بلدیاتی اداروں میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
کے ایم سی، ٹی ایم سیز اور دیگر اداروں میں افسران کی کارکردگی کا جائزہ جاری، تبادلوں اور تعیناتیوں کے لیے ابتدائی فہرستیں تیار کرنے کی اطلاعات انتظامی کارکردگی اور مالی معاملات کا جائزہ ، ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد اور شہری مسائل کے حل میں پیشرفت کو بھی فیصلوں کی بنیاد بنایا جارہا ہے ،ذرائع
کراچی(این این آئی)محکمہ بلدیات، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)، مختلف ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز (ٹی ایم سیز) اور دیگر اہم سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ، جبکہ گڈ گورننس، شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کے لیے افسران کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کی تیاریاں جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔باخبر ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے مختلف محکموں اور اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مختلف محکموں کے افسران کی کارکردگی رپورٹس طلب کی ہیں اور اہم عہدوں پر تعینات افسران کی کارکردگی، انتظامی صلاحیت اور عوامی شکایات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے جبکہ ممکنہ تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے لیے ابتدائی فہرستیں بھی تیار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق کراچی کے بلدیاتی اداروں، خصوصاً کے ایم سی اور مختلف ٹی ایم سیز میں بھی انتظامی کارکردگی اور مالی معاملات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔
بعض اداروں میں احتسابی عمل تیز کیے جانے اور افسران کی ذمہ داریوں میں ردوبدل کا امکان ہے ۔ متعلقہ اداروں کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد اور شہری مسائل کے حل میں پیش رفت کو بھی فیصلوں کی بنیاد بنایا جارہا ہے ۔ذرائع نے کہاکہ مختلف تحقیقاتی و احتسابی اداروں کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں اور بعض معاملات میں متعدد افسران کے کردار کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ مختلف محکموں میں انتظامی بے ضابطگیوں، شکایات اور دیگر معاملات سے متعلق معلومات جمع کرکے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جارہا ہے ۔باخبر حلقوں کے مطابق سندھ حکومت کے گڈ گورننس ایجنڈے کے تحت سرکاری محکموں میں اصلاحات، شفافیت کے فروغ اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی سطح پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔ کارکردگی کی بنیاد پر افسران کو اہم ذمہ داریاں دینے اور ناقص کارکردگی کے حامل افسران کو تبدیل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔سیاسی اور بلدیاتی حلقوں نے متوقع انتظامی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے جبکہ سرکاری سطح پر ممکنہ تبادلوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر مجوزہ اقدامات کی منظوری دی گئی تو آئندہ چند ہفتوں کے دوران سندھ کی بیوروکریسی اور بلدیاتی اداروں کے انتظامی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آسکتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments