بزرگ جماعت اسلامی رہنما، ماہر تعلیم پروفیسر مسعود چل بسے
84سال عمر، علالت کے باعث اسپتال داخل تھے ، روہڑی میں تدفین کی گئیمرحوم 6سال امیر جماعت سکھر رہے ، تنظیم اساتذہ رہنماؤں کا انتقال پرافسوس
سکھر، حیدر آباد(بیورو رپورٹس)جماعت اسلامی سندھ کے بزرگ رہنما، تعلیمی ماہر اور سابق امیر ضلع سکھر پروفیسر کنورمسعود علی خاں 84سال کی عمرمیں انتقال کرگئے ، مرحوم کافی عرصے سے علیل وزیرعلاج تھے ۔ان کی نمازجنازہ عوامی پارک میمن محلہ روہڑی ضلع سکھر میں دیرینہ ساتھی مسیح الدین کی اقتدامیں اداکرنے کے بعد مقامی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔نمازجنازہ میں مرکزی رہنماؤں سمیت شکارپور، نوشہروفیروز، میرپورخاص کے امراء اضلاع عبدالسمیع بھٹی، نعیم کمبوہ، سلمان خالد و مقامی رہنما برادر تنظیمات کے عہدیداران، مختلف سیاسی وسماجی رہنما، اساتذہ سمیت قریبی رشتہ دار شریک تھے۔ مرحوم نے اسلامیہ سائنس کالج سکھر میں بطور پروفیسر، صدر تنظیم اساتذہ پاکستان سندھ کے علاوہ پرنسپل حرا پبلک اسکول سکھر میں طویل عرصہ خدمات سرانجام دیں۔
2002میں ریٹائرمنٹ کے بعد رکن بن کرباقاعدہ عملی طورجماعت اسلامی کا تنظیمی حصہ بنے ،6سال امیرضلع اوررکن صوبائی مجلس شوریٰ دعوت وتنظیم اورحق گوئی وبے باقی کے حوالے سے انہوں نے حق ادا کیا، اس دوران قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت بھی حاصل کی۔ بحیثیت صدر تنظیم اساتذہ سندھ وہ طویل عرصے تک اس ذمہ داری پر فائز رہے ۔ انہوں نے اساتذہ کے حقوق کے تحفظ، تعلیمی معیار کی بہتری اور تنظیم کو متحرک رکھنے کے لیے انتھک محنت کی۔ پرانا سکھر میں قائم جماعت اسلامی کے مرکز مدرسہ تفہیم القرآن کے مہتمم کے طور بھی فرائض سرانجام دیئے ۔ دوسری جانب تنظیم اساتذہ پاکستان کے مرکزی صدر ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال، صدر تنظیم اساتذہ سندھ پروفیسر رئیس احمد منصوری، نائب صدر شاکر شکورودیگر نے سابق صدر تنظیم اساتذہ پاکستان صوبہ سندھ اور ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر مسعود علی خان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔