شہزادی نادرہ بانو کا مقبرہ آج بھی مغل طرز تعمیر کا شاہکار

شہزادی نادرہ بانو کا مقبرہ آج بھی مغل طرز تعمیر کا شاہکار

لاہور(سہیل احمد قیصر) کئی صدیوں کا سفر بھی مغل شہزادی نادرہ بانوبیگم کے مقبرے کی عظمت رفتہ نہ چھین سکا،وقت کے تھپیڑوں نے عمارت کو متاثر ضرور کیا ۔

لیکن یہ آج بھی روایتی مغل طرز تعمیر کا شاہکار دکھائی دیتی ہے ۔تفصیل کے مطابق نادرہ بانوبیگم کا مقبرہ حضرت میاں میر دربار کے بالکل قریب ہے ،یہ مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیرکی بھتیجی، شہزادہ سلطان پرویز کی بیٹی اور مشہور مغل شہزادے دارالشکوہ کی بیوی نادرہ بانو بیگم کا مقبرہ ہے ،دارالشکوہ اقتدار کی جنگ میں اپنے سگے بھائی اورنگ زیب عالمگیر کے ہاتھوں ماراگیا تھا۔نادرہ بانو بیگم اپنے شوہر کی موت سے پہلے ہی دربدر بھٹکتے بھٹکتے 1659میں دارفانی سے کوچ کرگئی تھی۔اُسے دارالشکوہ کی خواہش پر آج کے بلوچستان کے ایک علاقے سے لاکرحضرت میاں میردربار کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔ تاریخ دان ثمینہ فاضل خان کے مطابق اقتدار کی جنگ میں جب اورنگ زیب کا پلڑا بھاری ہوگیا تو دارالشکوہ جان بچانے کیلئے بلوچستان کی طرف چلا گیا، وہیں نادرہ بیگم بیمار ہوکر انتقال کرگئیں ۔ کنزرویشن آرکیٹیکٹ وجاہت علی کا کہنا تھا محراب نما بارہ دریاں،دیدہ زیب نقش ونگار اور ہوادار راہداریاں اِس عمارت کی بھی پہچان ہیں جو مغلوں کا روایتی طرز تعمیر ہے ،تاریخ کے یہ نقوش ہمارا ورثہ ہیں جن کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں