اسلامی بینکاری کے اثاثے 19 ٹریلین تک پہنچنے کا امکان

اسلامی بینکاری کے اثاثے 19 ٹریلین تک پہنچنے کا امکان

کراچی(بزنس ڈیسک)پاکستان کی اسلامی بینکاری صنعت تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور اندازہ ہے کہ دسمبر 2026 تک اسلامی بینکاری کے مجموعی اثاثے دسمبر 2025 کے 14.47 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 18 سے 19 ٹریلین روپے تک پہنچ جائیں گے۔

یہ تخمینے میزان بینک کی جانب سے کراچی میں منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران پیش کیے گئے ۔بریفنگ سے میزان بینک کے گروپ ہیڈ کنزیومر فنانس احمد علی صدیقی، ہیڈ شریعہ آڈٹ فرحان الحق عثمانی اور گروپ ہیڈ جنرل سروسز اینڈ کسٹمر سپورٹ محمد رضا نے خطاب کیا۔ سیشن کا مقصد اسلامی بینکاری، اس کی کارکردگی، ریگولیٹری سمت اور مستقبل کے ترقیاتی امکانات کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا تھا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلامی بینکاری کے ڈپازٹس دسمبر 2026 تک بڑھ کر 13.5 سے 14.5 ٹریلین روپے تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ اسلامی فنانسنگ پورٹ فولیو 5.65 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 7 سے 7.8 ٹریلین روپے تک جا سکتا ہے ۔

مجموعی بینکاری اثاثوں میں اسلامی بینکاری کا حصہ 22.9 فیصد سے بڑھ کر 25 سے 27 فیصد جبکہ ڈپازٹس میں حصہ 27.8 فیصد سے بڑھ کر 30 سے 32 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ صارفین کی بڑھتی ہوئی ترجیح، ریگولیٹری پیش رفت، برانچ نیٹ ورک میں توسیع، سکوک سرگرمیوں میں اضافہ اور سود سے پاک بینکاری نظام کی جانب پیش رفت اسلامی بینکاری کی ترقی کے اہم محرکات ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اسلامی بینکاری نے نمایاں ترقی ریکارڈ کی ہے ۔ اسلامی بینکاری کے اثاثے دسمبر 2021 کے 5.27 ٹریلین روپے سے بڑھ کر دسمبر 2025 تک 14.47 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ، جبکہ ڈپازٹس 3.62 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 11.04 ٹریلین روپے ہو گئے ۔ اسی عرصے میں اسلامی فنانسنگ پورٹ فولیو 2.35 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 5.65 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں