ملکی معیشت تباہی کی بنیادی وجہ سودی قرض ہے، تنظیم اسلامی

ملکی معیشت تباہی کی بنیادی وجہ سودی قرض ہے، تنظیم اسلامی

بجٹ، قومی اقتصادی سروے نے بھی ثابت کردیا،سودی نظام ختم کرنا ہوگاسود اللہ اور رسول سے جنگ، شرعی عدالتی فیصلے پر عمل ناگزیر، شجاع الدین

دادو (ڈسٹرکٹ ڈیسک)بجٹ اور قومی اقتصادی سروے نے ثابت کر دیا ملکی معیشت کی تباہی کی بنیادی وجہ سودی قرض ہے ۔ جب تک اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کو ختم نہیں کیا جاتا، ملکی معیشت میں بہتری ناممکن ہے ۔ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ جس کا کُل حجم 18771 ارب روپے ہے ، کا 43 فیصد یعنی 8054 ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیا گیا ہے ۔ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پر اِس وقت کُل 83.3 کھرب روپے کا سودی قرض ہے۔

جس میں 69 فیصد اندرونی قرض جبکہ 31 فیصد بیرونی قرض ہے ۔ پھر یہ کہ کُل بجٹ خسارہ 7020 ارب روپے کا ہے ، جسے مزید سودی قرضے لے کر ہی پورا کیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے جاری قومی اقتصادی سروے برائے مالی سال 27-2025بھی اِس شرمناک حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام کو مہنگائی کے پہاڑ تلے دبانے کی بڑی وجوہات سودی قرض، اشرافیہ نوازی اور کرپشن و لوٹ مار ہیں۔ اُنہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وفاقی شرعی عدالت کے 2022ء کے فیصلے جس کے مطابق حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ ہر نوع کے سود کو مکمل طور پر ختم اور ملکی معیشت کو اسلامی اصولوں کے مطابق اُستوار کیا جائے ۔جب تک ایسا نہیں کریں گے ،ملکی معیشت نحوست اور بربادی کا شکار ہی رہے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں