آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کی بھرمار، صرف پنجاب میں انسدادی کارروائیاں

اسلام آباد: (دنیا نیوز) ملک بھر میں آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کی سنگین صورتحال سامنے آ گئی، انسدادی کارروائیوں میں پنجاب کے سوا تمام صوبے پیچھے رہ گئے۔

پاکستان بھر میں اس وقت آبی گزرگاہوں پر مجموعی طور پر 560 تجاوزات تاحال برقرار ہیں جبکہ صوبوں میں انسداد تجاوزات آپریشنز کی کامیابی کا تناسب یکساں نہیں۔

دستاویزات کے مطابق پنجاب میں آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشنز نمایاں طور پر کامیاب رہے ہیں، صوبے میں 2 ہزار 708 تجاوزات رپورٹ ہوئیں، جن میں سے صوبائی انتظامیہ نے 2 ہزار 557 تجاوزات ختم کر دیں جبکہ اب بھی 151 تجاوزات موجود ہیں، پنجاب میں انسداد تجاوزات آپریشنز کی کامیابی کا تناسب 95 فیصد سے زائد بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب سندھ میں تجاوزات کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے برابر رہی، سندھ میں 164 میں سے صرف 4 آبی گزرگاہیں بحال کی جا سکیں جبکہ 158 تجاوزات تاحال موجود ہیں۔

خیبرپختونخوا میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں 377 آبی گزرگاہوں میں سے 251 پر تجاوزات تاحال نہیں ہٹائی جا سکیں۔

دستاویزات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بلوچستان میں آبی گزرگاہوں پر تجاوزات سے متعلق کوئی مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں جس پر شفافیت اور مؤثر حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبی گزرگاہوں پر تجاوزات نہ صرف سیلابی صورتحال کو سنگین بناتی ہیں بلکہ شہری انفراسٹرکچر اور زرعی نظام کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہیں، جس کے لیے تمام صوبوں میں یکساں اور مؤثر کارروائی ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔  

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں