’آپ کا کیمرا، آپ کا سرکس‘ شان شاہد کا ٹک ٹاکرز کی شوبز میں آمد پر سخت ردعمل
لاہور: (دنیا نیوز) پاکستانی اداکار، ہدایت کار اور مصنف شان شاہد نے سوشل میڈیا شخصیات کی مین اسٹریم شوبز میں بڑھتی ہوئی آمد پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ملنے والی فوری شہرت لازماً طویل اور پائیدار فنّی کیریئر میں تبدیل نہیں ہوتی۔
دنیا ڈیجیٹل کے پروگرام ’دی اینکر مین‘ میں علی سہیل کو دیے گئے حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں شان شاہد نے پاکستان کی بدلتی ہوئی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر گفتگو کی، جہاں ٹک ٹاکرز، یوٹیوبرز، انفلوئنسرز اور دیگر ڈیجیٹل کریئیٹرز سوشل میڈیا سے ٹیلی ویژن اور فلموں کی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔
شان شاہد نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ فلم یا ٹی وی کے منصوبوں میں کسے کاسٹ کیا جائے، کیونکہ ہر شخص کو اپنے پیشہ ورانہ فیصلے کرنے کی آزادی حاصل ہے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اچانک ملنے والی آن لائن شہرت اداکاری اور انٹرٹینمنٹ میں پائیدار کیریئر کی بنیاد بن سکتی ہے؟
آپ کا کیمرا، آپ کا سرکس
سوشل میڈیا اور روایتی شوبز کے درمیان بڑھتے ہوئے امتزاج پر بات کرتے ہوئے شان شاہد نے دوٹوک انداز اپنایا اور کہا، ’آپ کا کیمرا، آپ کا سرکس‘۔
انہوں نے کہا کہ لوگ جو چاہیں کرسکتے ہیں کیونکہ انہیں دوسروں کے فیصلوں پر اختیار حاصل نہیں، تاہم ان کے مطابق صرف مقبولیت کو فنّی مہارت سمجھنا درست نہیں۔
شان شاہد نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بننے والی مقبولیت فوری طور پر کسی کو توجہ اور مواقع فراہم کرسکتی ہے، لیکن طویل عرصے تک متعلقہ رہنے کے لیے فن کی سمجھ، تربیت اور مہارت ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص فن سیکھے بغیر کامیاب ہوجائے تو ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب وہ خود سے سوال کرے کہ اس کا کیریئر صرف ایک یا چند سال تک ہی کیوں چل سکا۔
شہرت نہیں، فن کی مہارت اہم ہے
شان شاہد نے وائرل ہونے والی کسی ویڈیو یا اچانک بڑھنے والے فالوورز اور حقیقی فنّی کیریئر کے درمیان فرق پر زور دیا۔
انہوں نے پاکستان کی فنّی تاریخ کے معروف گلوکاروں مہدی حسن اور نور جہاں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی لوگ ان کا موسیقی کا فن سنتے ہیں۔
شان شاہد کے مطابق ان فنکاروں کی مقبولیت کے پیچھے موسیقی کی باقاعدہ سمجھ اور تربیت شامل تھی۔ انہوں نے سُر اور راگ سمیت موسیقی کے بنیادی اصولوں کے علم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فن سیکھنا محض سوشل میڈیا پر مقبول ہونے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائرل ویڈیو یا فالوورز میں اچانک اضافہ شوبز میں داخلے کا راستہ ضرور کھول سکتا ہے، لیکن طویل عرصے تک کامیابی کے لیے صلاحیت اور فن پر عبور ضروری ہے۔
شان شاہد نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ماضی میں سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی کتنی شخصیات کے نام آج بھی لوگوں کو یاد ہیں، اور اسی مثال سے انہوں نے عارضی شہرت اور مستقل کیریئر کے فرق کو واضح کیا۔
ڈیجیٹل اسٹارز کی سینما میں آمد
پاکستانی شوبز میں سوشل میڈیا کی شہرت اور روایتی اداکاری کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہورہا ہے اور ٹک ٹاک و یوٹیوب کے ذریعے مقبول ہونے والے ڈیجیٹل کریئیٹرز کو ٹی وی اور فلموں میں بھی مواقع مل رہے ہیں۔
اسی حوالے سے یوٹیوبر راجب بٹ بھی اداکارہ عمار خان کے ساتھ ایک آنے والی پاکستانی فلم میں بڑے پردے پر نظر آئیں گے۔ فلم کی ہدایت کاری سید فیصل بخاری کررہے ہیں جبکہ اسکرین پلے سرمد ابراہیم نے تحریر کیا ہے۔
شان شاہد نے واضح کیا کہ وہ یہ طے نہیں کرسکتے کہ انڈسٹری کس طرح کام کرے یا کن لوگوں کو مواقع ملیں، تاہم ان کے نزدیک فنکار کے لیے علم حاصل کرنا اور اپنی فنّی صلاحیت کو بہتر بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
شان شاہد پاکستان کے نمایاں فلمی اداکاروں، مصنفین اور ہدایت کاروں میں شمار ہوتے ہیں اور 1990 میں فلمی کیریئر شروع کرنے کے بعد 500 سے زائد فلموں میں اداکاری کرچکے ہیں۔
بھارت میں کام کرنے کے حوالے سے بھی اظہار خیال
اسی انٹرویو میں شان شاہد نے پاکستانی اداکاروں کے بھارت میں کام کرنے سے متعلق بھی اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان اداکاروں کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتے جو بھارت جاکر کام کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے کیریئر اور فیصلے ان کے اپنے ہیں۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی فلمی صنعت کو پاکستانی فنکاروں کی ضرورت کیوں پیش آئے گی جبکہ بھارت میں ہر ماہ بڑی تعداد میں نئے اداکار سامنے آتے ہیں۔
شان شاہد نے کہا کہ بھارت میں سیکڑوں اداکار ہر ماہ انڈسٹری میں آتے ہیں، اس لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ بھارتی پروڈکشن کسی خاص موقع پر پاکستانی فنکار کو ہی کیوں منتخب کرے گی۔
اپنے ذاتی مؤقف کے حوالے سے شان شاہد نے بتایا کہ ان کے والد نے کشمیر کے موضوع پر فلم بنائی تھی اور اس خاندانی پس منظر نے بعض پیشہ ورانہ معاملات کے بارے میں ان کی سوچ کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق وہ اپنے والد سے وابستہ تصویر اور ورثے کو آگے لے جانے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی اور سیاسی اختلافات، بالخصوص کشمیر کے مسئلے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے بارے میں مضبوط جذبات رکھتے ہیں۔
بھارتی فلم ’غجنی‘ میں کردار کی پیشکش سے متعلق سوال پر شان شاہد نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پہلے بھی بات کرچکے ہیں اور ان کے خیال میں اسے بار بار زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments