دریائے سندھ میں پانی کی شدید قلت، بحران سنگین ہوگیا
اکرم واہ سسٹم میں طویل وارہ بندی نافذ، زراعت کوبڑا دھچکا لگنے کاخدشہ
پنگریو (نمائندہ دنیا)کوٹری بیراج پر پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا، اکرم واہ سسٹم میں طویل وارہ بندی، زرعی معیشت کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ دریائے سندھ میں پانی کی شدید قلت کے باعث کوٹری بیراج پر آبی بحران مزید سنگین ہوگیا، جس کے نتیجے میں سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (سیڈا) حیدرآباد کے لیفٹ بینک کینال ایریا واٹر بورڈ بدین نے اکرم واہ سسٹم میں طویل وارہ بندی نافذ کردی۔ ماہرین اور کاشتکار حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر پانی کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو زیریں سندھ کی زراعت کو شدید نقصان اور خریف کی فصلوں کی کاشت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ایگزیکٹو انجینئر اکرم واہ ڈویژن بدین کے اعلامیے کے مطابق دریائے سندھ میں شدید آبی قلت کے باعث کوٹری بیراج ہیڈ ورکس پر پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ، جس کے اثرات اکرم واہ اور 70 میل ریگولیٹر پر بھی مرتب ہوئے۔
پانی کے اخراج میں مسلسل کمی سے محکمہ آبپاشی نے نظرثانی روٹیشن پروگرام جاری کرتے ہوئے مختلف نہری نظاموں اور سب ڈویژنوں میں مرحلہ وار وارہ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ دستیاب پانی ٹیل تک پہنچایا جاسکے ۔ شیڈول کے مطابق شادی واہ لارج سسٹم کو 11 جون سے بند رکھاجائیگا جبکہ بہادر واہ سسٹم کو دو مختلف ادوار میں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح سنی گونی برانچ سسٹم کو12 سے 20 جون تک پانی ملے گا جبکہ شیر واہ اور اس سے منسلک مائنرز بشمول ٹی پی ایس کو 16 جون سے 25 جون تک اوپن رکھا جائے گا پھر طویل وارہ بندی ہوگی۔