محکمہ زراعت کا فیلڈ نظام کمزور، انٹرن شپ پر انحصار بڑھنے لگا

محکمہ زراعت کا فیلڈ نظام کمزور، انٹرن شپ پر انحصار بڑھنے لگا

محکمہ زراعت کا فیلڈ نظام کمزور، انٹرن شپ پر انحصار بڑھنے لگاتجربہ کار فیلڈ سٹاف کی کمی کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو فصلوں پر اثرات پڑیں کے : کسان

سرگودھا (سٹاف رپورٹر ) حکومت پنجاب کی مبینہ ناقص منصوبہ بندی اور محکمہ زراعت کے فیلڈ نظام کو نظر انداز کیے جانے کے باعث صوبے کا اہم زرعی شعبہ مشکلات کا شکار ہونے لگا۔ کھیتوں میں زمینداروں اور کسانوں کی رہنمائی کرنے والے تجربہ کار مستقل افسران و اہلکاروں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ، جبکہ ان کی جگہ ایک سالہ مدت کے لیے ماہانہ 70 ہزار روپے تک معاوضے پر زرعی گریجویٹس کو انٹرن رکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔کسان تنظیموں اور زرعی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تجربہ کار فیلڈ اسٹاف کی کمی کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو فصلوں کی پیداوار، کسانوں کی آمدن اور ملکی غذائی تحفظ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں محکمہ زراعت کے زراعت افسران، فیلڈ افسران اور دیگر تربیت یافتہ اہلکار باقاعدگی سے دیہی علاقوں اور کھیتوں کا دورہ کرتے ، فصلوں کا معائنہ کرتے اور کسانوں کو بیماریوں، کیڑوں، کھاد، بیج، آبپاشی اور جدید زرعی طریقوں کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کرتے تھے ۔ اس فیلڈ نظام کے باعث کسانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے محکمہ زراعت کے ماہرین تک براہ راست رسائی حاصل رہتی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقل فیلڈ پوسٹوں میں کمی اور بعض آسامیوں کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو اب ایک سالہ انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے پُر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ زرعی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو محدود مدت کے لیے تعینات کیا جاتا ہے ، جس کے باعث تجربہ کار مستقل عملے کی جگہ نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے افراد کی تعیناتی کا سلسلہ بڑھ رہا ہے ۔زرعی ماہرین کے مطابق مسئلہ نوجوان زرعی گریجویٹس کو مواقع فراہم کرنے کا نہیں بلکہ مستقل اور تجربہ کار فیلڈ نظام کو کمزور کرکے عارضی افرادی قوت پر انحصار بڑھانے کا ہے ۔کسان تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ زراعت صرف فائلوں اور دفاتر میں بیٹھ کر نہیں چلائی جاسکتی بلکہ اس کی بنیاد کھیت اور فیلڈ میں موجود ماہر اور تجربہ کار عملہ ہے ۔ فصل میں بیماری، کیڑوں کے حملے ، کھاد کے استعمال یا نئی فصل کی منصوبہ بندی جیسے معاملات میں کسان کو فوری اور قابل اعتماد رہنمائی درکار ہوتی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...