سرکاری اراضی کے ٹھیکے میں 2 کروڑ 58 لاکھ کی مبینہ بے ضابطگی

سرکاری اراضی کے ٹھیکے میں 2 کروڑ 58 لاکھ کی مبینہ بے ضابطگی

محتسب پنجاب کے فیصلے پر ساڑھے چار سال بعد بھی عملدرآمد نہ ہو سکا

اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا )تحصیل اٹھارہ ہزاری کے موضع چک نمبر 7/2 تھل جنوبی میں مالی سال 2019-20 کے دوران سرکاری اراضی کے ٹھیکے سے متعلق 2 کروڑ 58 لاکھ 42 ہزار روپے کے واجبات کی وصولی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔ محتسب پنجاب کی جانب سے 11 مئی 2022  کو سرکاری واجبات کی وصولی اور متعلقہ ریونیو اہلکاروں کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006ء کے تحت محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کیے جانے کے باوجود ساڑھے چار سال سے زائد عرصہ گزرنے پر بھی مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔موجودہ اسسٹنٹ کمشنر اٹھارہ ہزاری نے 2 کروڑ 58 لاکھ 42 ہزار روپے کی ریکوری کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریونیو افسر، گرداور اور پٹواری کو 60 روز میں عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اُس وقت حلقہ پٹواری کی ذمہ داریاں انجام دینے والے احمد شیر، جو اب نائب تحصیلدار جھنگ تعینات ہیں، سمیت سابقہ تحصیلدار، گرداور اور دیگر متعلقہ افسران سے جواب طلب کیا جائے کہ سرکاری واجبات کی وصولی میں غفلت کا ذمہ دار کون تھا اور محتسب پنجاب کے فیصلے پر بروقت عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ علاوہ ازیں شہریوں نے موجودہ محکمہ مال کے پٹواریوں اور گرداوروں کے اثاثوں، جائیدادوں اور ذرائع آمدن کا شفاف جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کسی اہلکار کے اثاثوں میں آمدن سے غیرمتناسب اضافہ تو نہیں ہوا۔ شہریوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن جھنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...