شوگر ملز ریفرنس: نیب کو ایک ماہ میں احتساب عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی جانب سے چوہدری شوگر ملز ریفرنس میں بطور گارنٹی جمع کروائے گئے سات کروڑ روپے کی واپسی کے لیے نیب کو ایک ماہ کے اندر متعلقہ احتساب عدالت میں کیس بند کرنے کے لیے ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔
سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کی، جس میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی شامل تھے، دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نئی نیب ترامیم کے بعد چیئرمین نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس، یعنی مریم نواز کے خلاف ریفرنس بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ کیا مستقبل میں کوئی نیا نیب بورڈ آ کر اس کیس کو دوبارہ کھول سکتا ہے؟
نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ نیا بورڈ چوہدری شوگر ملز کیس کو ری اوپن کر سکتا ہے۔
اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہے تو نیب بورڈ کی جانب سے کیس بند کرنے کی منظوری کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہتی، عدالت نے کہا کہ اگر اس مرحلے پر ضمانت کی رقم ریلیز کی گئی تو تمام ذمہ داری عدالت پر آ جائے گی جبکہ نیب کو چاہیے تھا کہ ریفرنس بند کرنے کے لیے متعلقہ احتساب عدالت سے رجوع کرتا۔
عدالت نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی درخواست نمٹاتے ہوئے نیب کو حکم دیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر متعلقہ احتساب عدالت میں انکوائری بند کرنے کے لیے باقاعدہ ریفرنس دائر کرے۔
واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز ریفرنس میں بطور گارنٹی جمع کروائی گئی سات کروڑ روپے کی رقم کی واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔