جھڈو :وارہ بندی بڑھنے سے لاکھوں ایکڑپر فصلیں تباہی کے دہانے پر
گندم، سرسوں، سونف، کلونجی، سورج مکھی، اسپغول، ٹماٹر ، سبزیاں اور پھل متاثر پینے کے پانی کا بحران بھی بڑھنے لگا، محکمہ آبپاشی صورتحال کا نوٹس لے ، مکینوں کا مطالبہ
جھڈو (نمائندہ دنیا) نہروں کی سالانہ وارہ بندی کا دورانیہ بڑھنے سے لاکھوں ایکڑپر کاشت فصلوں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں، ہر برس 6 جنوری کو وارہ بندی ہوتی ہے اور 15 دن بعد پانی کھول دیا جاتا ہے ، لیکن رواں برس وارہ بندی کا دورانیہ 10 روز بڑھا دیا گیا جس کی آبادگاروں کو کوئی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ نہروں میں پانی یکم فروری سے کھولا جائے گا جو 10 سے 12 دنوں میں ٹیل تک پہنچے گا۔ نارا کینال سے تھر واہ،مٹھڑاؤ کینال، جمڑاؤ کینال ایسٹ اور ویسٹ نکلتے ہیں، نارا کینال پر سندھ کے بالائی علاقوں سمیت زیریں سندھ کے وسیع علاقے کے زرعی زمینوں کو پانی ملتا ہے ۔ پانی کی فراہمی میں تاخیر سے لاکھوں ایکڑوں پر کھڑی گندم، سرسوں، سونف، کلونجی، سورج مکھی، اسپغول، پیاز کے بیج اور ٹماٹر سمیت جانوروں کے چارے ، سبزیوں، پھلوں کے باغات پانی کی کمی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ نقصان گندم کی فصل کو ہو رہا ہے ۔ گندم کی فصل تیاری کے آخری مرحلے میں ہے ، جسے اس وقت پانی کی اشد ضرورت ہے جبکہ پچھلی فصل کی نشوونما بھی پانی کی کمی سے شدید متاثر ہو رہی ہے ، جس سے گندم سمیت سیزن کی دیگر فصلوں کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے جبکہ فصلوں کے ساتھ ساتھ شہری و دیہاتی علاقوں میں بھی پینے کے پانی کی شدید کمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ عوامی حلقوں نے محکمہ آبپاشی سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔