پنجاب حکومت عدالتی اختیارات کی واپسی کیلئے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم پر رضامند

لاہور: (محمد اشفاق) پنجاب حکومت عدالتی اختیارات کی واپسی کے لیے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم لانے کے لیے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر تیار ہو گئی۔

انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ ترامیم میں ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل ختم کرکے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل مقرر کرنے کی خدمات لی جائیں گی، قبضے سے متعلق ضلعی کمیٹیوں کو درخواستیں بھیجنے کا اختیار سول جج کو دیا جائے گا، کمیٹی براہ راست زیر التوا کیسز پر فیصلہ نہیں کر سکے گی۔

ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف آنے والی درجنوں درخواستوں کے بعد اس پر حکم امتناع جاری کر دیا تھا، پنجاب حکومت نے معاملے کو حل کرنے کے لئے اعلی سطح پر قانونی کمیٹی تشکیل دے دی تھی جس نے عدلیہ اور وکلا کے اعتراضات کے مطابق قانون میں ترامیم تیار کر لی ہیں۔

پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے نے بتایا ہے کہ مجوزہ ترامیم کے مطابق پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت درخواست سنے جانے کا فیصلہ سول جج کرے گا، اس ترمیم کے بعد ایسے کیسز جو پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان میں درخواست گزاروں نے ناجائز قبضہ کیے جانے کو درخواست کا حصہ بنایا ہے ایسی درخواستوں کو ضلعی کمیٹیوں کے پاس بھیجنے کا اختیار سول جج کے پاس ہوگا، یعنی درخواست براہ راست انتظامی کمیٹی کو نہیں دی جا سکے گی۔

اس سے قبل کمیٹی کے کنوینیر کو درخواست دائر کرکے سول عدالت کو کیس کمیٹی کو واپس بھیجنے کا کہا گیا تھا جب کہ نئی ترمیم کے مطابق دونوں میں سے ایک فریق خود سول عدالت میں کیس کمیٹی کے پاس بھیجنے کی درخواست کرے گا جس کے بعد سول جج کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کیس کو کمیٹی کے پاس بھیجے گا یا نہیں۔

اس کے علاوہ حکومت ٹربیونلز کے لئے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کی خدمات لے گی، اس سے پہلے ٹربیونلز کی سربراہی ریٹارئرڈ ججز کو دی گئی تھی، ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل کو ختم کردیا جائے گا، جب کہ ٹربیونل کے عبوری حکم کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا جاسکے گا، اس سے پہلے قانون میں ہائیکورٹ کو یہ اختیار نہیں دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطح کی قانونی کمیٹی کی سربراہی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کر رہے ہیں، کمیٹی مین سیکرٹری قانون پنجاب سمیت دیگر ماہرین اقدامات کررہے ہیں، نئی مجوزہ ترامیم میں جوڈیشل ریویو شامل کر کے پنجاب حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی ترامیم میں عدلیہ اور وکلا تنظیموں کو بھی آن بورڈ لیا جا رہا ہے، ان ترامیم کی تمام فریقین کی منظوری کے بعد عدلیہ اور حکومت کے مابین کشمکش کا تاثر ختم ہو جائے گا، ترمیمی مسودے کو جلد حتمی شکل دیکر پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں ترمیم کی جائیں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں