جناح اسپتال میں تولیدی صحت سے متعلق اہم کامیابی

جناح اسپتال میں تولیدی صحت سے متعلق اہم کامیابی

منجمد جنین کی منتقلی سے 10 سال بعد بے اولاد جوڑے کے لیے خوشخبریسندھ تولیدی و جینیاتی صحت مرکز میں جوڑے کو مفت سہولت فراہم کی گئی

کراچی (سٹی ڈیسک)کراچی سندھ تولیدی و جینیاتی صحت مرکز، وارڈ 9-B، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں ایک اور اہم طبی کامیابی حاصل ہوئی ہے ، جہاں مفت آئی وی ایف، آئی سی ایس آئی اور منجمد جنین کی منتقلی کے کامیاب علاج کے نتیجے میں 10 سال سے بے اولاد 28 سالہ خاتون کے ہاں حمل ٹھہر گیا۔مریضہ کو بچہ دانی کی نالیوں کے بند ہونے ، پی سی او ایس اور شوہر میں تولیدی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا تھا مرکز کی ماہر ٹیم نے مکمل علاج مفت فراہم کیا۔ 16 اپریل 2026 کو بیضہ حاصل کرنے کا عمل کیا گیا، جبکہ 6 اگست 2026 کو منجمد جنین کی منتقلی کی گئی، جس کے نتیجے میں حمل کی تصدیق ہوئی پروفیسر ڈاکٹر نگہت علی شاہ نے کہا کہ یہ مستحق جوڑا نجی شعبے میں تقریباً 18 لاکھ روپے کے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا، تاہم سندھ تولیدی و جینیاتی صحت مرکز میں انہیں والدین بننے کی امید مکمل طور پر مفت فراہم کی گئی انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی قیادت میں سرکاری شعبے میں جدید طبی سہولیات مستحق مریضوں تک پہنچانے کے عزم کا عملی ثبوت ہے اس کامیاب علاج میں ڈاکٹر ندا، ڈاکٹر کنول، ڈاکٹر بختاور اور ڈاکٹر تکثر سمیت مرکز کی ماہر طبی ٹیم نے اہم کردار ادا کیاسندھ تولیدی و جینیاتی صحت مرکز، جناح اسپتال کے وارڈ 9-B، شعبہ امراضِ نسواں و زچگی کا اہم حصہ ہے اور 2019 سے مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں کو جدید تولیدی اور بانجھ پن کے علاج کی سہولیات مفت فراہم کر رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...