جنگلات کے منصوبے سست روی کا شکار:50لاکھ پودے لگانے کا ہدف پورا نہ ہوسکا
میاواکی جنگل کا نیا منصوبہ تاخیر کاشکار، اربن فاریسٹ کیلئے شجرکاری نہ ہو سکی،لنگز آف لاہور کے تحت 20 ایکڑ پر پودے لگائے گئے 780ایکڑ اراضی شجرکاری کی منتظر ، پی ایچ اے کی غفلت پر پارکس میں اربن فاریسٹ کیلئے مختص مقامات بھی شجرکاری سے محروم
لاہور(شیخ زین العابدین )لاہور میں میاواکی جنگل اور اربن فاریسٹ کے منصوبے سُست روی کا شکار ہو گئے ۔4سال سے میاواکی جنگل کا نیا منصوبہ شروع نہ ہو سکاجبکہ اربن فاریسٹ کیلئے مختص مقامات پر بھی شجرکاری نہ ہو سکی۔ پنجاب حکومت کا لاہور میں 50 لاکھ پودے لگانے کا ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔ذرائع کے مطابق ماضی میں لاہور کے 51مقامات پر میاواکی جنگل لگائے گئے جہاں کم جگہ پر زیادہ سے زیادہ درخت اگانے کی تکنیک اپنائی گئی تاہم مالی سال2022کے بعد شہر میں میاواکی جنگل کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا۔موجودہ حکومت نے میاواکی تکنیک کی بجائے اربن فاریسٹ کے تحت شجرکاری کا اعلان کیا جسکا مقصد سرکاری اراضی اور مختلف لینڈ پاکٹس پر درخت لگانا تھا لیکن پی ایچ اے لاہور کی جانب سے اس مہم پر بھی مطلوبہ توجہ نہ دی جا سکی۔
رنگ روڈ کے اطراف میاواکی جنگل لگانے کا منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا جبکہ مختلف پارکس میں اربن فاریسٹ کیلئے مختص مقامات بھی شجرکاری سے محروم ہیں۔ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 5کروڑ نئے درخت لگانے کا منصوبہ بنایاجبکہ لاہور میں لنگز آف لاہور کے نام سے شجرکاری مہم شروع کی گئی۔ پی ایچ اے کے مطابق راوی کے دونوں اطراف 800 اراضی پر شجرکاری ہونا تھی تاہم اب تک صرف 20 ایکڑ پر پودے لگائے جا سکے،780ایکڑ اراضی تاحال شجرکاری کی منتظر ہے ۔شہر میں شجرکاری کی سرگرمیاں اب لنگز آف لاہور اور گرین کوریڈور منصوبوں پر مرکوز ہیں۔ڈی جی پی ایچ اے احمد عثمان جاوید کے مطابق لنگز آف لاہور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور شجرکاری جاری ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments