بجٹ عوام دشمن، زمینی حقائق سے متصادم ہے ، صاحبزادہ زبیر

بجٹ عوام دشمن، زمینی حقائق سے متصادم ہے ، صاحبزادہ زبیر

شرح نمو ہدف4، افراط زراوسط شرح 8.2فیصد مقرر کرنے پر اظہار تشویشگھی، بچوں کے دودھ سمیت خوردنی اشیا پر 18فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا، بیان

حیدر آباد (بیورو رپورٹ)جمعیت علما پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مالی سال 2026-2027 کے بجٹ کو عوام دشمن، اشرافیہ نواز اور زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ،جس میں شرح نمو کا ہدف 4فیصد،افراط زر کی اوسط شرح 8.2فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ دودھ،گھی،بچوں کا فارمولا ملک اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات خوردنی تیل،مٹھائیاں،پاستااور مختلف ساسز سمیت درجنوں اشیا پر 18فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا۔

اس کے علاوہ ریٹیل پیکنگ والی زرعی ادویات،جراثیم کش مصنوعات،پلاسٹک کی گھریلو اشیا،کچن ویئر،اسٹویج آئٹمز پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے ،جوتے ،سوٹ کیس،ہینڈبیگ بھی مہنگے ہو گئے ہیں جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام کو مہنگائی کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایک مرتبہ پھر ثابت کرتا ہے کہ حکمران طبقہ عوام کو قربانیوں، صبر اور کفایت شعاری کا درس دے کر خود اپنی تنخواہوں، مراعات اور شاہانہ اخراجات میں مسلسل اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے، غریب، مزدور، کسان، پنشنر اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے سبب مشکلات کا شکار ہے، لیکن بجٹ میں ان طبقات کیلئے قابلِ ذکر اور حقیقی ریلیف موجود نہیں۔ دوسری جانب وزرا اور اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات میں اضافے کی روایت برقرار ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں