میونسپل کارپوریشن میں احتساب کا نظام مفلوج،سزا پر عملدر آمد نہ ہونے کا انکشاف
ماتحت عملہ افسر وں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کرپٹ ساتھیوں کو بچانے لگا، 2022ء میں دی گئی سزا پر 4سال بعد بھی عملدرآمد نہ ہو سکا ،چیف آفیسر کا تحقیقات کا اعلان
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )میونسپل کارپوریشن فیصل آباد میں انکوائری اور سزا کے عمل کو مذاق بنا دیا گیا، ماتحت عملہ افسر وں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کرپٹ ساتھیوں کو بچانے لگا، 2022 ئمیں دی گئی سزا پر 4 سال بعد بھی عملدرآمد نہ ہو سکا۔ڈینگی مہم میں سنگین غفلت برتنے اور غیر قانونی ہفتہ وار بازار کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر جونیئر کلرک امان اللہ کو انکوائری کے بعد پانچ سال سروس ضبطگی کی سزا دی گئی، مگر تاحال اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا ، مذکورہ کلرک گزشتہ چار سال سے خلاف ضابطہ انکریمنٹ اور زائد تنخواہ وصول کر رہا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق جونیئر کلرک و انکروچمنٹ انسپکٹر امان اللہ پر الزام تھا کہ اس نے ڈینگی مہم کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں اور سرکاری فرائض میں سستی و غفلت برتی گئی، محمود آباد میں غیر قانونی ہفتہ وار بازار کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی ۔ان الزامات پر محکمانہ انکوائری میں تمام الزامات ثابت ہو گئے ، جس کے بعد پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی (پیڈا) ایکٹ 2006کے تحت چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن نے 5 سالہ سابقہ سروس ضبطگی کی سزا سنائی تاہم مبینہ طور پر اکاؤنٹ کلرک کی ملی بھگت سے حکم پر عملدرآمد کروایا گیا نہ ہی متعلقہ ملازم کی سروس بک میں درج کیا گیا۔یہ معاملہ ادارے میں احتساب کے عمل پر سوالیہ نشان ہے ۔چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن مرتضیٰ ملک کا کہنا ہے کہ معاملہ علم میں نہیں، جانچ پڑتال کے بعد سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔