فارماسسٹس کو ڈاکٹر کے ٹائٹل کا حق، پی پی اے کا ردعمل
پی ایم ڈی سی خط پر تحفظات، قوانین کے مطابق فیصلوں کا مطالبہ کردیا
ملتان (لیڈی رپورٹر)پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن (پی پی اے )نے پی ایم ڈی سی کے خط پر باضابطہ ردعمل جاری کرتے ہوئے بعض نکات پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔پی پی اے کے مرکزی صدر عالمگیر راؤ نے کہا کہ فارمیسی پروفیشن واضح قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ فارمیسی ایکٹ 1967، ڈرگز ایکٹ 1976 اور ڈریپ ایکٹ 2012 کے تحت فارماسسٹس اپنے دائرہ اختیار میں قانونی طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور فارمیسی پریکٹس کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں فارماسسٹس کو یہ بنیادی حقوق حاصل ہیں اور ان کا کردار مریضوں کی دیکھ بھال اور ادویات کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے تحت ڈاکٹر آف فارمیسی (Pharm-D) کو باقاعدہ تسلیم شدہ ڈگری قرار دیا گیا ہے ، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور فارمیسی کونسل آف پاکستان بھی اس ڈگری کے حامل افراد کو ڈاکٹر لکھنے کی اجازت دے چکے ہیں۔عالمگیر راؤ نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ فارمیسی سے متعلق فیصلے مروجہ قوانین کے مطابق کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی اے فارماسسٹس کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔پی پی اے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوامی صحت کے تحفظ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی جاری رکھے گی، جبکہ فارماسسٹ کمیونٹی کو بے بنیاد پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہونے کی تلقین کی گئی ہے ۔