ڈیزل مہنگا ہونے سے تعمیراتی شعبہ شدید بحران کا شکار

ڈیزل مہنگا ہونے سے تعمیراتی شعبہ شدید بحران کا شکار

سیمنٹ، سریا اور ریتی مزید مہنگی، مستری، مزدور وں نے بھی اجرت بڑھا دی بڑھتی لاگت سے جاری منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا خدشہ ہے ،ماہرین

کراچی(این این آئی)ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث تعمیراتی شعبہ شدید متاثر ہونے لگا جس کے نتیجے میں تعمیراتی مٹیریل اور مزدوری کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق سیمنٹ کی فی بوری قیمت میں 20 روپے تک اضافہ ہوا جبکہ ریتی اور کرش کی قیمتوں میں 3 ہزار روپے تک اضافہ سامنے آیا ہے ۔ اسی طرح سریے کی فی ٹن قیمت میں بھی 35 ہزار روپے کا نمایاں اضافہ ہو چکا جس نے زیر تعمیر منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ۔دوسری جانب تعمیراتی شعبے سے وابستہ مستری اور مزدوروں نے بھی بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر اپنی اجرتوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔ مستری کی یومیہ دھاڑی 2500 سے بڑھ کر 3000 روپے تک جا پہنچی جبکہ مزدور کی دیہاڑی بھی 1500 روپے تک ہو گئی ہے ۔ٹھیکیداروں اور بلڈرز نے کہا کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹیشن اخراجات میں اضافہ ہوا ہے ، جس کا براہ راست اثر تعمیراتی سامان کی قیمتوں پر پڑا ہے ۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو تعمیراتی سرگرمیاں مزید سست روی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث نہ صرف نئے منصوبے متاثر ہوں گے بلکہ جاری منصوبوں کی تکمیل میں بھی تاخیر کا خدشہ ہے ، جس سے مجموعی طور پر معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں