بھارت نے تیل کی خریداری روکنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا: روس
ماسکو: (ویب ڈیسک) روسی ایوان صدر کریملن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے باعث روس سے تیل نہ خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ ٹیرف کم کرنے کا معاہدہ کیا ہے اور نریندر مودی نے روسی تیل کی خریداری روکنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد مغربی پابندیوں کے باعث روسی تیل کو رعایتی نرخوں پر فروخت کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں بھارت کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی روس کی معیشت اور فوج کے لیے اہم آمدنی کے اس ذریعے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اربوں ڈالر کی آمدن روکی جا سکے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ابھی تک ہمیں اس معاملے پر نئی دہلی کی جانب سے کوئی بیان موصول نہیں ہوا‘۔
واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 2025 کے اواخر میں بھارت کے دورے کے دوران بھارت کو تیل کی ’بلاتعطل فراہمی‘ کا وعدہ کیا تھا۔