صوبہ ہزارہ کا واضح روڈ میپ دیا جائے ،خورشید ہزاروی

 صوبہ ہزارہ کا واضح روڈ میپ دیا جائے ،خورشید ہزاروی

ہمیں اب صرف وعدے نہیں چاہئیں، صوبہ وسائل کے منصفانہ استعمال کا مطالبہ صوبہ ہزارہ کو انتخابی نعرے کے بجائے پارلیمانی ایجنڈا بنانا ہوگا،پریس کانفرنس

کراچی (اسٹاف رپورٹر )صوبہ ہزارہ تحریک کے کوآرڈینیٹر سندھ خورشید علی ہزاروی نے اتوار کوکراچی پریس کلب میں ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کسی قوم، زبان یا شناخت کے خلاف نہیں بلکہ انتظامی انصاف، بہتر حکمرانی اور وسائل کے منصفانہ استعمال کا مطالبہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک کئی دہائیوں پر محیط عوامی جدوجہد ہے ۔ اس میں مشکلات برداشت کیں، قربانیاں دیں اور جانوں کے نظرانے بھی پیش کیے ۔ لیکن ہم نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔ہم تشدد پر یقین نہیں رکھتے ، نفرت کی سیاست نہیں کرتے ، کسی قوم کو دشمن نہیں سمجھتے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر ہزارہ وال قوم کو پختون، گجر اور ہندکو میں تصادم کی سازشوں میں ملوث کر رہے ہیں لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ ہم زبان، نسل یا قبیلے کی بنیاد پر صوبہ نہیں مانگ رہے ۔ ہزارہ 21 قبائل کی مشترکہ زمین ہے ۔ ہزارہ اور پختون عوام کے درمیان تاریخی رشتے اور بھائی چارہ ہے ۔خورشید علی ہزاروی نے کہا کہ دنیا میں انتظامی ڈھانچے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں۔ جب آبادی بڑھتی ہے اور مسائل میں اضافہ ہوتا ہے تو نئے انتظامی یونٹس بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ اگر صوبہ ہزارہ کا مطالبہ آئینی دائرے میں ہے اور عوام مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں تو آئینی عمل کا اگلا قدم کب اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اب صرف وعدے نہیں چاہیے ، ہمیں واضح روڈ میپ چاہیے ۔ صوبہ ہزارہ کو انتخابی نعرے کے بجائے پارلیمانی ایجنڈا بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فیصلہ سازی عوام کے قریب ہو۔انہوں نے کہا کہ ہمارا عہد ہے کہ ہم حکومت سے تصادم نہیں چاہتے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...