صدر آصف علی زرداری کا بحرین میں سرمایہ کاری شراکت داریوں کے فروغ پر زور
منامہ: (دنیا نیوز) صدر آصف علی زرداری نے منامہ میں بحرین اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ سے خطاب کیا اور سرمایہ کاری کے تعاون کو اجاگر کیا، صدر مملکت نے سرمایہ کاری شراکت داریوں اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
آصف علی زرداری نے پرتپاک مہمان نوازی پر بحرین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا، صدر مملکت نے شیخ عیسیٰ ایوارڈ عطا کرنے پر شاہِ بحرین سے اظہارِ تشکر کیا اور ایوارڈ کو دونوں ممالک کے درمیان گہرے دوطرفہ تعلقات اور باہمی احترام کی علامت قرار دیا۔
.jpg)
صدر مملکت نے اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ کی واضح سٹریٹجک وژن اور ادارہ جاتی مضبوطی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک کھلی اور سرمایہ کار دوست معیشت کے طور پر بحرین کی کامیاب پوزیشننگ تیزی سے بدلتے عالمی ماحول میں قیمتی اسباق فراہم کرتی ہے۔
بحرین کے وزیرِ خزانہ نے اقتصادی ترقی پر بریفنگ شروع کی تو صدر نے خوشگوار انداز میں منامہ کے افق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی اُن کے سامنے نمایاں ہے اور کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ بحرین کی اقتصادی حکمتِ عملی کی تشکیل، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور اہم شعبوں میں تنوع کی حمایت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے مشاہدہ کیا کہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ بورڈ کی قریبی ہم آہنگی نے بحرین کو مسابقت بڑھانے، جدت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک قابلِ پیش گوئی اور سازگار ماحول قائم کرنے میں مدد دی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پالیسی ہم آہنگی اور سرمایہ کار سہولت کاری پر مبنی ای ڈی بی کا ماڈل پائیدار اور جامع ترقی کے خواہاں ممالک کے لیے ایک مفید حوالہ فراہم کرتا ہے۔
.jpg)
انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ترقیاتی سفر کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں معیشتوں کے درمیان مضبوط تکمیلیت موجود ہے۔
پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک استحکام، ڈیجیٹل جدید کاری اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی سمت گامزن ہے۔
انہوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کا ذکر کیا جو سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے، جس کے ترجیحی شعبوں میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات، لاجسٹکس اور سیاحت شامل ہیں۔
صدر نے زراعت اور غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات، قابلِ تجدید توانائی اور لاجسٹکس کو پاکستان اور بحرین کے درمیان تعاون کے امید افزا شعبے قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان کی سٹریٹجک جغرافیائی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑتی ہے اور یہ بحرین کی مالی مہارت اور ضابطہ جاتی فریم ورک کی تکمیل کرتی ہے۔
.jpg)
اقتصادی مواقع کے ساتھ ساتھ صدر نے علاقائی سلامتی کے چیلنجز اور ان کے ترقی پر اثرات کا بھی حوالہ دیا اور انتہاپسندی کے خلاف مؤثر اقدامات، داخلی سلامتی کے استحکام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ قومی مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔
صدر نے سرمایہ کاری کے تحفظ اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے میں بحرین کی قیادت اور اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔
.jpg)