کھرڑیانوالہ ہسپتال : سہولیات کا فقدان، مریض پریشان
روزانہ1200مریضوں کاوزٹ ، سکیورٹی نہ ہو نے کے برابر ، میت رکھنے یا پوسٹ مارٹم کیلئے مارچری یونٹ بھی مو جو د نہیں ،ٹیکنکل عملہ بھی کم، حکام سے نو ٹس کا مطالبہ
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)پنجاب حکومت کی جانب سے صحت سہولیات کی فراہمی اور محکمہ صحت پر خصوصی توجہ کے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ثابت ہونے لگے ہیں۔ مراکز صحت کی آؤٹ سورسنگ کے باوجود محکمہ صحت کے مسائل کم نہ ہوسکے اور صحت مراکز محدود وسائل اور افرادی قوت کی شدید کمی کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔کھرڑیانوالہ کا 60 بیڈڈ ہسپتال، جو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے برابر خدمات انجام دیتا ہے ، بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ ہسپتال میں میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ اور پوسٹ پارٹم کی سہولیات تو موجود ہیں، تاہم میت کو رکھنے یا پوسٹ مارٹم کے لیے مارچری یونٹ موجود نہیں۔
ہسپتال میں یومیہ اوسطاً 450 انڈور اور 700 سے زائد آؤٹ ڈور مریض آتے ہیں، اس کے باوجود سکیورٹی کا مناسب انتظام موجود نہیں۔ صرف 3 غیر مسلح چوکیدار تعینات ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال یا تنازع کی صورت میں ناکافی ہیں، جبکہ پولیو مہم کے دنوں میں چوکیدار بھی موجود نہیں ہوتے ۔ہسپتال میں ایکسرے اور الٹراساونڈ کی سہولت تو موجود ہے ، مگر کوئی ریڈیالوجسٹ اور سپیشلسٹ تعینات نہیں۔ 60 بیڈز کے لیے صرف 12 نرسز دستیاب ہیں، جو چھٹیوں کی صورت میں مزید کم ہو کر 8 سے 10 رہ جاتی ہیں۔ اسی طرح 4 ڈسپنسر تعینات ہیں جبکہ ضرورت کم از کم 10 کی ہے ۔ 700 مریضوں کے لیے صرف ایک فارماسسٹ موجود ہے ، حالانکہ کم از کم 4 کی ضرورت ہے ۔صفائی کے عملے کی کمی بھی واضح ہے ، جہاں 60 بیڈڈ ہسپتال کے لیے صرف 3 سویپر تعینات ہیں۔
6 نائب قاصدوں میں سے 2 کو دیگر دفاتر میں منتقل کر دیا گیا ہے ، جس کے بعد صرف 4 رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مالی اور بیلدار کی سیٹیں بھی خالی ہیں، جبکہ ایک بڑے ہسپتال کیلئے کم از کم 2 مالی اور 2 بیلدار ضروری ہیں۔ٹیکنیکل سٹاف کی بھی شدید کمی ہے ، جہاں صرف 1 ایکسرے ٹیکنیشن اور 1 لیب ٹیکنیشن موجود ہے جبکہ ای سی جی ٹیکنیشن موجود ہی نہیں، حالانکہ کم از کم 3 کی ضرورت ہے ۔ہسپتال میں ایمرجنسی کی صورت میں جنریٹر بھی موجود نہیں، اور بجلی بند ہونے کی صورت میں صرف محدود سولر بیک اپ دستیاب ہے ، جو کسی بڑے آپریشن کے دوران ناکافی ثابت ہو سکتا ہے ۔ان تمام مسائل کے باوجود ہسپتال انتظامیہ کم وسائل میں خدمات جاری رکھے ہوئے ہے ، تاہم مریضوں اور شہریوں نے حکومت سے فوری طور پر سہولیات اور افرادی قوت کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔