1300سے زائد ریونیو کیسز داخل دفتر کئے جانے کا انکشاف
1300سے زائد ریونیو کیسز داخل دفتر کئے جانے کا انکشاف سائلین کی ایک بڑی تعداد خوار ہو کر رہ گئی ،افسران نے خاموشی اختیار کر لی
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں محکمہ مال کے افسران کی جانب سے حکومتی کاروائی سے بچنے کیلئے 1300سے زائد ریونیو کیسز داخل دفتر کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث سائلین کی ایک بڑی تعداد نہ صرف خوار ہو کر رہ گئی ہے بلکہ اس بدترین مثال نے نہ صرف حکومتی میرٹ پالیسی کی دھجیاں روندھ ڈالی ہیں اور اعلی افسران کے علم میں ہونے کے باوجود اس حوالے سے خاموشی اختیار کرنے کی روش نے ادارے کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں ،ذرائع کے مطابق حکومت کی ہدایت پربورڈ آف ریونیو پنجاب نے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967میں تبدیلی کرکے ریونیو آ فیسرز کو تقسیم اراضی کے کیسز کا 60دنوں میں فیصلہ کرنے کا پابند کر رکھاہے ، ابتدائی طور پر متعلقہ افسران کوسابقہ تمام زیرکار کیسز 2026-02-14 سے 2026-04-14 تک فیصلہ کرنیکی ہدایت کی گئی تھی ،قانون کے مطابق اگر ریونیو آ فیسرز ساٹھ دن کے اندر فیصلہ نہیں کر سکتا تو کیس اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں چلا جائے گا اور60یوم کی مدت میں فیصلہ نہ کرنے والے ریونیو آ فیسرز کو انکوائری کا سامنا کرنا پڑے گا ، تاہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرگودھا سمیت تمام تحصیلوں کے ریونیو آ فیسرز نے اپنے خلاف کارروائی سے بچنے کی خاطر انکی عدالتوں میں زیر سماعت لگ بھگ 13سو سے زائد کیسز کومبینہ طور پر اعلیٰ آ فیسرز کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے داخل دفتر کردیا ہے کسی بھی ریونیو آ فیسرز نے کوئی کیس اسسٹنٹ کمشنر ز کی عدالت میں ٹرانسفر نہیں کیا۔