مہنگائی، بیکری مصنوعات غریب کی پہنچ سے باہر
میدہ 20 روز میں 1200 روپے مہنگا، بیکری مالکان کی ڈبل روٹی، رس، بسکٹ دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافے کی تیاریاں شروع
سرگودھا(نعیم فیصل سے ) ضلع میں مہنگائی کے بے قابو جن نے روٹی کے ساتھ ساتھ بیکری مصنوعات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میدے کی 50 کلو بوری صرف 20 روز کے دوران 1200 روپے مہنگی ہو کر 7500 روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد بیکری مالکان نے ڈبل روٹی، رس، بسکٹ اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں قیمتیں بڑھائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق آٹے کے مبینہ مصنوعی بحران اور خام مال کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث فلور ملز کی جانب سے میدے کی 50 کلو بوری، جو پہلے 6300 روپے میں فروخت ہو رہی تھی، اب 7500 روپے سے زائد میں فروخت کی جا رہی ہے ۔ بیکری مالکان کا کہنا ہے کہ میدے کے علاوہ دیگر خام مال کی قیمتوں میں بھی روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ مبینہ ذخیرہ اندوزی نے کاروبار کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ۔
بیکری مالکان کے مطابق بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باعث مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوتا جا رہا ہے ، تاہم صارفین کی قوتِ خرید پہلے ہی شدید متاثر ہونے کے باعث کاروبار بھی تنزلی کا شکار ہے ۔دوسری جانب شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سبزیوں، دالوں، آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام نہیں آ رہا۔ شہریوں کے مطابق آٹے کی مبینہ مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ، جبکہ پرائس کنٹرول کے دعوے کرنے والی سرکاری مشینری مؤثر کارروائی سے گریزاں دکھائی دیتی ہے ۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے ، بصورت دیگر بیکری مصنوعات سمیت روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء مزید مہنگی ہونے سے عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments