لنگر والا پل کے مقام پر بند کی تعمیر نا گزیر تجاویز صوبائی حکام کو ارسال کردی گئیں
دریائے جہلم کے بائیں جانب لنگر والا پل کی اپ سٹریم پر واقع موضع خسکن، غازی آباد، چاندنہ، دادھن سمیت درجنوں دیہات ہر مرتبہ سیلابی صورتحال سے نبر آزما رہے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) تحصیل ساہی وال کی مختلف آبادیوں کو ممکنہ سیلاب 2026سے بچانے کیلئے لنگروالا پل کے مقام پر بند کی تعمیر ناگزیر قرار دیتے ہوئے حتمی تجاویز صوبائی حکام کو ارسال کر دی گئیں،ذرائع کے مطابق لگ بھگ ایک دہائی قبل تعمیر ہونیوالے لنگر والا پل کی بناوٹ میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث دریائے جہلم میں پانی کے بہاؤ کی سمت تبدیل اور پانی کے گزرنے کا راستہ تقریباً 8 کلومیٹر سے کم ہو کر 0.6 کلومیٹر رہ گیا ہے دریائے جہلم کے بائیں جانب لنگر والا پل کی اپ سٹریم پر واقع موضع خسکن، غازی آباد، چاندنہ، دادھن سمیت درجنوں دیہات ہر مرتبہ سیلابی صورتحال سے نبر آزما رہے ،اور سابقہ سالوں میں خطیر نقصان بھی ہو چکا ہے ۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابقہ کمشنر سرگودھا ڈویژن کی زیر صدارت چند سال قبل ہونیوالے اجلاس میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا تھاکہ ایک فلڈ بند تعمیر کیا جائے تاکہ ان دیہات/آبادیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے جو دریائے جہلم میں کسی بھی سیلابی صورتحال کی صورت میں متاثر ہو سکتی ہیں جس پر اعلی سطحی ٹیکنیکل کمیٹی نے ساہی وال شہر اور ملحقہ درجنوں دیہات کو بچانے کیلئے پل کے بائیں سائیڈ پر ایک پروٹیکشن بند تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا جو مسلسل التواء کا شکار ہو رہا ہے۔
تاہم متذکرہ دیہی علاقوں کے رہائشیوں کی درخواست پر عوامی نمائندوں اور موجودہ ضلعی انتظامیہ نے محکمہ آبپاشی سے کو سفارشات ارسال کیں جن میں کہا گیا کہ وہ متذکرہ آبادیوں/دیہات اور ان کی زرعی زمینوں کو سیلاب کے دوران زیر آب آنے سے بچانے کے لیے مناسب فلڈ بند/فلڈ ٹریننگ اسٹرکچر کی تعمیر یقینی بنائی جائے۔ ذرائع کا کہنا کہ محکمہ انہار اور دیگر متعلقہ شعبوں کی جانب سے سائٹ کا ماڈل مطالعہ کیا جا چکا ہے ۔اور محکمہ آبپاشی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے تجویز دی کہ فلڈ بند کو اپروچ روڈ کے بائیں جانب 1.5 کلومیٹر سے شروع کر کے اپ سٹریم کی طرف 6.0 کلومیٹر تک تعمیر سمیت پانی کے بہاؤ کو بہتر سے بہتر کرنے کیلئے دیگر تجاویز صوبائی حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں جس پر جلد پیش رفت متوقع ہے ۔