اے سی سی اے اور آئی ایم اے کا مشترکہ گلوبل اکنامک کنڈیشنز سروے جاری

اے سی سی اے اور آئی ایم اے کا مشترکہ گلوبل اکنامک کنڈیشنز سروے جاری

لاہور(بزنس ڈیسک)ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے ) اورانسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس(آئی ایم اے )کی جانب سے گلوبل اکنامک کنڈیشنز سروے Q1 202 جاری کیا گیاجس کے نتائج کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات غالب رہے ۔

سروے کا فیلڈ ورک 3 سے 19 مارچ کے دوران کیا گیا جو خطے میں تنازع کے آغاز کے ساتھ ہم وقت تھاجس نے شرکاء کے اعتماد کومتاثر کیا۔سروے کے نتائج پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔سروے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ترقی پذیر ممالک کے پاس ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے محدود مالی گنجائش ہوتی ہے جس سے مؤثر مالی حکمتِ عملی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔عالمی سطح پر 74 فیصد فنانس پروفیشنلز نے آئندہ تین ماہ میں مہنگائی میں اضافے کی توقع ظاہر کی، جو Q4 2025 میں 50 فیصد تھی جبکہ 35 فیصد نے شرح سود میں اضافے کی پیش گوئی کی۔ ایشیا پیسیفک میں جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا، جہاں 33 فیصد افراد نے اسے اولین ترجیح دی، جو عالمی اوسط 25 فیصد سے زیادہ ہے ۔ سائبر سکیورٹی کو عالمی سطح پر دوسرا بڑا خطرہ قرار دیا گیا جو پاکستان کی بڑھتی ڈیجیٹل معیشت اور فن ٹیک سیکٹر کیلئے بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے ۔ ہیڈ آف اے سی سی اے پاکستان اسد حمید خان نے کہا کہ یہ سروے پاکستان کے فنانس پروفیشنلز کو درپیش حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں