معروف شاعر، ادیب، افسانہ نگار، کالم نگار احمد ندیم قاسمی کو دنیا چھوڑے 20 برس بیت گئے

لاہور: (دنیا نیوز) معروف شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی آج بیسویں برسی منائی جارہی ہے۔

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916ء کو پنجاب کے ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق خانقاہ سے تھا، اسی لئے مزاج میں قلندری اورصوفیت تھی، اصل نام احمد شاہ جبکہ ندیم تخلص ٹھہرا تھا۔

احمد ندیم قاسمی نے پہلا شعر1927ء میں کہا جبکہ پہلی نظم 1931ء میں روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور میں شائع ہوئی، جو انہوں نے مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر کہی۔

احمد ندیم قاسمی کے 17 افسانوی اور 6 شعری مجموعے شائع ہوئے، تنقید و تحقیق کی 3 کتابیں چھپیں اور ترتیب و ترجمہ کے تحت 6 کتابیں منظر عام پر آئیں۔

احمد ندیم قاسمی نے بچوں کے لئے بھی بہت کچھ لکھا جو تین کتابوں کی شکل میں شائع ہوا، ان کے افسانوں کے ترجمے ایک درجن سے زائد زبانوں میں چھپ چکے ہیں۔

احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’’پہاڑوں کی برف‘‘، ’’نصیب‘‘،’’لارنس آف تھیلیسیا‘‘،’’ بھاڑا‘‘،،’’ بدنام‘‘، ’’کفن دفن‘‘،’’ رئیس خانہ‘‘،’’ موچی‘‘ اور ’’ ماں‘‘ بے حد مقبول ہوئے۔

احمد ندیم قاسمی کو حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں 1968ء میں تمغہ حسن کارکردگی اور1980ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

ادب کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 10 جولائی 2006ء کو لاہور میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں