ملک میں چھوٹے کاروباروں کے قرضوں کا حجم ایک ہزار 137 ارب روپے سے تجاوز کر گیا
اسلام آباد: (دنیا نیوز) ملک میں چھوٹے کاروباروں کے قرضوں کا حجم ایک ہزار 137 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت مالیاتی امور سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کا پانچواں اجلاس ہوا، جس میں چھوٹے و درمیانے کاروبار، زرعی شعبے، گھروں کی تعمیر و خریداری اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرضوں کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے قرضوں میں 23 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 137 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ قرض لینے والے چھوٹے کاروباروں کی تعداد 3 لاکھ 50 ہزار 862 تک پہنچ گئی ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ جون 2028 تک چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کا حجم 2 ہزار ارب روپے اور قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کی فراہمی میں مزید تیزی لانے اور انہیں قرض کے حصول کے قابل بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے مائیکرو فنانس اداروں کو بھی چھوٹے کاروباروں کی مالی معاونت میں مؤثر کردار دینے پر زور دیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی قرضوں میں 94 ارب 70 کروڑ روپے کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد زرعی قرضوں کا حجم ایک ہزار 350 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ زرعی قرض لینے والوں کی تعداد 34 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
زرعی قرض سکیم کے تحت 5 ہزار 563 بغیر ضمانت قرضے جاری کیے گئے اور چھوٹے کاشتکاروں کو 2 ارب 10 کروڑ روپے کے بغیر ضمانت قرضے فراہم کیے گئے۔
وزیر خزانہ نے مویشی بانی اور ماہی گیری کے شعبوں کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھانے اور مویشی بانی میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی ہدایت کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گھروں کی تعمیر و خریداری کے قرضوں میں 103 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ہاؤسنگ قرضوں کا حجم 426 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد 2 لاکھ 31 ہزار 550 ہوگئی۔
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 13 ہزار 214 افراد کو 76 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ پروگرام کے 350 ارب روپے کے منظور شدہ قرضے اجرا کے منتظر ہیں۔
وزیر خزانہ نے سستے گھروں کی فراہمی کے لیے تعمیراتی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے اور تعمیر کنندگان و ترقیاتی اداروں کے لیے مؤثر قرضہ نظام تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو الیکٹرک گاڑیوں کی اسکیم سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق پاکستان تیز رفتار گاڑی برقیانے کی اسکیم کے تحت 17 ہزار 262 درخواستیں منظور ہوئیں، جن کی مالیت 2 ارب 54 کروڑ روپے ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 4 ہزار 839 قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جن کی مالیت 97 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے، جبکہ 2 ہزار 725 گاڑیاں صارفین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
وزیر خزانہ نے منظور شدہ قرضوں کو جلد از جلد گاڑیوں کی فراہمی میں تبدیل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری معاونت سے چلنے والی قرضہ اسکیمیں تجارتی طور پر پائیدار ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری معاونت حقیقی مالیاتی ضرورت پوری کرنے تک محدود ہونی چاہیے۔
محمد اورنگزیب نے قرضوں کی فراہمی میں نقد آمدن کی بنیاد پر جائزے کو فروغ دینے، ذمہ دارانہ قرضہ کاری کے لیے معلومات کی دستیابی اور اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو مقررہ مدت میں اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments