پنجاب:35لاکھ ایکڑ اراضی قابل کاشت نہ بنائی جاسکی
لینڈ لیولنگ کے لیے درکار بلڈورز کی کمی، کاشت میں بڑا مسئلہ ،پنجاب بھر میں ضائع شدہ زرعی اراضی کی لیولنگ کے لیے صرف 297 بلڈوزرز کا فلیٹ موجود محکمہ زراعت کے پاس موجودہ بلڈورز فلیٹ عمر ریسدہ ہو چکے ،سب سے زیادہ ضائع شدہ زرعی اراضی ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں 12 لاکھ 55 ہزار 268 ایکڑ
لاہور (عمران اکبر )پنجاب میں 35 لاکھ 82 ہزار 950 ایکڑ اراضی قابل کاشت اراضی ویسٹ لینڈ قرار،کاشت کاری کے قابل ہونے کے باجودکاشت نہ کی جا سکی۔ تفصیلات کے مطابق لینڈ لیولنگ کے لیے درکار بلڈورز کی کمی، کاشت میں بڑا مسئلہ ہے ،محکمہ زراعت کے پاس موجودہ بلڈورز فلیٹ عمر ریسدہ ہو چکے ہیں، پنجاب بھر میں ضائع شدہ زرعی اراضی کی لیولنگ کے لیے صرف 297 بلڈوزرز کا فلیٹ موجود ہے ، 297 بلڈوزرز بھی 1985 سے 1993 کے دوران خریدے گئے ۔سب سے زیادہ ضائع شدہ زرعی اراضی ڈی جی خاں ڈویژن میں 12 لاکھ 55 ہزار 268 ایکڑ ہے ۔دوسرے نمبر پر راولپنڈی جبکہ تیسرے نمبر پر بہاولپور ڈویژن میں موجود ہے ۔
محکمہ زراعت کا ضائع شدہ زرعی اراضی کو قابل کاشت بنانے کا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ایک ارب 55 کروڑ کی لاگت سے تین سالہ منصوبہ شروع کیا جائیگا،منصوبے کے تحت مرحلہ وار لینڈ لیولنگ کے لیے بلڈورز کی فراہمی بھی کی جائیگی۔وزیر زراعت پنجاب عاشق کرمانی کا کہنا ہے کہ مشینری کی خریداری کے لئے بہت ساری کمپنیز اس وقت رابطے میں ہیں ،منصوبے کے تحت مرحلہ وار لینڈ لیولنگ کے لیے بلڈورز کی فراہمی رویمپنگ منصوبے کا حصہ ہے ۔ قابل کاشت زمین کو زیرکاشت لایا جائے گا۔