'' میں نے اپنا کام پورا کردیا ہے‘ آج میں محسوس کررہی ہوں کہ یہ ایک فریضہ تھا ‘جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ادا ہوگیا ‘ میں خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کررہی ہوں‘ میں نے نوجوان نسل کو پاکستان کے قیام کی وجہ اور دو قومی نظریے کی حقیقت سے روشناس کرانے کے لیے اپنا حق ادا کردیا ہے‘‘۔ یہ محترمہ عائشہ غازی کے الفاظ تھے‘ جو انہوں نے ''سرحد‘ دی بائونڈری لائن‘‘ جیسی اپنی تیار کردہ ڈاکومینٹری کی تکمیل کے بعد فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہے تھے۔
پاکستانی نژاد برطانوی صحافی و ڈاکومینٹری فلم میکر عائشہ غازی ‘ جب اپنا کیمرہ سنبھالے پاکستان ‘بھارت اور بنگلہ دیش کی خاک چھان رہی تھیں تو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس شاہکار کی تخلیق کیلئے یہ ریاضت کررہی ہیں؟ ماضی میں بھی ہم نے انہیں اسی طرح سرحدوں کے اطراف گھومتے ہی دیکھا تھا۔ جب اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم بڑھے تو وہ اپنا کیمرہ لیے وہاں پہنچ گئیں۔ روہنگیا کے مسلمان انسانی تاریخ کے بدترین دور سے گزررہے تھے اور دنیا ان کی جانب آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی تو ایسے وقت میں بھی عائشہ غازی روہنگیا کے مسلمانوں کی آواز بنی ہوئی تھیں ۔ جب وہ بنگلہ دیش کی سرحد پر زندگی و موت کے درمیان جھولنے والے مہاجرین کی حالت دنیا کودکھا رہی تھیں تو ان کے کیمرے سے محفوظ کیے گئے حقائق عالمی سطح پر مختلف فورمز میں بطور حوالہ استعمال کیے جارہے تھے‘اسی طرح جب عائشہ غازی''سرحد‘دی بائونڈری لائن‘‘ پر کام کررہ تھیں تو ہمیشہ کی طرح بس خاموشی سے کبھی پاکستان کے دور دراز علاقوں میں سفر کرتی نظر آتیں تو کبھی علمی و ادبی شخصیات کے ساتھ محو گفتگو ہوتیں‘ کبھی ہجرت کے دوران اپنا سب کچھ لٹا دینے والوں کو ڈھونڈتی ملتیں تو کبھی قبرستانوں میں ایسی قبروں کی کھوج لگاتی نظر آتیں کہ جن پر کوئی رونے والا بھی نہ بچا تھا‘ اسی طرح بھارت میں مسلمانوں پر مودی کے مظالم کی خود چشم دید گواہ بنیں اور اپنے کیمرے میں ان مظالم کو ریکارڈ کیا تو ہندتوا کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانے کیلئے انتہاپسند ہندوئوں تک بھی پہنچیں‘ بنگلہ دیش کا سفر کیے بغیر دو قومی نظریے پر کوئی ڈاکومینٹری مکمل نہیں ہوسکتی تھی۔ سو‘ بنگلہ دیش سے بھی عائشہ غازی کے کیمرے نے گواہان کو ریکارڈ کیاتو پھر کہیں جا کر ''سرحد ‘ دی بائونڈری ‘‘ جیسے شاہکار کی تخلیق مکمل ہوئی۔ یہ ڈاکومینٹری برصغیر میں دو قومی نظریے کی ایک صدی پر مشتمل تاریخ کی عکاسی پر مبنی ہے‘ جس میں تقسیم کا عمل عینی شاہدین کی زبانی بیان کیا گیا ہے۔خالصہ تحریک کے سربراہ ہوں یا بھارت میں مسلمانوں کے نمائندے‘ بنگلہ دیش میں تقسیم ہند کے شاہدین ہوں یا پاکستان میں ہجرت کا کرب سہنے والے مہاجرین‘ یہ سب کردار اس ڈاکومینٹری میں دو قومی نظریے کی اساس بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ ؎
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
اس ڈاکومینٹری فلم کی تیاری میں عائشہ غازی کو چار سال کا عرصہ لگا اور اس کی تیاری میں کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کی مدد بھی شامل نہیں رہی‘ بلکہ عائشہ غازی نے فرد واحد کی حیثیت سے اسے مکمل کیا‘پھر جب اسے منظر عام پر لانے کی باری آئی تو 23 مارچ کے دن کا انتخاب کیا گیا اور لاہور شہر کو اس کام کے لیے چنا گیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ شاید وہ قرارداد پاکستان کی اصل روح سے نوجوان نسل کو آشنا کرانا چاہتی تھیں‘مگر ہوا یہ کہ دنیا کو اچانک کورونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ‘جس سے دنیا میں آمدورفت پر پابندی لگ گئی اور عائشہ غازی برطانیہ سے پاکستان نہ پہنچ سکیں۔ دو قومی نظریے کی اہمیت اجاگر کرتی یہ ڈاکومینٹری اس طرح منظر عام پر نہ آسکی ‘جس طرح اس کے آنے کا حق بنتا تھا۔عائشہ غازی نے جب یو ٹیوب پر لائیواس ڈاکومینٹری کو چلانے کا اعلان کیا تو ناظرین کی بڑی تعداد ان کے ساتھ موجود تھی اور پھر جب ''دنیا‘‘ ٹی وی پر اس ڈاکومینٹری کے حوالے سے رپورٹ چلائی گئی تو اسے خوب پذیرائی ملی۔
اب‘ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ عائشہ غازی کو قیام پاکستان کے قریبا ً 73سال بعد نظریہ پاکستان کی اہمیت بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کا جواب جاننے کیلئے ہمیں ''پاکستان کا مطلب کیا: لاالٰہ الاللہ ‘‘کے نعرے سے لے کر '' میرا جسم میری مرضی ‘‘کے نعرے تک کے سفر کی گھتیاں سلجھانیں ہوں گی۔ وطن ِعزیز کو اس دوران صرف جغرافیائی سرحدوں پر ہی نہیں‘ بلکہ نظریاتی سرحدوں پر بھی مسلسل حملوں کا سامنا رہا ۔ دشمن کے حملے اتنے کارگر تھے کہ ان کی وجہ سے ایک پورا ایسا طبقہ وجود میں آیا‘ جو دو قومی نظریے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور قیام پاکستان پر اعتراضات اٹھا کر درپردہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ یہ طبقہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے مودی کے ہندتوا نعرے کا آلہ کار بنتا نظر آرہا ہے۔
آج بھارت میں جگہ جگہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے‘ سڑکوں پر خون میں لت پت پڑے لاشے‘ آر ایس ایس کے غنڈوں کے ہاتھوں گلیوں میں گھسیٹے جاتے مسلم نوجوان‘ بھارتی ریاستی اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں تذلیل سہتی مسلم مائیں بہنیں‘یہ مناظر اس بھارت میں عام ہوچکے ہیں ‘جو خود کو دنیا کی بڑی سیکولر ریاست قرار دیتا ہے۔ گزشتہ قریباً دس ماہ سے لاک ڈائون میں محصور کشمیری اور کشمیری نوجوانوں کا بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل‘ یہ سب واقعات بذات خود دو قومی نظریے کی دلیل ہیں‘ مگر کیا کہا جائے کہ ہمارے مخصوص مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ سب نظر نہیں آرہا۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں مودی کے بھارت میں مسلمانوں پر مظالم پر سراپا احتجاج ہیں۔
لاکھوں مسلمان بھارتی ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں‘ مگر انہیں ہسپتالوں میں داخلے کی اجازت نہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون کے دوران تقسیم کی جانے والی سرکاری امداد بھی مسلمانوں کو نہیں دی جارہی ۔بھارت میں مودی سرکار کے ہندتوا کے سامنے مسلمانوں کی بے بسی اور دیگر اقلیتوں کی مذاحمت کی تحریکیں‘ ظاہر کرتی ہیں کہ قریباً سات دہائیوں قبل‘ جس نظریے کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا‘ وہ بالکل درست تھا۔آج جو کچھ بھارت اور کشمیر میں ہورہا ہے‘ اُس سے دو قومی نظریے پر یقین مستحکم ہوگیااور تاریخ نے واضح کردیا کہ پاکستان صرف اسی صورت ترقی کی منازل طے کرسکتا ہے کہ اگر اس نظریے کو سنگ میل بنا کر سفر جاری رکھا جائے ۔
میرا ماننا ہے کہ ''سرحد‘دی بائونڈری لائن ‘‘ دو قومی نظریے پر اعتراضات کرنے والوں کی آنکھوں پر پردے ہٹانے میں کامیاب ہوجاتی ہے ‘تو اس کے بنانے کا مقصد پورا ہوجائے گا۔