے ‘کپڑے اور جوتے لایا تھا ‘مگر یہاں آنے سے پہلے ہی اس کی دنیا ختم ہوچکی تھی۔وہ اپنی داستان بتا کر پھر تباہی کے مناظر کو دیکھنے لگا ۔ میں آج تک اس نوجوان کی آنکھوں میں محسوس ہونے والے کرب و درد کی شدت کو نہیں بھول سکا۔
گزشتہ دنوں کراچی کے ایک نوجوان کو ٹی وی سکرین پر دیکھا تو مجھے سری لنکا کا وہ نوجوان یاد آگیا۔ کراچی کا نوجوان زمین بوس ہونے والی عمارت کے قریب کھڑے تھا اور بتا رہا تھا کہ اس عمارت کے ملبے تلے دب کر اس کی والدہ‘ بھائی ‘ بھابھی‘ بھتیجے اور اس کے اپنے دو بیٹے جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اس نوجوان کی آنکھوں میں بھی وہی کرب‘ وہی درد موجود تھا۔ ان دونوں نوجوانوں کا درد‘ اگرچہ مشترک ‘مگر سانحات کا جنم مختلف تھا ۔ایک قدرتی آفت کا شکار ہوا‘ تو دوسرا حکومتی غفلت کا۔کراچی کا نوجوان جس سانحے کا شکار ہوا ‘اس میں اب تک 27افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ‘مگر مجال ہے کہ حاکموں کے چہرے پرکسی دکھ ‘قرب یا حزن و ملال کا کوئی شائبہ بھی نظر آجائے ۔یقین مانیں‘ اس قدر سنگدلی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی ‘بڑی ''تگ و دو‘‘ کرنی پڑتی ہے ۔ ایک میٹروپولیٹن کو برباد کرنا پڑتا ہے۔ اس کی روشنیاں اجاڑنی پڑتی ہے۔ اسے لوٹ کر اپنی تجوریاں بھرنی پڑتی ہیں ‘ پھر کہیں جا کر دلوں کی یہ سختی حاصل ہوتی ہے کہ اپنے ہی پیدا کردہ سانحہ میں ہونے والے جانی نقصان پرڈھٹائی و بے شرمی کے اس درجے پر پہنچ جائے کہ ملال تک نہ ہو۔عمارت گرنے سے بڑا سانحہ حاکموں کی بے حسی ہے۔
کراچی میں عمارات کے گرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں‘ بلکہ انہدام کا سلسلہ ایک تواتر سے جاری ہے۔کراچی کی بدقسمتی ہے کہ سانحات بھی اسی کی قسمت میں اور نااہل و لٹیرے بھی۔ اس وقت تو کراچی اس سانحے اور اس میں ہونے والے جانی نقصان کے باعث مسلسل خبروں میں ہے۔ کسی سانحے کے بعداس شہر کا خبروں میں آنا کوئی انہونی یا انوکھی بات نہیں‘ اگر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ بے حسی اس درجہ ہوچکی ہے کہ کسی بھی سانحے کے بعد سسٹم آٹو پر لگ جاتا ہے اور ہر ادارہ و شعبہ اپنے حصے کا کام کرنا شروع کردیتا ہے ۔ جیسے کہ حاکم پھرتیاں دکھائیں گے‘ اپوزیشن حاکموں پر پھبتیاں کسے گی‘ سپاٹ پر فوٹو سیشن ہوں گے‘ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالی جائے گئی‘ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جائے گی‘امدادی کام کرنے والے ادارے آلات و سامان کی کمی کا رونا روئیں گے اور پھر آہستہ آہستہ نقش مدھم ہوتے ہوئے ختم ہوجائیں گے۔یاد صرف ان کے دلوں میں باقی رہ جائے‘ جنہوں نے اپنے کھوئے ہوں گے۔سری لنکا کا نوجوان سونامی کو اور گولیمار کا نوجوان بلڈنگ کے انہدام کو کبھی بھلا نہیں پائے گا۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اپنے معاشی حب کو برباد کرکے ترقی کرنا چاہتے ہیں۔میٹروپولیٹن کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے ۔شہر کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے اور صورتحال یہ ہوچکی کہ اس شہر کو توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی سانحہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ایک وقت تھا کہ جب اس شہر کی روشنیوں کی مثال دی جاتی تھی‘ نظم و ضبط اور بہترین منصوبہ بندی کے گن گائے جاتے تھے۔قومی و بین الاقوامی سطح پر اس کی پہچان ایک ایسے شہر کے طور پر کی جاتی تھی‘ جس میں مختلف نسل‘زبان اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد باہم شیروشکر رہتے تھے‘ پھر اس شہر کو تعصب ‘ فرقہ واریت اور انتہاپسندی کی نظر کردیا گیا۔ قتل و غارت گری اس شہر کی شناخت بن گئی۔اس شہر کے باسی انسان نما درندوں سے خوف کھانے لگے ۔ غرض یہ کہ اس شہر کو اللہ تعالیٰ کے خوفناک ترین عذاب ''خوف کے عذاب‘‘ نے جکڑ لیا اور اس شہر کی قسمت کے فیصلے بدقماش و بدکردار کرنے لگے اور یہیں سے اس شہر کی بربادی کا آغاز ہوا۔کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہان کی گرفتاری اور ان کی تجوریوں سے برآمد ہونے والی اربوں روپے کی غیرملکی کرنسی‘ سونا‘ زیورات اور تحویل میں لی جانے والی گاڑیاں و بنگلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میرے شہر کی بربادی کے ذمہ دار اسی شہر کے رہبر نما رہزن ہی ہیں۔
اس شہر کو لوٹنے کے لیے کیا کیا حربے استعمال نہیں کیے گئے؟ تین سو غیر قانونی سوسائیٹیز وجود میں آئیں تو حکمرانوں نے خوب جیبیں گرم کی تھیں‘ مگر اب ان سوسائٹیز کا کوئی پرسان حال نہیں۔یہاں قیام پاکستان کے وقت ایک کچی بستی تھی اور اب 8ہزار بستیاں قائم کروا دی گئیں ہیں۔دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہونے والے کراچی کو صرف مال بنانے کی ہوس میں کنکریٹ کا جنگل بنا دیا گیا۔ قواعد ضوابط کے خلاف تعمیر کی گئی بلندوبالا عمارتیں سانحات کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں‘پھر 384عمارتیں تو ایسی ہیں کہ جنہیں باقاعدہ مخدوش قرار دے کر کے بی سی اے کی کمیٹی کے انجینئرز نے مسمار کرنے کا مشورہ دیا ہے‘ مگر ہائے رے ہوس‘ یہ عمارتیں اپنے ہزاروں باسیوں کے ساتھ تاحال موجود ہیں۔ ان ہی عمارتوں میں 8اسکول بھی قائم ہیں‘ جہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچے شاید جانتے بھی نہ ہوں کہ ان کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی‘ سیاسی تنظیموں کے پالتو غنڈوں‘ اہم شخصیات کے آل اولاد اور سرکاری و غیرسرکاری افسران پر مشتمل لینڈ مافیا نے پارکس اور کھیلوں کے میدانوں پر قبضہ کرکے انہیں بے ہنگم کثیر المنزلہ عمارتوں میں تبدیل کردیا۔برستی نالے ‘فٹ پاتھ چائنہ کٹنگ کی بھینٹ چڑھ گئے اور اب‘ صورتحال یہ ہے کہ عمومی بارش شہرکو ڈبونے کے ساتھ ساتھ درجنوں شہریوں کی زندگیوں کے چراغ بھی گل کردیتی ہے۔ ایسے موقع پر حکمران مکمل پروٹوکول میں انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ شہر کا دورہ کرتے ہیں‘ کسی ڈھابے پر ناشتے کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔ یہ دنیا کاشاید واحد شہر ہے کہ جہاں 63 ایسے بڑے اور اہم پروجیکٹس ہیں‘ جن میں باقاعدہ طور سیاستدان‘ بیوروکریٹس‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدیداران باقاعدہ حصہ دار ہیں۔غرض یہ کہ شہر کی موجودہ صورتحال کی سنگینی سپریم کورٹ کے بنچ کے ان ریمارکس سے واضح ہوجاتی ہے کہ ''اگر خدانخواستہ کراچی میں 7شدت کا زلزلہ آیا تو اموات کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہوگی‘‘۔
اب ‘یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس شہر کی ترقی کے لیے ایسے افراد کو سامنے لایا جائے‘ جو سب سے پہلے اسے قبول کریں‘ اسے اون کریں۔ ملکی زرمبادلہ میں ستر فیصد کے حصے دار اس شہر کو اس کا مقام دیا جائے اور اس مقصد کے لیے سب سے ضروری ہے کہ کسی زبان‘رنگ‘نسل کی تفریق کے بغیر مثبت سوچ کے حامل افراد شہر کے وارث بنیں‘جو اس شہر کے اداروں کو تعمیر کی جانب لے جاسکیں۔