وینزویلا میں کارروائی غیر قانونی، امریکا عالمی نظام کو کمزور کر رہا ہے: روسی وزیر خارجہ

ماسکو: (شاہد گھمن سے) روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکہ کی وینزویلا میں کارروائی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور واشنگٹن اپنے ہی بنائے ہوئے عالمی اصولوں کو پامال کر رہا ہے، امریکہ کی تجارتی پابندیوں اور غیر منصفانہ ڈیوٹیوں کا سلسلہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن کی عالمی پوزیشن کمزور پڑ رہی ہے۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا 500 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا خیال مضحکہ خیز ہے، تاہم ماسکو اپنے شراکت داروں کے ساتھ کیے گئے تجارتی اور اقتصادی معاہدوں پر قائم رہے گا، امریکہ کا خود اپنی عالمی گلوبلائزیشن پالیسی سے پیچھے ہٹ جانا، اسے ناقابلِ اعتماد بنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقاتیں سنجیدہ اور بنیادی مسائل کے حل سے متعلق تھیں، اگر امریکی فریق مزید رابطوں میں دلچسپی دکھائے گا تو روس بھی مثبت رویہ اختیار کرے گا۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق ماسکو نے نوٹ کیا ہے کہ واشنگٹن یوکرین کو نیٹو میں گھسیٹنے سے متعلق کوششوں کو روکنا چاہتا ہے، تاہم یورپی حلقوں کی تجویز کردہ عارضی جنگ بندی یا وقفہ کا مقصد صرف کیف حکومت کو وقت دینا ہے، نا کہ مسئلے کے اصل حل کیلئے مذاکرات کا آغاز کرنا۔

سرگئی لاوروف نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی سفارتی اعلان بازی کو "مائیکروفون ڈپلومیسی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بیانات کبھی مثبت نتائج نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ وینزویلا کی حکومت قومی خود مختاری اور علاقائی وقار کے ساتھ امریکی یکطرفہ اقدامات کا مقابلہ کر رہی ہے اور ملک کی اکثریت عالمی سطح پر اپنی آزادی برقرار رکھنے کیلئے پرعزم ہے، روس پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت کاراکاس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ایران سے متعلق امریکی دھمکیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی تیسری قوت روس، ایران تعلقات کی نوعیت نہیں بدل سکتی کیونکہ یہ تعلقات دونوں ممالک اور عوام کے مفاد سے جنم لیتے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ روس اور نامیبیا نے خارجہ امور پر باقاعدہ مشاورت کے سلسلے کی بحالی پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک یورینیم، توانائی، زراعت اور فشری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر متفق ہیں، تیسرے روس، افریقہ سربراہ اجلاس کی تیاری اہم مرحلے میں ہے اور یہ 2026ء میں متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افریقی ممالک کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نمائندگی میں اضافہ ضروری ہے اور روس اس مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں