نوکوٹ:دیگر شہروں کوجانیوالی گاڑیاں زائد کرایہ لینے لگیں
حکومت کاجاری کرایہ نامہ نظرانداز، پٹرول مہنگا ہونے پربھی کرایہ بڑھایا تھاشہریوں کا دوسرے شہر جانا مشکل، حکومت کرایہ نامے پر عمل کرائے ، شہری
نوکوٹ (نمائندہ دنیا) سندھ کے چار اضلاع کے سنگم پر واقع نوکوٹ شہر میں ٹرانسپورٹ کرایوں کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا، جہاں مختلف شہروں کیلئے چلنے والی ٹرانسپورٹ نے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کرایہ نامہ یکسر نظرانداز کر دیا۔ حالانکہ تھرپارکر، کنری، بدین، میرپورخاص، حیدرآباد اور کراچی جانیوالی نان اے سی اور اے سی کوچز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد از خود کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا، جس کے باعث عوام کیلئے شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا مشکل ہو گیا۔ دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے حالیہ نوٹیفکیشن میں کرایوں کی نئی شرح مقرر کی گئی جس کے مطابق نان اے سی ٹرانسپورٹ کا کرایہ فی کلومیٹر 3 روپے 30 پیسے جبکہ اے سی کوچ کا کرایہ 3 روپے 80 پیسے مقرر کیا گیا ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، اور ٹرانسپورٹرز اس نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کے بجائے من مانے کرائے وصول کر رہے ہیں، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ مافیا اور متعلقہ اداروں کے مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث نہ صرف پہلے سے زائد کرائے وصول کیے جا رہے ہیں، بلکہ اب سرکاری نرخ نامے کے باوجود مسافروں اور ٹرانسپورٹ عملے کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر تلخ کلامی اور جھگڑے معمول بنتے جا رہے ہیں شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جاری کردہ کرایہ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔